کالم و مضامین

پاکستانی انتخابات اور یورپین مبصرین — تحریر: نوید چوہان

پاکستان میں انتخابات کے اختتام کے بعد دھاندلی دھاندلی کی صدائیں اکثر سننے کو ملتی ہیں۔ اور اس بار بھی جب ووٹ کی طاقت نے بڑے بڑے سیاسی برج الٹے تو دھاندلی دھاندلی کی صدائیں پھر آنا شروع ہو گئیں۔ لیکن دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات پر یورپین یونین کی آبزوری ٹیم کے اطمینان اور دوہزار تیرہ سے بہتر کا سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد کئی تخریبی عناصر کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں اور وہ اپنے تئیں اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کہیں سے کچھ ایسا مواد ڈھونڈ لیں تاکہ ان کی دھاندلی کی دکان چل سکے۔

ترقی پذیر ممالک میں انتخابات ایک بہت ہی مشکل اور کٹھن مرحلہ ہوتا ہے اور جب قریبا دس کروڑ لوگوں کی ووٹوں کا معاملہ ہو تو تھوڑی بہت دیر سویر ہو جاتی ہے۔ جس پر الیکشن کمیشن کو معذرت کرنی چاہئے تھی انتظامی طور پر الیکشن کمیشن کی بدانتظامی ان کے رزلٹ دیر سے دینے پر سامنے آئی لیکن اس کی وجہ انٹرنیٹ کا ڈاؤن ہونا تھالیکن داستانیں بنانے والوں نے نجانے کیا کیا داستان بنا لی کہ دھاندلی کی جا رہی ہے اور اس میں فوج کے ملوث ہونے کے الزامات اور ان الزامات کو تقویت دینے کے لیے پرانے ویڈیوز بہت ہی منظم طریقے سے سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے لیکن اس جھوٹے پروپیگنڈے کو عوام نے مسترد کر دیا ایک دو جگہوں کے بجائے کہیں سے بھی کسی بڑے واقعے کی رپورٹ نہ آسکیں۔

بٹ صاحب میرے بہت اچھے دوست ہیں اور ان سے اکثر مختلف موضوعات پر بحث ہوتی ہے۔ بٹ صاحب بہت سے واٹس ایپ گروپس کا بھی حصہ ہیں جہاں بہت سے ویڈیوز شئیر کیے جاتے ہیں اور بھولے بادشاہ ان ویڈیوز اور ان کے ساتھ لکھی عبارت پر ایمان لے آتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے حوالے سے بٹ صاحب کا کہنا تھا کہ فوجی پولنگ بوتھ کے پاس کچھ کر رہا ہے۔

میں نے کہا بٹ صاحب اس ویڈیو میں ایک شخص ووٹ ڈالنے گیا تھا اور میری اطلاعات کے مطابق دھاندلی کو روکنے کی منصوبہ بندی کے تحت فوجی جوانوں کو پولنگ بوتھ کے قریب اس لئے تعینات کیا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص ووٹر پر اثرانداز نہ ہوسکے، بوتھ کے پاس کھڑے ہونے سے کیسے دھاندلی ہو گئی، دوسرے ویڈیو میں تحریک انصاف کی گاڑی میں باکسز لیجاتے دکھایا گیا ویڈیو بنانے والا شخص مسلسل کہہ رہا تھا کہ فوجی جوان گاڑی میں موجود ہیں لیکن ویڈیو میں کوئی جوان دکھائی نہ دیا، شاید وہ سلیمانی چادر اوڑھ رکھے تھے سوشل میڈیا کے اس دور میں ووٹنگ کے دوران دھاندلی کے الزامات تو بہت لگے ہیں لیکن ثبوت ایک نہیں کیا یہ ممکن ہے؟؟ آج کل تو کوئی خبر چھپائے نہیں چھپتی یہ پورے ملک سے ایسے دس ثبوت نہ لاسکے۔

فارم پینتالیس کے حوالے سے بھی بہت شور وغوغا سننے کو ملا لیکن انتخابی رزلٹ اکثریت کو فارم پینتالیس پر ہی ملے۔ بٹ صاحب میرے جواب سن کر خاموش ہوگئے اور کہنے لگے کہ یورپین مبصرین کی ٹیم تو واقعی جھوٹ نہیں بولے گی نا۔ بلاشبہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں انتخابی مہم کے دوران تین امیدوار شہید ہوئے انتخابی عمل کو پرامن رکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا اور بلاشبہ سیکورٹی ادارے بشمول افواج پاکستان اس حوالے سے خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ ان کی اس کارکردگی کی تعریف یورپی یونین کے انتخابی مشن کے سربراہ مائیکل گہلر نے بھی کی ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے چند واقعات کے علاوہ، عام انتخابات کی مجموعی صورت حال تسلی بخش تھی۔

ہمارے مبصرین نے 87 حلقوں میں 300 پولنگ سٹیشنوں کا دورہ کیا اور میں نے ذاتی طور پر چار پولنگ سٹیشنوں کا دورہ کیا ہے.اگرچہ ہم جمعہ کو اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کریں گے اور مجموعی صورت حال کا اندازہ کرنے کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی،لیکن ان انتخابات میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ انتخابات میں انتخابی عمل کی اصلاح کے لیے پچاس تجاویز دیں گئی تھیں جس میں سے چھتیس پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ جب مبصرین کا مشن انتخابی عمل کی شفافیت اور پر امن ہونے کا اقرار کر رہا تو ایسے عناصر جو پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں وہ تو واویلامچائیں گے ہی نا۔

میری فیلڈ ورک کے صحافی دوستوں سے انتخابات پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے جن کا ماننا ہے کہ بدانتظامی کا عنصر غالب ہے لیکن اس کی شفافیت پر کسی کو کوئی شک نہیں ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار عوام کو اپنے من پسند لیڈر کو حکمران کی صورت میں ووٹ کی طاقت کے ذریعے لانے کا موقعہ ملا ہے اور اب کسی بھی محب وطن پاکستانی کی طرح یہی دعا ہے کہ پاکستان ترقی کی منازل طے کرے۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button