جہلم

حلقہ پٹوار موضع چتن کا پٹواری واجد نسیم نے دفتر کھولنا توہین سمجھ لیا

جہلم: حلقہ پٹوار موضع چتن کا پٹواری واجد نسیم نے دفتر کھولنا توہین سمجھ لیا، موضع چتن کے باسی ٹیلیفون پر وقت لینے پر مجبور، ڈپٹی کمشنر سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق حلقہ پٹوار موضع چتن کے پٹواری واجد نسیم نے اہل علاقہ کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ موصوف پٹواری حلقہ چتن کے علاوہ 2 حلقوں کے چارج سنبھالے ہوئے ہیں ،جس کیوجہ سے حلقہ چتن مینول ہونے کی وجہ سے عوام اس پٹواری کے ہاتھوں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

دفتر واقع چتن کے باہر فون نمبر آویزا ں کر دیا گیا ہے کہ فون پر رابطہ کرلیا جائے تو نہ ہی کوئی وقت مقرر کیا گیا ہے کہ اس وقت موصوف حلقہ پٹوار چتن میں جلوہ فروز ہونگے ۔

دیہی علاقے سے تعلق علاقے سے تعلق رکھنے والے شخص نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ میرا فرد بدر کا مسئلہ کافی عرصہ سے چلا آرہاہے جس کو درست کروانے کے لئے روزانہ حلقہ پٹوار موضع چتن کا طواف کرتا رہتا ہوں لیکن پٹواری صاحب فون پر دیگر دفتری کاموں ، سرکاری میٹنگز کا بہانہ بنا کر ٹال دیتے ہیں۔

دیہی علاقے کے باسیوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیاہے کہ حلقہ پٹوارموضع چتن مینول ہونے کی وجہ سے کاموں میں دشواری پیش آرہی ہے جسے دور کرنے کے لئے موضع چتن کے پٹوار سرکل کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک پٹواری جو صرف حلقے میں کام سرانجام دے کو تعینات کروایا جائے تاکہ علاقہ مکینوں کے مسائل حل ہو سکیں ۔

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

  1. جہلم(زین بٹ)اس جدید اور ترقی یافتہ دور میں بھی جہاں دنیا فائیو جی اور نجانے کیا کیا انقلاب برپا کر رہی ہے زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے یا ابھی تک رکھا گیا ہے۔ اس جدید دور میں بھی جہلم کے نواحی علاقہ رجی پور ٹاہلیانوالہ،چک خاصہ،چونترہ،کولپور،کھرالہ سے لے کر پنڈی موڑ تک گیس جیسی اہم بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ ہر دور اقتدار میں جہلم شہر کے باسیوں کو جو سب سے بڑا لولی پاپ دیا جاتا ہے وہ گیس کی دستیابی کا ہوتا ہے بلکہ متعدد بار مختلف منصوبوں کا اعلان بھی کیا گیا جو کہ کچھ عرصہ لولکل میڈیا کی زینت رہتے ہیں اور پھر اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ خدا جانے جہلم کے علاقہ مقیم کے شہریوں کے ساتھ کیا جانے والا یہ وعدہ وفا کب ہو گا ضلع جہلم ایک کافی بڑی تحصیل ہے جو کہ سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے گاؤں اور دیہاتوں پر مشتمل ہے لیکن بدقسمتی سے آج بھی بہت سارے گاوں انتہائی پسماندگی کا منظر پیش کرتے ہیں جہاں پکی سڑکوں اور بجلی جیسی سہولیات عدم دستیاب ہیں۔ عوام کے زہنوں میں یہ ہی سوال گردش کرتا ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی جہلم کیوں بنیادی سہولیات سے محروم ہے اس کا زمہ دار کون ہے سیاست دان، انتظامیہ یا جہلم کے لوگ جو ہر بار سیاست دانوں کے لولی پاپ اور جھوٹے وعدوں میں پھنس جاتے ہیں جو کہ صرف ووٹ کی حد تک ہوتے ہیں اور جب ووٹ مل جاتے ہیں پھر لگاتار فنڈز کی عدم دستیابی کا رونا رویا جاتا ہے اور اسی طرح مدت پوری ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ چل رہا ہے۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button