کالم و مضامیناہم خبریں

خبردار! ہارٹ اٹیک یا دل کا دورہ، ایک مہینہ پہلے الارم بجنا شروع ہو جاتا ہے

پرہیز علاج سے بہتر ہے آپ نے سنا ہو گا۔ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبر دینا شروع کر دیتا ہے۔بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

ہم ایسی علامات کے بارے میں جانیں، جو دل میں خرابیوں کی جانب کئی دن بہت پہلے ہی دل کی خرابی کا اشارے شروع کر دیتے ہیں۔

تھکاوٹ

یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔

پیٹ میں درد

50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں یہ علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا، پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں، ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے اور پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے، مگر کچھ وقت بعد پھر لوٹ آتا ہے۔

ایسا درد جو ہاتھ میں پھیل جائے

ہارٹ اٹیک کی ایک اور علامت ایسے درد کی ہوتی ہے جس کا آغاز جسم کے بائیں حصے سے ہوتا ہے، یہ درد سینے سے شروع ہوکر نیچے کی جانب جاتا ہے، مگر اکثر مریضوں کو ہاتھ میں درد کا احساس ہوتا ہے۔

سر چکرانا

ویسے تو سر چکرانے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں تاہم اگر آپ کو اچانک لڑکھڑاہٹ کا احساس ہو جس کے ساتھ سینے میں تکلیف یا سانس لینے میں مشکل ہو تو فوری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ ماہرین کے مطابق ایسا ہونے کا مطلب بلڈ پریشر تیزی سے گرنا ہوتا ہے کیونکہ دل معمول کے مطابق پمپ کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔

جبڑے یا گلے میں تکلیف

ویسے جبڑے یا گلے میں تکلیف کی وجہ کچھ اور بھی ہوسکتی ہے، تاہم اگر سینے کے درمیان درد یا دباؤ کا احساس ہو جو گلے یا جبڑے کی جانب پھیل جائے تو یہ ہارٹ اٹیک کی علامت ہوسکتی ہے۔

کھانسی جو کسی صورت نا رک رہی ہو

بیشتر واقعات میں یہ دل کے مسئلے کی نشانی نہیں ہوتی، تاہم اگر آپ پہلے ہی امراض قلب کا شکار ہیں تو پھر ضرور خطرے کی گھنٹی ہے، اگر آپ کی کھانسی بہت زیادہ دیر تک برقرار رہے جس سے سفید یا گلابی بلغم خارج ہو تو یہ ہارٹ فیلیئر کی نشانی ہوتی ہے۔

ہاتھ، پیر اور ٹخنوں کی سوجن

یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ دل موثر طریقے سے خون کو پمپ نہیں کرپارہا، جب دل تیزی سے پمپ نہیں کرپاتا تو خون واپس شریانوں میں جاکر ان کو پھلا دیتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

نیند کی کمی

یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔

سانس گھٹنا

چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

بال گرنا

بالوں کا تیزی سے گرنا بھی امراض قلب کی ایک واضح علامت ہے، عام طور پر یہ پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں زیادہ نظر آتی ہے مگر کچھ خواتین میں بھی یہ سامنے آتی ہے۔

دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی

دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔ اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

بہت زیادہ پسینہ آنا

غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو کہ دن یا رات کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ علامت عام طورپر خواتین میں زیادہ سامنے آتی ہے، تاہم وہ اسے نظر انداز کردیتی ہیں۔ تاہم اگر اس کے ساتھ فلو جیسی علامات ہوں، جلد پر چپچپا پن یا خوشگوار موسم کے باوجود پسینہ آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔

سینے میں درد

مردوں اور خواتین دونوں میں سینے میں درد مختلف شدت اور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ مردوں میں یہ علامت انتہائی اہم ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خواتین کے 30 فیصد واقعات میں یہ سامنے آتی ہے۔ سینے میں درد ایک یا دونوں ہاتھوں میں (اکثر بائیں ہاتھ میں)، نچلے جبڑے میں، گرد، کندھوں یا معدے میں شدید نوعیت کی بے اطمینانی کی شکل میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close