جہلم

جہلم کی دکانوں پر کھلے سگریٹ، انڈین گٹکا اور چھالیہ کی فروخت، نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی

جہلم: اندرون شہر کی دکانوں پر کھلے سگریٹ، انڈین گٹکا اور چھالیہ کی فروخت جاری ، 18 سال سے کم عمر لڑکوں کا تمباکو نوشی کی طرف رحجان خطرناک حد تک بڑھنے لگا، نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی متعلقہ اداروں نے چپ سادھ رکھی ہے نوجوان کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے لگے۔

جہلم پریس کلب کے سروے میں شہریوں عمیر احمد راجہ، ملک عمر اعوان، محمد منور حسین، محمد عمران ، محمد شہزاد انور، طہ منور، صائم شہزاد، کامران حنیف، نعمان، فیضان و دیگر شہریوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے کھلے سگریٹوں کی فروخت اور انڈین گٹکا اور چھالیہ کو ممنوعہ قرار دیتے ہوئے اس کی فروخت پر پابندی لگا رکھی ہے جس کے باوجود نشہ آور اشیاء کی فروخت سرعام جاری ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں پان سگریٹ کی دکانوں،کھوکھا جات میں کھلے سگریٹ کتھا، چونا، تمباکو، چھالیہ، مختلف کیمیکلز سے تیار ہونے والی انڈیا سے درآمد شدہ گٹکا کی فروخت عروج پر ہے جو کہ منہ کا کینسر، گردہ کی پتھری،گلے کی بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں۔

شہریوں نے گٹکا، انڈین چھالیہ اور مختلف اقسام کے تمباکو کی پتیوں اور کھلے سگریٹوں کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے، تعلیمی اداروں کے گردونواح میں سگریٹ ، پان اور گٹکے کی فروخت سرعام جاری ہے مختلف تعلیمی اداروں میں طلبہ تمباکو نوشی کرتے دیکھے جاتے ہیں، انتظامیہ چند روز نشہ آور چیزوں کے خلاف مہم چلاتی ہے اور بعد میں خاموشی اختیار کر لیتی ہے ان نشہ آور چیزوں کے استعمال کی وجہ سے نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیاہے کہ نشہ آور اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button