جہلم

عید الفطر کے قریب آتے ہی جہلم میں درزی بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ آگئے

جہلم: عید الفطر کے قریب آتے ہی شہر و مضافاتی علاقوں میں درزی بجلی کی لوڈشیڈنگ سے تنگ آگئے، رش زیادہ ہونے کیوجہ سے کپڑوں کی سلائی کی بکنگ بھی بند کرنے کے بورڈ بھی آویزاں کر دیئے گئے، گزشتہ سال کی نسبت رواں سال کپڑوں کی سلائی کے نرخوں میں بھی 200 روپے سے 300 روپے تک کا اضافہ کر دیا گیاہے۔

رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے عیدالفطر قریب آرہی ہے اسی طرح کپڑوں کی سلائی کرنے والے درزیوں کے پاس نئے کپڑوں کی سلائی کا رش زیادہ ہونے لگا ہے ، کپڑے سلائی کرنیوالے درزیوں نے کہا کہ کپڑے سلائی کرنے کا کام تو بہت زیادہ ہے لیکن بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے سارا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 سے 6 گھنٹے اعلانیہ جبکہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری ہے ،جس سے کام پر بہت فرق پڑ چکا ہے۔ قیمتوں کے حوالے سے درزیوں کا کہنا ہے کہ دھاگے کی نلکی ، بکرم ، بٹن اور دیگر اشیاء اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ خرچہ پورا کرنا مشکل ہوتا ہے ، بجلی کے بل ، قینچی ، سلائی مشین ، کاج کرانے اور دیگر کاموں پر بھی پیسے خرچ ہوتے ہیں۔

درزیوں نے وزیراعظم پاکستان ، چیف ایگزیکٹو آفیسر آئیسکو اسلام آبادسے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ پریشانیوں سے بچتے ہوئے شہریوں کو کپڑے سلائی کرکے بروقت دئیے جا سکیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button