وچھوڑے کا درد!۔ ابّا جی کی یاد میں

تحریر: پروفیسر افتخار محمود

0

وچھوڑا یعنی جدائی جو وقتی بھی ہو تی اور ابدی بھی ہوتی ہے ۔ وچھوڑا دوران زندگی کسی بھی انسانی رشتے کا ہو سکتا ہے ہر ایک کا اثر برابر ہوتا ہے ، انسانی زندگی میں بعض واقعات اور حادثات ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے نشانات اور نقوش کو وقت کے صحرا میں چلنے والی آندھیاں بھی نہیں مٹا سکتیں ۔زیر نظر سطور کا انتخاب بھی شاید ایسے ہی کسی واقعے کی یاد میں کیاگیا ہے ۔

یہ وچھوڑا یا ابدی جدائی کہہ لیں میرے والد گرامی کی بائیسویں برسی کے موقع پر سپر دقلم کرنے کا خیال آیا لیکن کیوں اور کیسے ؟ اس سوال کا جواب کچھ اس طرح ہے کہ مطالعہ اور قلمی مشق کا سلسلہ تو گزشتہ 38برس سے زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہی بنا ہوا ہے ،1990ء کی دہائی سے کچھ زیادہ تیزی شامل ہے ۔ ابھی سال بھر سے ایک بڑے اردو اخبار کا مطالعہ تو روزانہ کی بنیادوں پر جاری ہے تو اسی معاصر میں ایک مضمون ’’وچھوڑے کا دردحامد علی بیلا اور شاہ حسین ‘‘پڑھ رہا تھا کہ اتنامتاثر ہوا کہ میں نے اپنی ایک حقیقی جدائی کے اثرات کا مشاہدہ کیا تاہم چند ہی لمحوں کے بعد یہ فیصلہ کر لیا کہ اس مرتبہ کیوں نہ یہ دنیا دکھانے والے کی برسی کے موقع پر کچھ سطور سپرد قلم کی جائیںجیسا کہ معروف شاعر استادمحمد ابراہیم ذوق کیا خوب کہہ کر گئے ہیں:۔

رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے رہے یہی دو پُشت چار پُشت

یہ میرے والد گرامی کو خراج عقیدت یا ان کی روح کو ایک تحفہ ہی تصور کرلیا جائے گا ۔ پیشے کے اعتبار سے ایک استاد تھے ۔دستیاب کوائف کے مطابق پیدائش04مارچ 1917ء بمطابق 10جمادی الاول 1335ھ کو تحصیل چکوال کے ایک گاؤں ڈھیری راجگان میں میرے دادا فضل داد کے گھر ہوئی نام جہانداد رکھا گیا۔ یہ ذکر کر کے میرے دل کو بہت ہی ٹھنڈ ک محسوس ہو رہی ہے کہ میرے والد کی گرامی کی پیدائش کوئی عام پیدائش ثابت نہ ہوئی بلکہ اپنے پکھڑال راجپوت خاندان میں ایک انقلاب کاپیغام ثابت ہوئے۔

والد گرامی بتایا کرتے تھے کہ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول جنڈالہ پکھڑال چکوال سے حاصل کی بعد میں مڈل تک گورنمنٹ مڈل سکول غازیال چکوال میں زیر تعلیم رہے ۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر پاک ہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت تھی ۔ مڈل تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد جونیئر ورنیکلر (JV)کی تعلیم کے لیے گورنمنٹ نارمل سکول لالہ موسیٰ ضلع گجرات میں داخلہ لیا یہ قصہ 1934ء کا تحریر کر رہا ہوں ۔ عام گھرانہ تھا معاشی حالات آج سے بہت دگر گوں تھے تاہم فطرت کے احکامات کو ن ٹال سکتا ہے ۔ والد گرامی بتایا کرتے تھے کہ جب وہ بے روزگاری کی آگ میں کندن بن رہے تھے اس دوران انہوں نے دادا جان کے ہمراہ دہلی ،کانپوراور جھانسی تک کے سفر بذریعہ ریل کیے تھے ۔ یہ ان کی جوانی اور لڑکپن کا زمانہ تھا ۔

