گرلز ہائی سکول جلالپورشریف کی ہیڈ مسٹریس نے سرکاری گاڑی اور دفتری کلرک کو ذاتی ملازم بنا لیا

0

جہلم: وزیراعظم پاکستان کا کفایت شعاری پروگرام کھوہ کھاتے، لاڈلی ہیڈ مسٹریس کے انداز نرالے سرکاری گاڑی کا بے دریغ استعمال، محکمہ تعلیم کے کلرک ہپیڈ مسٹریس کے ناز انداز اٹھانے پر مجبور، محکمہ تعلیم کے افسران کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی، شہریوں کا ڈپٹی کمشنر جہلم سے سی ای او ایجوکیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جلالپورشریف میں تعینات ہیڈ مسٹریس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری گاڑی اور دفتری کلرک کو ذاتی ملازم بنا لیا سرکاری گاڑی روزانہ ہزاروں روپے کا ڈیزل پھونک رہی ہے۔

ہیڈ مسٹریس جس کا تعلق تحصیل پنددادنخان کے علاقہ کھیوڑہ سے بتایا جاتا ہے روزانہ ٹریننگ کرنے کے نام پر محکمہ تعلیم کے کلرک کو بطور ڈرائیور سرکاری گاڑی کی ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں جس کی وجہ سے روزانہ سینکڑوں کلومیٹر سفر کرنے والی گاڑی میں سرکاری ڈیزل موبائیل اور مرمت کے نام پر خزانے کو چونا لگایا جائے گا۔

دوسری جانب کلرک کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ کے دفتر آنے والی معلمات کو کلرک کی عدم موجودگی کی وجہ سے چکر لگانا پڑیں گے جبکہ شہانا زندگی بسر کرنے والی ہیڈ مسٹریس اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری گاڑی اور کلرک کو بطور ڈرائیور استعمال کر کے زیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کی کھلے عام خلاف ورزی کر رہی ہے۔

ذرائع سے اطلاع ملنے پر میڈیا ٹیم جب گورنمنٹ ہائی سکول کے احاطہ میں پہنچی تو وہاں پنددادنخان کی سرکاری گاڑی موجود تھی جبکہ ضلع بھر سے آنے والے سکول ہیڈز پرائیویٹ گاڑیوں پر سفر کرکے ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔

سرکاری گاڑی کی موجودگی پر سی ای او ایجوکیشن سید مظہر حسین سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے کہا کہ میرے علم میں کوئی ایسی بات نہیں اور نہ ہی کسی سکول ہیڈ کو سرکاری گاڑی یا محکمہ تعلیم کے ملازمین کو ساتھ رکھنے یا لانے کی اجازت ہے اگر کسی سکول ہیڈ نے قانون کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میںلائی جائے گی۔

دوسری جانب گورنمنٹ گرلزہائی سکول جلالپورشریف کی ہیڈ مسٹریس ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد جب سکول کے احاطہ سرکاری گاڑی کے قریب پہنچی تو انہوں موقف دیتے ہوئے کہا کہ میرے پاس اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ کا چارج بھی موجود ہے اور قانونا سرکاری گاڑی استعمال کرسکتی ہوں جبکہ ہمارے پاس ڈرائیور موجود نہیں اس لیے میں کلرک سے ڈرائیور کی خدمات لے سکتی ہوں اس میں کوئی ایسا غیرقانونی کام نہیں تمام امور قانون کے اندر رہتے ہوئے سرانجام دے رہی ہوں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.