کالم و مضامین

اپیل بنام ڈپٹی کمشنر جہلم

سر آپ کی ضلع جہلم میں تعیناتی کے بعد بلا شبہ صحت کے شعبہ میں بہترین اقدامات دیکھنے کو ملے آپ نے دن رات ایک کر کے نہ صرف ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے مفت علاج کی سہولیات فراہم کیں بلکہ ہسپتالوں میں صفائی سمیت متعدد شعبہ جات میں بہتری دیکھنے کو ملی۔

حالیہ وباء سے نمٹنے کے لیے بھی تمام شعبہ جات نے آپ کی سپر ویژن میں بہترین اقدامات کیے حالانکہ سی او ہیلتھ کی طرف سے جہلم ڈی ایچ کیو میں انتظامات کے فقدان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کورونا کے حوالے سے متعدد کیسیز میں منفی پروپیگنڈہ کی بڑی وجہ محکمہ صحت کے زمہ داران کی ناقص حکمت عملی بھی دیکھنے کو ملی جس پر آپ کی طرف سے پریس کانفرنس میں ایسے پروپیگنڈہ کی بھی حوصلہ شکنی ہوئی۔

صحافی کا کام ہے کہ وہ مثبت تنقید کے ساتھ مسائل کی نشاندہی کرے اور عوامی مطالبات کو آپ تک پہنچائے اس حوالے سے ایک اہم مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ کورونا چاہتا ہوں جو کہ اس قدر سنگین صورتحال بن چکی ہے کہ اگر اس پر سنجیدگی سے نہ عمل کیا گیا تو مستقبل میں قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سوہاوہ جو کہ بنیادی سہولیات سے محروم ہونے کے باوجود پنجاب بھر میں اول پوزیشن پر آیا تو اس میں ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن کی سخت محنت شامل ہے۔

ٹی ایچ کیو ہسپتال سوہاوہ میں حالیہ وباء پر شہریوں کے لیے جہاں بنیادی سہولیات میسر نہ ہیں وہیں ہسپتال کے ڈاکٹروں اور آپ کی طرف سے مناسب اقدامات کے باعث سوہاوہ الحمداللہ کورونا جیسی وباء سے محفوظ ہے لیکن سی او ہیلتھ کی طرف سے انتہائی غیر زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو بار کورونا پازیٹو مریضوں کو جہلم سے سوہاوہ ریفر کر کے ان کے سی سیکشن کیے گیے جس کی وجہ سے ایک گائںنی سرجن کورونا پازیٹو بھی ہوئیں اور انہوں نے کورونا سے جنگ کرتے ہوئے کورونا کو شکست دی۔

دوسری بار بھی اسی گائنی سرجن سے کورونا پازیٹو مریضہ کا سی سیکشن کروایا گیا لیکن افسوس کہ محکمہ صحت کی طرف سے واضح پالیسی کے باوجود تحصیل سوہاوہ کی عوام کو گائنی سرجری (سی سیکشن) سے محروم کر دیا گیا ہے اور ایک گائنی سرجن جو کہ پہلے ہی کورونا سے جنگ لڑ رہی ہیں ان کا ایک کورونا مریضہ کے سی سیکشن کے بعد کورونا پازیٹو ہونے کے بعد نیگیٹو آیا ہے تھا کہ دوسری کورونا مریضہ کا سی سیکشن بھی اسی گائنی سرجن سے کروایا گیا جو اب پھر ٹیسٹوں کے۔مراحل سے گزر رہی ہیں ۔

آپ سے التماس ہے کہ سیاسی جہاں پرانے کاموں کی تختیاں اپنے نام کروانے میں مصروف ہوں وہاں بیورو کریسی کی ذہانت اور قائدانہ صلاحیتیں ہی شہریوں کے مسائل کے حل کا ذریعہ بنتی ہیں تحصیل سوہاوہ سیاسی یتیم تو بڑے عرصے تک رہی ہی ہے لیکن افسوس کہ اس ضلع میں انتہائی کرپٹ اور دفتروں تک محدود افسران بھی کرسیوں پر بڑا جمان رہیں ہیں۔

سی او ہیلتھ جو کہ تقریبا عرصہ بیس سال سے جہلم میں تعینات ہیں انہوں نے ایک بار پھر سوہاوہ تحصیل سے گائنی سرجن کو جنرل ڈیوٹی پر جہلم لگا دیا ہے جس کے بعد سی سیکشن کے لیے مریض جہلم اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں ذلیل ہو رہے ہیں۔

حالانکہ محکمہ صحت حکومت پنجاب کی واضح پالیسی ہے کہ کسی ڈاکٹر کو جنرل ڈیوٹی پر نہیں لگایا جا سکتا جو کہ ایم پی اے راجہ یاور کمال کے نوٹس میں لانے کے باوجودانہون نے اپنے حلقہ سے منتخب کرنے والی عوام کے اس مسئلہ پر توجہ نہ دی اور گائنی سرجن کو جہلم ڈی ایچ کیو ڈیوٹی پر تعینات کر دیا گیا ہے جو کہ سوہاوہ کی عوام کے لیے شدید زیادتی ہے ایک وقت تھا کہ پورے جہلم میں صرف ایک انتھسیا سپیشلٹ تھا اور پھر بھی سوہاوہ میں سرجری اور سی سیکشن ہو رہے تھے لیکن اب چار سپیشلٹ ہونے کے باوجود مریضوں کو راولپنڈی اور جہلم ریفر کر دیا جاتا ہے۔

آپ سے اپیل ہے کہ سوہاوہ ٹی ایچ کیو سے جہلم تبدیل ہونے والی گائنی۔سرجن کی ڈیوٹی واپس کی جائے اور سوہاوہ میں گائنی اور جنرل سرجری کو بھی شروع کیا جایے تاکہ ایک بار پھر سوہاوہ کے شہری سیاسی یتیمی کے خوف سے نکل سکیں امید ہے آپ عوام کی اس اپیل پر نوٹس لینگے اور سوہاوہ کی عوام کے اس مطالبہ کو پورا کریں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close