دینہاہم خبریں

تحصیل دینہ صرف نام کی تحصیل دینہ بن کر رہ گئی، عوام کو بنیادی ضروریات زندگی میسر نہیں

دینہ: تحصیل دینہ صرف نام کی تحصیل دینہ بن کر رہ گئی،عوام کو بنیادی ضروریات زندگی میسر نہیں ،خادم اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے 2009میں آر ایچ سی دینہ کو تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال بنانے کا اعلان صرف اعلان کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ،مریضوں کے لیے بیڈوں کی تعداد انتہائی کم ،اسپیشلسٹ ڈاکٹر زکی کمی کے ساتھ آبادی کے تناسب سے مریضوں کا رش ،تحصیل دینہ کی عوام پرائیویٹ علاج کروانے پر مجبور جہاں عوام کی چمڑی ادھیڑ لی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم اپڈیٹس کی ٹیم نے آر ایچ سی کا دورہ کیا جس دوران یہ بات دیکھنے کو ملی کہ تحصیل دینہ کو صرف نام کا ہی درجہ دیا گیا ہے جب کہ ہسپتال میں بنیادی ضروریات میسر نہیں اور عوام کو طبی حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا ہے ،آر ایچ سی کو 2009ء میں خادم اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے تحصیل ہیڈ کواٹر کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا جو کہ صرف فائلوں کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

آر ایچ سی میں اس وقت صرف 20بیڈ موجود ہیں جو کہ ناکافی ہیں ،ایکسرے کی سہولت میسر نہیں جس کے لیے عوام کو رپورٹ کے لیے جہلم کے چکر لگانے پڑتے ہیں ،بڑے آپریشن کے لئے تمام مریضوں جہلم ریفر کیا جاتا ہے،اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کا سخت فقدان ہے،وزیر اعلی پرویز الٰہی کے دور میں تعمیر ہونے والا برن یونٹ بند پڑا ہے اور عوام کو اس سلسلے میں برن یونٹ کھاریاں جانا پڑتا ہے۔

آبادی کے تناسب سے ڈاکٹروں کی قلت کی وجہ سے صبح سے ہی عوام کا رش لگ جاتا ہے اور پرچی کے لیے مشکلات سے گزر کر اپنی باری کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے ،مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت بھی اس سلسلے میں خاموشی تماشی ہے اور اس سلسلے میں دو بار حکومت میں ہونے کے باوجود عوام کے اس بنیادی مسئلے کو حل کروانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے ، عوام اس وقت مجبور ہیں کہ پرائیویٹ علاج کروائیں جو کہ اتنا مہنگا ہے کہ ایک عام آدمی کے بس کی بات ہی نہیں ۔

عوام الناس نے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل دینہ میں تحصیل ہیڈ کواٹر بنانے کے وعدے کو پورا کریں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button