اپنے خاندان میں تبدیلی کے اس چراغ نے اپنی آبادی اور خاندان کے پہلے استاد کی حیثیت سے 09ستمبر 1941ء کو سوہاوہ ضلع جہلم جو آ ج کل تحصیل کا درجہ پا چکا ہے سے اپنی عملی زندگی کے سفر کا آغاز کیا ۔یہ گورنمنٹ مڈل سکول موجودہ ہائی سکول سوہاوہ اور والد گرامی کی بطور جے وی ٹیچر تقرری ہوئی ۔ یہ وہ دور ہے جب برصغیر میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک علیحدہ ریاست کے قیام کی قرار دار منظور ہو چکی تھی اور تحریک بھی چل رہی تھی لیکن اس قدر تیز نہیں تھی ۔

واضح رہے کہ والد گرامی کی تقرری کا مقام آبائی گاؤں ڈھیری راجگان سے آج کی پیمائش کے مطابق 50کلو میٹر کی مسافت پر تھا تو آج تک ان کے ایسے شاگرد موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ والد گرامی یہ سفر پیدل یا سائیکل پر کیا کرتے تھے ۔ ان ہی دنوں میں والد گرامی کی پہلی شادی اپنی چچا زاددخترمولا دادسے ہوئی جس کے بطن سے ایک بچی پیدا ہوئی لیکن صحت عامہ کی سہولیات نا کافی تھیں زچگی کے فرسودہ طریقوں کی وجہ سے دونوں ماں بیٹی جہان فانی سے کوچ کر گئیں ۔والد گرامی کی زندگی کی ایک غم ناک داستان ہے اسی دور میں میرے دادا فضل داد کا انتقال ہو گیا گھر کی تمام تر ذمہ داریاں سر پر آگئیں دادی جان کے علاوہ ایک چھوٹا بھائی ،دو ہمشیرگان کے ساتھ دو بھانجے اور تین بھانجیاں والد گرامی کی زیر کفالت آگئیں۔

میرے والد گرامی کی فطرت میں دوسروں کے لئے جینا ایک صفت شامل تھی شاید میں اس خصوصیت پر کچھ زیادہ ہی ان کی پیروی کر رہا ہوں۔ ہماری بڑی پھوپھی جان کے شوہر کا انتقال ہو گیا مذکور بیوہ ہمشیرہ اور یتم بچوں کی کفالت والد گرامی کے ذمہ آگئی گھر میں ٹیلرنگ کی محنت بھی ہوتی تھی یعنی والد گرامی کی محنت میں دو ہمشیر گان شریک تھیں۔ اسی دوران والد گرامی نے اپنے چھوٹے بھائی کو بچوں جیسا پیار دیا اور خوب تعلیم سے آراستہ کیا انٹرمیڈیٹ کے بعد جے وی تک تعلیم دلوائی ۔ اس دور میں صرف ایک ایکس سروس مین نام کی بس دن بھر میں ایک دفعہ جایا اور آیا کرتی تھی جو ڈھڈیال سے براستہ بھیں ،پادشاہان، ملہال مغلاں کچی سڑک سے جہلم تک جاتی تھی باد شاہان کے رہائشی سمندر خان نامی بس کے ڈرائیور ہوا کرتے تھے ۔

والد گرامی بتایا کرتے تھے کہ1943ء کے دوران آبائی گاؤں ڈھیری راجگان میں طاؤن کی مہلک وبا پھیل گئی جس کے نتیجے میں پوری آبادی میں اموات واقع ہو گئیں اپنے گھرسے اس وبا کی زد میں تین افراد اآئے ایک پھوپھی جان اور ایک چچا اور دادا جان ۔چچا جان اللہ داد جو بیماری سے محفوظ رہنے کے لیے میری جائے پیدائش پڑی درویزہ منتقل ہوئے لیکن کوشش رائیگاں گئی کیونکہ موت کا وقت اور جگہ مقرر ہے۔

