کشمیریوں کی قربانیوں کا ثمر آزادی کے سوا کچھ نہیں ہے، سراج الحق

0

دینہ: جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے دینہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کچھ دیر اور انتظار کریں گے کہ حکومت کیا کرتی ہے اور اگر ہم نے یہ محسوس کیا کہ اسلام آباد کے قبرستانوں میں یہ زندہ لاشیں حرکت نہیں کر رہیں تو ہم خود نکلیں گے، یہ سیاست کا مسئلہ نہیں ہے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے یہ پاکستان کے لئے ابھی یا کبھی نہیں کا مسئلہ ہے کشمیریوں نے ہر وہ قربانی دی ہے جس کا اللہ ان سے تقاضا کر تا ہے لیکن پاکستان کی کسی حکومت نے ان کی قربانیوں کی قدر نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی نے اسی بات پر ووٹ اکھٹے کیئے کہ میں نے ابھی نندن کو 48گھنٹے میں پاکستان سے رہا کروایا،کشمیریوں کی قربانیوں کا ثمر آزادی کے سواکچھ نہیں ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب 22کروڑ مسلمان ایک پیج پر ہوں اور ہمارا ایمان ٹرمپ اور اس کے وعدوں کی بجھائے اللہ کی ذات پر ہو،ممبئی میں وارث پٹھان کو گرفتار کیا گیا جو ایک مسجد کے امام ہیں ان کی گرفتاری اس بناء پر کی گئی انھوں نے مسجد میں کشمیریوں کے لئے اللہ سے دعا مانگی ہے ان کی گرفتاری سے یہ ثابت ہوا کہ بھارت ایک شکست خوردہ ذہنیت کا مالک اور بزدل ملک ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بھارت کے وزیر داخلہ کہتا ہے کہ ایٹم بم کا استعمال مستقبل کے واقعات پر ہے میں آج انڈیا کے وزیر داخلہ اور پورے بھارت سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے ایٹم بم سے ہم ڈرنے والے نہیں ہیں جب وقت آئے گا تو پوری قوم ایک ساتھ فوج کے ہمراہ لڑے گی اور 22کروڑ عوام آپ پر ایک ایک ایٹم بم بن کر گرے گی کیونکہ مسلمان جام شہادت اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتا ہے آپ اپنی تاریخ دیکھیں آپ کو اب بھی ہندوستان کی زمین پر محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی کے قدموں کے نشانات ملیں گے یہ ہمارے بزرگ تھے آپ ہمیں آر ایس ایس کے گنڈوں سے ڈراتے ہیں ؟۔

سراج الحق نے کہا کہ آج کشمیر کی گلیاں، سڑکیں ،سکول ،مساجد مسلمانوں کے خون سے تر ہیں اسی خون میں پورا ہندوستان بہہ جائے گا انشا اللہ اور تمارے ہندوستان میں نئے نئے ملک بن جائیں گے تماری اس شدت پسندی نے خالصتان کے لئے راستہ بنا دیا ہے ناگا لینڈ ایک الگ ریاست بن گئی ہے ،اس جنگ کا آغاز ہم نے نہیں کیا مودی نے کیا ہے لیکن اس کا اختتام ہمارے ہاتھ میں ہے ،آج کوئٹہ کے قریب ایک مسجد میں دھماکہ کیا گیا اس کے پیچھے بھی بھارت کا ہاتھ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میں کشمیری مائوں بہنوں کو سلا م پیش کرتا ہوں 12دن سے وہاں کرفیوہے لیکن وہ آزادی کے لئے ڈٹے ہوئے ہیں،روز 4کشمیری شہید ہو رہے ہیں اب مزید خون نہیں بہنے دیں گے، ہمارے حکمرانوں نے جب راجیو گاندھی آ رہا تھاتو اسلام آباد میں جہاں جہاں بورڈوں پر کشمیر موجود تھا اور کشمیر کا نقشہ موجود تھا انھیں ہٹا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ واجپائی کا یہاںمودی کا یہاں استقبال کیا گیا وہ مودی جو گجرات میں 2ہزار سے زیادہ مسلمانوں کا قاتل ہے جس مودی پر امریکا اور یورپ میں داخل ہونے پر پابندی تھی جب وہ معصوموں کا قاتل پاکستان آتا ہے تو ہمارا وزیر اعظم ریڈ کارپٹ بچھا کر اس کا استقبال کرتا ہے وہ مودی جب الیکشن کی کمپیئن کر رہا تھا تو ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ مودی کامیاب ہو تاکہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو یہ ہمارے حکمران ہیں جنہوں نے ہر موقع بغیرتی سے کا م لیا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 4پاکستانیوں کو قتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو وی آئی پی پروٹوکول کے بعد امریکا کہ حوالے کر دیا گیا ،جب ہمارے جوانوں نے بھارت کے جہاز گرا کر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو زندہ گرفتار کیا تو اس کو 48گھنٹے کے اندر اندر انڈیا کہ حوالے کر دیا گیا ،انھی حکمرانوں نے ڈاکٹر عافیہ کو کراچی سے گرفتار کر کے امریکہ کہ حوالے کیا یہی وہ حکمران ہیں جنہوں نے افغافی سفیر کو اسلام آباد سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا۔

سراج الحق نے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہماری قوم میں ہمت نہیں ہے یا ہماری قوم میں جرات و صلاحیت نہیں ہے ہماری قوم کو جب بھی موقع ملا یہ اسلام کی خاطر ،ملک کی خاطر ،غیرت کی خاطر قربانی دی ہے لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اس شیر دل قوم کی قیادت بزدل اور کمزور لوگوں کے ہاتھ میں ہے یہ یہی سمجھتے ہیں کہ جو بھی کرے گا امریکہ کرے گا امریکہ نے 1965میں ہمارا ساتھ نہیں دیا 1971میں ہمارا ساتھ نہیں دیا امریکہ نے ایٹمی دھماکہ کرتے وقت ہمارا ساتھ نہیں دیا امریکہ کے کہنے پر ہمارا ملک میدان جھنگ بن گیا اور 71ہزار لوگ شہید ہو گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سے دوستی کے نتیجہ میں پاکستان کمزور ہوا آج بھی وہی کچھ ہو رہاہے ہمیں اپنی ملک کی بقاء کی جنگ خود لڑنی ہے اور اسلامی پاکستان کے خواب کو خود تعبیر کرنا ہے ہمیں خود آگے بڑھ کر کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا ہے ،جماعت اسلامی میدان میں موجود ہے ہمیں کشمیر کی مائوں بہنوں کو اپنی مائیں بہنے سمجھتے ہوئے ان کے لئے کھڑا ہونا چاہیے ہمارے جسموں میں ان کی مدد کے لئے جذبہ و حرارت ہونی چاہیے اگر قوم شیر دل ہے اگر عوام شاھین صفت ہے تو آئیے کشمیر کو مل کر پاکستان بنانے کا وقت آ گیا ہے۔

تقریب میں شمالی پنجاب کے صدر ڈاکٹر طارق سلیم اور ضلع جہلم کے صدر ڈاکٹر قاسم محمود نے بھی خطاب کیا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.