کالم و مضامین

اندھیر نگری

تحریر: سندس سیدہ

دنیا بھر میں کبھی کبھار ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ توانائی کے نظام کو تکنیکی مشکلات پیش آجاتی ہیں جسکی بدولت عوام کو غیر اعلانیہ مدت کے لیے بجلی کے معطل ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن جہلم کے شہریوں صارفین کو آئے روزغیر علانیہ بجلی کی معطلی کا درد سر اٹھانا پڑتا ہے۔ پاکستان میں توانائی کے بحران کی تاریخ تقسیم پاکستان کے وقت کی تو نہیں ہے البتہ صدیاں ہو گئیں ہمیں اس درد انگیزیوں کی الم ناک داستان سناتے۔

شہری اور دیہی علاقوں کو بجلی کی فراہمی کے بلند وبالا دعوے ہر دور میں کیے جاتے رہے ہیں لیکن کچھ خاطر خواہ نتائج کبھی نہ نکل سکے۔ بجلی کا بحران محض گھریلو صارفین کے لیے ہی نہیں بلکہ ملک کی معیشیت کے لیے بھی ایک تباہ کن صورتحال ہے۔ ارباب اختیار کو سنیں، سیاسی جماعتوں کا منشور پڑھیں یا حکموتی منصوبہ بندیوں پر تقاریر دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بظاہر بہتر منصوبے بنا کر ان پر عمل در آمد بھی کیا جا رہا ہے۔ نہ جانے پھر کیا وجہ ہے کہ صوتحال جون کی توں ہے یا یہ کہیں کہ بد تر ہوتی جاتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

بلا شبہ چند شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی واقع ہوئی ہے اور چند ایسے علاقے بھی ہیں جہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بالکل نہیں ہو رہی۔ لیکن کیا یہ بندر بانٹ درست ہے؟ جہلم کے آس پاس کے دیھات کی بات نہیں کرتی بلکہ جہلم شہر کی بات کروں تو شہر بھی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کہیں پر بارش کی دو بوندیں پڑ جاتی ہیں تو کہہ دیا جاتا ہے کہ گرڈ میں خرابی ہے بجلی غیر اعلانیہ مدت کے لیے بند۔ یہ ہی نہیں کہ ایسی تاریکی حادثات کی وجہ سے ہے بلکہ یہ معمول بن چکا ہے کہ چھ سے ساتھ گھنٹے بجلی لازماً بند رہنے لگی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق بجلی کی وافر مقدار موجود ہے۔ کبھی یہ بیانات سامنے آتے ہیں کہ بجلی کی پیداوار کم اور طلب زیادہ ہے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ ہی طلب پوش علاقے کے لوگوں کے لیے کیسے پوری ہو جاتی ہے؟

آپ سب جانتے ہیں کہ نیلم جہلم سرچارج کی مد میں صارفین سے بجلی پیدا کیے بغیر اربوں روپے کی وصولی کرتے رہے ہیں۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اربوں یونٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہو رہا ہے تو صارفین کبھی اپنے بجلی کے بل میں اسکے سرچارج دیکھتے ہیں اور کبھی اپنے گھر کے اندھیرے۔ کیا نیلم جہلم وہ پراجیکٹ نہیں تھا جس کی بدولت جہلم والوں کے گھروں کے اندھیرے ختم نہ ہوں تو کچھ کم ہی ہو جاتے؟ اب تو عام شہری اس پراجیکٹ کے انتظار میں بیٹھے رہ جاتے ہیں جو انکی زندگیاں روشن کریں گے کیونکہ بڑے بڑے منصوبوں سے تو بڑے ہی مستفید ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں تو ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز بھی جمع کرلیے جاتے ہیں لیکن ڈیم کاغذ پر ہی بنے رہ جاتے ہیں۔ بھارت ہمارے پانی پر ڈیم تعمیر کرتا جاتا ہے اور ہم بس منصوبے بناتے رہ جاتے ہیں۔ اور جب بھارت کا دل کرتا ہے وہ پانی چھوڑ کر تباہی مچا دیتا ہے اور ہم اسکو بھی دہشتگری کا نام دے دیتے ہیں لیکن عملی طور پر مناسب اقدامات کرنے کی تکلیف نہیں کرتے۔

جہلم کا دریا جو بھرا رہتا تھا اور لوگ سیر کے لیے دور دور سے جہلم بیلے میں کشتی کی سیر کرنے آتے تھے اب ویران پڑا رہتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ جب بھارت پانی چھوڑتا ہے تو منگلا ڈیم بھی بھر جاتا ہے، سپیل وے بھی کھول دیے جاتے ہیں اور سیلاب کے لیے الرٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔

جہلم کے لوگ جو سارا سال پانی نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کو ترستے ہیں۔ ہمارے حکمران بجلی کی پیداوار کے رونے روتے ہیں اور جیسے ہی بارشیں شروع ہوتی ہیں کاغذوں پر بنائے گئے ڈیم ہمیں جگہ جگہ تیرتے دکھائی دیتے ہیں اور ہمارے حکمران برساتی مینڈکوں کی طرح سیلابی پانی میں فوٹو شوٹ کروانے پہنچ جاتے ہیں۔ شدید بارشوں کے موسم میں عوام کہیں کرنٹ لگنے سے مر رہی ہوتی ہے تو کہیں تباہیوں سے برباد ہو رہی ہوتی ہے۔ نہیں مرتے تو بارشوں کے پانی میں شرم سے ڈوب کر یہ حکمران نہیں مرتے۔