پڑی درویزہ تحصیل سوہاوہ میں دادا جان فضل داد نے 1937ء میں ایک ہندو رگو ناتھ ولد گور دت سنگھ سے قطعہ اراضی خریدا تھا ۔ طاؤن کی وبا کے دوان سرکاری طور ابا جی کو سکول سے چھٹیاں دے دی گئیں ۔ اس بیماری کے دور میں کچے چھتوں سے چوہے گرتے تھے اللہ معاف کرے سوہاوہ میں دوران ملازمت اپنے چھوٹے بھائی شہباز خان کو بچوں کی طرح اپنی ماہیت میں رکھا اور تعلیم کی تکمیل کا پورا موقع دیا۔1947ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آگیا ، والد گرامی عا م تدریس کے علاوہ بطور پی ٹی ماسٹر بھی فرائض انجام دیتے تھے ۔ اس وقت کے شاگران میں سے آج بھی سوہاو ہ میں ممتاز انقلابی پوٹھوہاری ، اردو کے شاعراور راقم الحروف کے نظریاتی قائدزمان اختر زندہ جاویدہیں بتاتے ہیں کہ والد گرامی کی پی ٹی یا پریڈ دیکھنے اُس دور میں جی ٹی روڈ پر مسافر بسیں تک رک جاتی تھیں ۔

والد صاحب ایک قد آور شخصیت کے مالک تھے سر کے اوپر خوبصورت دستار مبارک رکھا کرتے تھے ۔والد صاحب کا پہلا ملازمتی تبادلہ سوہاوہ سے1950ء کی دہائی کے آغاز سے گورنمنٹ مڈل سکول غازیال چکوال ہو گیاغازیال سکول میں فرائض معلمی کے دوران کا ایک تاریخ ساز واقع جو قارئین محترم کی دلچسپی اور راسخ العقیدگی کے لیے بھی موئثر ہوگا والد گرامی کے مطابق سخت گرمی کا موسم تھا بارش کادور دور امکان نہیں تھا کہ’’گورنمنٹ مڈل سکول غازیال میںاُس وقت کے ہیڈ ماسٹر (کوئی مذہبی عقیدت مند شخصیت تھے ) نے علاقہ بھر کے عوام سے اپیل کہ وہ غازیال آبادی کے ساتھ واقع ایک خشک جوہڑ ( تالاب ) میں جمع ہو جائیں دعا کریں گے ۔

والد گرامی بتایا کرتے تھے کہ سخت دھوپ میں ننگی زمین پر بیٹھ کر دو عدد نماز استثقا ء اداکرنے کے بعد ان ہیڈ ماسٹر صاحب نے شرکاء کو دعا کے لیے ہاتھ الٹے رخ کرنے کی ہدایت کی اور فارسی زبان میں ایک دعا کی ترجمے کا علم نہ ہو سکا لیکن والد صاحب کے مطابق دعا ختم ہوئی سب لوگ غازیال آبادی سے واپس سکول جارہے تھے کہ سر راہ ایک بادل آسمان پر نمودار ہوا کچھ ہی لمحوں میں بارش شروع ہو گئی اس قدر موسلادھار مینہ برسا کہ پانی سکول تک پہنچنے سے پہلے ہی پانی سر سے پاؤں تک بہہ گیا ۔ یہ سچا وقت تھا کہ اتنا جلد دعا نے اثر دکھا دیا ۔ پھر کچھ عرصہ گورنمنٹ مڈل سکول ملہال مغلاں میں بھی فرائض تدریس ادا کرتے رہے یہاں سے بطور معلم گورنمنٹ مڈل سکول ڈھڈیال چکوال تبدیل ہو گئے ، ان دنوں پنجابی زبان کے معروف شاعرعاشق حسین قلمی نام ماجد صدیقی (آبائی تعلق علاقہ نور پور سیتھی ضلع چکوال )اعلیٰ تعلیم یافتہ لیکن بطور جے وی ٹیچر ڈھڈیال میں ہی تھے بعد میں پنجاب پبلک سروس کمشن کا امتحان پاس کر کے راولپنڈی کے کسی بڑے سرکاری کالج میں بطور لیکچرر تعینات ہوگئے تھے ۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے پنجابی زبان میں ’’ساہواں لیندی اکھ ‘‘اور ’’وتھاں پاندے ہتھ‘‘ ماجد صدیقی کی دو تصانیف تھیں۔ 1965کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر تخلیق کی تھیں اور اعلان کیا تھا انکو فروخت کرکے وصولی قیمت دفاع وطن فنڈ میں عطیہ کریں گے۔والد صاحب بتایا کرتے تھے کہ پروفیسر ماجد صدیقی کوپنجابی زبان میں ایک تصنیف پر اُس وقت کی حکومت پاکستان کی طرف سے بڑے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔یہاں ایک خاص واقع جس سے والد محترم کی دیدہ دلیری اور احساس ذمہ داری کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔

