عاصمہ جہانگیر پاکستان کے تمام ترقی پسندوں کی شان تھیں۔ مقررین

0

پڑی درویزہ: محترمہ عاصمہ جہانگیر پاکستان کے تمام ترقی پسندوں کی شان تھیں جنہوںنے بلاتفریق سارے مظلوموں اور محکموموں کے لیے اپنی آواز بلند کی۔ آج مرحومہ قانون دان اور دانشورکے نظریات کو پھیلانا اور بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ اور دائیں بازو کی قوتیں تیزی سے طاقتور ہو رہی ہیں ۔ تمام ترقی پسندوں کو ’’سات نکاتی ایجنڈے‘‘ پر منظم ہو کر عوام کو ایک حقیقی سیاسی متبادل نظریہ یا نظام دینے کی ضرورت ہے ۔پاکستان عوامی ورکرز پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے چوہدری مسعود الحسن ، عاصم سجاد ، افراسیاب خٹک، نسرین اظہر، امبر شمسی اور فرحت بابر اور دیگر کا خطاب ۔

تفصیلات کے مطابق ممتاز دانشور و قانون دان محترمہ عاصمہ جہانگیر کی یاد میں منعقدہ تقریب میں جڑواں شہروں کے سینکڑوں ترقی پسند سیاسی کارکنان، طلبا، ٹریڈ یونین ورکروں، دانشوروں، ادیبوں اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں عوامی ورکر ز پارٹی کے رہنما عاصم سجاد نے محترمہ ڈاکٹرعاصمہ جہانگیر کی زندگی بھر جدو جہد کی آکاسی کرنے والا’’سات نکاتی ایجنڈا‘‘ پیش کیا جن میں مذہب اور ریاست کی علیحدگی، طبقاتی تفریق کا خاتمہ، پاکستان کو کثیر القومی وفاق بنانا، عورت دشمن مرد سری روایات کا خاتمہ، ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام، حقیقی جمہوریت ،اظہارِ رائے کی آزادی، اور ہمسائیہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقا ت کا قیام شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کافی نہیں ہے کہ ہم عاصمہ کے لیے سوگ منائیں بلکہ اگر بایاں بازومتحدہو کر پاکستان کے سیاسی و معاشی نظام کو تبدیل نہیں کرتا تو ملک کے اندر بدامنی، انتشار اور بدحالی ناقابل واپسی حد پار کر جائے گی اور ساتھ ہی میں دنیا میں ہم مزید تنہائی کا شکار ہو جائیں گے۔

عاصم سجاد نے اپیل کی کہ تمام ترقی پسند حلقے رجعتی قوتوں کے مقابلے میں ایک بیانیہ اپنائیں اور اس کے گرد عوام کی منظم طاقت کو جوڑنے کی کوشش کریں۔ڈاکٹر عاصمہ جہانگیر کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افراسیاب خٹک، نسرین اظہر، امبر شمسی اور فرحت بابر نے کہا کہ ایسی خاتون شائد ہی پاکستان میں آئندہ کبھی پیدا ہوگی جس نے بے خوف ہو کر اسٹیبلشمنٹ اور رجعتی قوتوں کا سامنا کیا اور کسی بھی موقع پر اپنی ذات کی بڑھوتری کی کوشش نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ شائد ہی کسی کی عاصمہ سے زیادہ کردار کشی کی گئی کیونکہ وہ طبقاتی، قومی، صنفی، مذہبی ہر طرح کے امتیاز کیخلاف بات کرتی تھیں اور اس لیے رجعتی قوتوں اور اسٹیبشلمنٹ کی ایماپر ان کو بار بار ملک دشمن اور بیرونی ایجنٹ قرار دیا گیا جبکہ سچ یہ ہے کہ عاصمہ سے زیادہ حب الوطن پاکستانی کوئی نہیں تھا جس نے حقیقی معنوں میں جمہور کو آزاد کرنے کی کوشش کی اور ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا جس میں سب برابر ہوںاور ریاست عوام کے بنیادی ( روزگار ، رہائش ،تعلیم اور صحت )حقوق کی ضمانت دے نہ کہ عوام کے حقوق پر خود ڈاکہ ڈالے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وہ جذبہ ہے جو کہ تمام ترقی پسند سوچ رکھنے والے سماجی و سیاسی کارکنان کو اپنانا ہوگا کیونکہ اب گھر بیٹھ کر اور سیاست کو برا بھلا کہہ کر بات نہیں بنے گی اور ہم ان تمام لوگوں سے بھی اپیل کرتے ہیں جو کہ باقائدہ سیاسی جماعتوں سے منسلک نہیں ہیں کہ ترقی پسندوں کو سمجھیں اور انہیں متحد کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر عاصمہ جہانگیر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف شعرا اور گلوکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا جبکہ عاصمہ کے مختلف موقعوں پر یادگار تقاریر کی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ آخر میں منتظمین نے اعلان کیا کہ ترقی پسندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑنے کی کوششوں کے لیے اگلی تقریب 5مارچ کو ایچ آر سی پی کی جانب سے منعقد کی جائیگی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.