عوام تو دونوں صورتوں میں مر مر کر ہی جی رہی ہے چاہے پانی ہو یا نہ ہو۔ ہر سال بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں اور تباہ کاریوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے لیکن ہم ہر سال بھول جاتے ہیں۔ نہ جانے ہمارے وزیروں کی سائنس اس وقت کہاں جا کر سو جاتی ہے کہ وہ پانی، ہوا، دھوپ اور گوبر سے بجلی بنانے کے منصوبوں کی بات کیوں نہیں کرتے انکی ساری سائنس چاند سے شروع ہو کر چاند پر ختم ہو جاتی ہے۔

دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے لیکن ہمارا نظام اگلے ستر سال بھی شاید ہی بدلے۔۔۔۔ یہاتوں کی تو بات ہی چھوڑیں یہاں شہروں میں بجلی کی تاریں نہایت پرانی ہیں، فرسودہ کھمبے آندھی اور تیز بارش کے باعث عوام پر آ گرتے ہیں، گرمیوں میں لوڈ زیادہ ہو جانے کے باعث ٹرانسفارمر دغا دے جاتے ہیں اور بوڑھے، بیمار، بچے دفاتر جانے والے لوگ ساری رات بجلی بند ہونے کی وجہ سے ارباب حکمران کو بد دعائیں ہی دے کر گزارا کر لیتے ہیں۔ اس کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔

بجلی کا بل ایک بار زیادہ آ جائے تو غیریب عوام اسکی قسطیں کروانے کے لیے بجلی گھروں کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔ بجلی کی چوری پر قابو ہی نہیں پایا جا سکتا۔ جن صوبوں میں بجلی بل ادا نہیں کیے جاتے ان کا بوجھ بھی قانونی طور پر بجلی کا بل ادا کرنے والے صارفین کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں لوگوں کی قوت خرید کے مقابلے میں بجلی اسقدر مہنگی ہو گئی ہے کہ اب بجلی کا بل ماہانہ گھریلو اخراجات کا سب سے بڑا حصہ بن گیاہے ۔

گزشتہ دہائی سے بجلی کے بل لوگوں کی قوت ادائیگی سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ کبھی بجلی کے نرخ بڑھنے کی وجہ بین الاقوامی معاہدے ہوتے ہیں۔ معاہدوں کے تحت پاکستان بجلی لے یا نہ لے اسے مقررہ ادائیگی کرنا ہوگی اور اس کی قیمت بحرحال پاکستانی عوام ہی کے ذمہ ہے- معاہدوں کے مطابق پندرہ برس تک ہر سال یہ ادائیگیاں بڑھتی چلی جائیں گی – جس کا مطلب ہے کہ ہر سال بجلی کے نرخ بڑھتے جائیں گے اور عوام کی مشکلات بھی- چلیں بجلی کے نرخ بڑحا لیں لیکن بجلی تو دیں۔۔۔ لیکن جہاں بجلی بھی غائب رہتی ہے اور بل بھی ہزاروں میں آ رہے ہیں۔

ویسے ہمارے ہاں تو بجلی کی فی یونٹ کا حساب بھی نہایت سائنسی ہے مثلاً اگر آپ کو 200 چادریں چاہیں تو 100 چادریں لیں تو ہر چادر 500 روپے کی ملے گی اور باقی کی 100 کا ریٹ 900 روپے ملے گا۔ جتنی زیادہ چادریں خریدیں گے ریٹ زیادہ ہوتا جائے گا۔ یہ ہی حال بجلی کے فی یونٹ کا ہے۔ یہ ہی نہیں سونے پہ سہاگہ یہ کہ اگر تو بجلی 6 بجے سے پہلے استعمال ہوگی تو سستی ہوگی لیکن اگر 6 بجے کے بعد استعمال کریں گے تو وہ ڈبل ریٹ پر ملے گی۔

کبھی حکمران پن بجلی، ہائیڈرو، کوئلہ اور تھرمل بجلی کے منصوبوں پر بحث مباحثے میں وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ تو کبھی شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی صورتحال کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ ان منصوبوں سے کون نوازا جا رہا ہے۔ نہ جانے وہ کون سے منصوبے ہوں گے جن سے ہماری عوام کی زندگیوں کے اندھیرے دور ہوں گے۔ لگتا ہے وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے پوچھنا پڑے گا اپنے شہر کو روشن کرنے کے حوالے سے شاید وہ ہی کوئی مشورہ دے دیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

  1. محترمہ سندس سیدہ مضمون مطالعہ سے گزرا خوبصورت انداز میں تنقید کی گئی مزید کوشش کریں تا کہ تحریر جاذب اور بہتر ہو سکے ۔ جاذب تحریر کے لئے بڑے لکھار یوں کا مطالعہ کر نا ہو گا مثلاً رؤف کلاسرا، ایاز امیر ، خالد مسعود ، شاہد صدیقی وغیرہ کو لگا تار پڑھنا ہو گا یہی بہتر شورہ ہے ۔ شکریہ

    پروفیسر ارفتخار محمود
    فون نمبر 0301/03065430285

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button