کالم و مضامین

جمہوریت کے روشن مستقبل کیلئے ذاتی مفادات کی سیاست کو ختم کرنا پڑے گا — تحریر: اسد کھوکھر

محترم قارئین ۔جمہوریت ایک طرز حکومت۔ عوام کی حکومت۔ جس میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ آمریت کی ضد۔ جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ بلا واسطہ جمہوریت اور بالواسطہ جمہوریت۔ بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افراد کی رائے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کی جمہوریت صرف ایسی جگہ قائم ہوسکتی ہے۔ جہاں ریاست کا رقبہ بہت محدود ہو اور ریاست کے عوام کا یکجا جمع ہو کر غور و فکر کرنا ممکن ہو۔ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے دلوں میں نظام ریاست کا احترام پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں نظام حکومت خود عوام یا عوام کے نمائندوں کے ذریعے پایا تکمیل تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ جذبہ صرف اس وقت کارفرما ہوتا ہے جب عوام کی صحیح نمائندگی ہو اور اراکین مملکت کا انتخاب صحیح ہو۔جمہوریت لوگوں کے سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی نظام کے تعین کیلئے آزادنہ رائے پر منحصر ایک عالمی نظام ہے اور جمہوریت ریاستی اداروں کو مضبوط کرکے اس قابل بناتی ہے کہ یہ خودکار طریقے سے عوام کو بہترین خدمات فراہم کر سکیں۔ جمہوری نظام عوامی مفاد کا نظام ہے کیونکہ جمہوریت میں فیصلے سڑکوں پر نہیں، پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں اور جمہوریت محض انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ عوام کے مسائل کے حل کیلئے بہترین نظام ہے۔ جمہوریت کیلئے عوامی شعور بیدار کرنا اور جمہوری روایات کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔ جمہوریت، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کا نام ہے۔ پاکستانی عوام جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کے قائل ہیں۔ ذاتی مفاد، انتشار، الزام تراشی اور جھوٹ کی سیاست کے روئیے غیر جمہوری طرز عمل کے حامل ہیں۔ جمہوریت میں حق حاکمیت عوام کے پاس ہوتا ہے۔ ملک وقوم کی معاشی و سماجی ترقی کیلئے تمام تر سیاسی قوتوں کو اعلیٰ جمہوری روایات قائم کرنے کا ثبوت دینا ہو گا اور جمہوریت کے روشن مستقبل کیلئے ذاتی مفادات کی سیاست کو ختم کر کے ملکی ترقی وخوشحالی کو مقدم رکھنا پڑے گا۔ ایسی حقیقی جمہوریت کو فروغ دیا جائے جو ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی ضامن ہو۔ وطنِ عزیز میں رائج جمہوریت صرف "ووٹنگ سسٹم” کا نا م ہے جس میں ہر فرد کی رائے برابر ہے،چاہے وہ پڑھا لکھا اور باشعور انسان ہے جو تمام حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ کون ملک کا سربراہ بننے کے قابل ہے۔ جو ووٹ کی اہمیت سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ ووٹ کی شکل میں اس پر کتنی بڑی ذمہ داری عائد ہے۔جبکہ دوسری طرف ایسا شخص ہو جس کا حکومت اور حکومتی نظام سے کوئی تعلق نہیں، جس کی ساری عمر اپنی بھوک سے لڑنے میں گزر جاتی ہے ، جس کے لیئے روٹی سے زیادہ قیمتی کوئی شے نہیں،جو ایک وقت کے کھانے کے عوض اپنا ووٹ بیچ دیتا ہے اور اس کی اصل قیمت سے نا واقف ہے۔ اس کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اس ووٹ میں اتنی طاقت ہے کہ یہ اس کو زندگی کی تمام تر سہولیات دلا سکتا ہے بشرطیکہ اس کا صحیح استعمال کیا جائے۔ مگر ہمارے حکمران عوام میں یہ شعور پیدا نہیں ہونے دینا چاہتے۔ وہ بس اتنے ہی لوگوں کو تعلیم کے ذرائع فراہم کرتے ہیں یا ہونے دیتے ہیں کہ جن سے ملک کا نظام چلتا رہے اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھے ہوئی بادشاہت کو بھی نقصان نہ پہنچے۔۔اے رب ذوالجلال !ہم پر رحم فرما ، ہماری خطائیں بخش دے ، ہماری توبہ قبول فرماہمیں علمِ نافع، صحتِ کامل، اولادِ صالح، رزقِ حلال، مقامِ عبدیت عطا کر، یا اللہ میری اس دعا کو مجھ سمیت ہر مسلمان کے حق میں قبول فرما۔۔آمین یارب العالمین۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button