جہلم

ضلع جہلم میں قائم سرکاری و نجی دفاتر، مارکیٹوں اور تعلیمی اداروں میں سیکورٹی نام کی کوئی چیز نہیں

جہلم: ضلعی ہیڈ کوارٹر سمیت ضلع بھرمیں قائم سرکاری و نجی دفاتر ، مارکیٹوں اور تعلیمی اداروں میں سیکورٹی نام کی کوئی چیز نہیں ،جو ایس او پیز تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات کے لئے بنائے گئے تھے ان پر ایک فیصد بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا، ریلوے اسٹیشن ، لاری اڈوں ،ہسپتالوں ، تفریح گاہوں میں بھی سیکورٹی ایس او پیز کو یکسر نظر انداز کیا جارہاہے۔

ملک کے اندر دشمن عناصر ایک مرتبہ پھر متحرک ہو گئے ہیں اور دہشتگردی کی نئی لہر آچکی ہے ، بلوچستان کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پی کے اور اب پاکستان کے دل کہلانے والے شہر لاہور کے بھرے بازار ، انارکلی میں گزشتہ روز دہشتگردی کا دلخراش واقعہ پیش آیا ، دہشتگردوں نے بازار کے اندر دھماکہ کیا جس سے درجنوں افراد زخمی ہوئے اور 2 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی دہشتگردی کے خطرات موجود ہیں مگر اس کے باوجود جہلم ضلع بھر میں سیکورٹی پلان پر عملدرآمد نہیں کروایا جا رہا اور نہ ہی شہر میں پولیس سیکورٹی متحرک کی گئی ۔یہاں تک کہ سرکاری دفاتر میں بھی سکیورٹی کا کوئی انتظام موجود نہیں۔

ریلوے اسٹیشن محکمہ صحت کے دفاتر، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، ضلع کچہری سمیت سرکاری و نجی اداروں میں بھی سیکورٹی نام کی کوئی چیز نہیں ، پارکس اور تفریح گاہوں کے داخلی گیٹ پر بھی سیکورٹی کا نہ ہونا ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے ، تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کے لئے ماضی میں ایس او پیز جاری کئے گئے تھے جن پر عملدرآمد ہوتانظر نہیں آتا، شہر کے بازاروں اور شاپنگ سنٹرز میں بھی سیکورٹی نام کی کوئی چیز نہیں ، اسی طرح شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی کوئی سیکورٹی نہیں۔

دوسری طرف شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے مگر حالات یہ ہیں کہ درجنوں سے زائد کیمرے خراب ہیں یہاں تک کہ شہرکی حساس ترین عمارتیں اور دفاتر بھی سیکورٹی رسک پر چل رہے ہیں ، شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سیکورٹی کے مناسب اقدامات کرنے کا مطالبہ کیاہے تاکہ شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنایا جا سکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button