خیال یہ ہے کہ ان دنوں والد صاحب گورنمنٹ مڈل سکول ڈھڈیال میں بحیثیت ہیڈ ماسٹر فرائض سر انجام دے رہے تھے کہ ایک روز سکول سے چھٹی کے وقت ساتویں جماعت کے ایک طالب علم کو دو افراد نے سکول کے دروازے سے اغوا کر لیا ، باقی طلباء نے والد صاحب کو فوری طور پر اطلاع کی تو والد گرامی نے بلاتاخیر تھانہ چکوال میں درخواست برائے اطلاع اغوا طالب علم ارسال کر دی تو طالب علم چونکہ ماں اور باپ کی ناراضگی کی وجہ سے ننہیال میں رہائش پذید تھا اغوا میں اس کے والد کا ہاتھ تھا ۔ تھوڑی دیر میں طالب علم کے نانا ، نانی اور والدہ سکول پہنچے بہت تعریف کی تو والد محترم نے انہیں بتایا کہ طالب علم گھر سے سکول اور واپسی تک اساتذہ کی امانت ہوتا ہے ،آج کے اساتذہ کو کچھ سوچنا پڑے گا۔

1941ء میں پہلی زوجہ محترمہ کے انتقال کے بعد والد گرامی کی زندگی کے سفرمیں 14سال تنہا بیت گئے۔ 1954ء میں میر ی والدہ محترمہ سے دوسری شادی ہوئی جن کا تعلق گوجرخان سے ہے۔اس دور میں میرے چچا جان شہباز خان انٹرمیڈیٹ جے وی کر کے بطور استاد بھرتی ہو چکے تھے اس طرح والد محترم کی ذمہ داریاں بٹ گئی تھیں ۔ 1958ء میں میرے بڑے بھائی اشتیاق محمود پیدا ہوئے جو ساڑھے تین سال تک زندہ رہے لیکن کان کے ساتھ ایک پھنسی ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی ۔مئی 1963ء میں میری پیدائش ہوئی پھر تین سال بعد میرا چھوٹے بھائی ضیاء محمود پیدا ہوا جو صرف ساڑھے تین ماہ تک زندہ رہ سکا ان دنوں ابا جی ڈھڈیال سے گورنمنٹ مڈل سکول باد شاہان تبدیل ہو چکے تھے ڈھڈیال قیام کے دوران امی جان ہم سب ابا جی کے ساتھ رہے یہیں ابا جان کو ایس وی ( سینئر ورنیکلر ) کا پیشہ ورانہ کورس کرنے کا موقع دیا گیا جو کامیاب کر لیا ۔اس وقت میرے پھوپھی زاد برائے حصول تعلیم اور چچا جان بھی ڈھڈیال میں بسلسلہ ملازمت ہمارے ساتھ تھے ۔

ایس وی(SV)سینئر سرنیکلر کا گریڈ ملنے پر گورنمنٹ مڈل سکول بادشاہان چکوال بطور ہیڈ ماسٹر تقرری ہو گئی جس روز ابا جی نے اپنے فرائض منصبی سنبھالے ایک عجیب واقع ہے کہ دن نو بجے سکول پہنچے سرپر اونچی پگڑی دیکھ کر پہلے سے موجود ہیڈ ماسٹر نسیم صدیقی نے کوئی فوجی جوان تصور کرتے ہوئے والہانہ استقبال کیا جب والد محترم نے اپنی تقرری کے احکامات سابق ہیڈ ماسٹر کے حوالے کیے تو انہوں نے خوب کہا ’’ اچھا اچھا اپنی برادری کے ہیں ‘‘ والد محترم نے چارج سنبھالا اور اپنی طرف سے حکم دیا کہ سکول کا آغاز دوبارہ سے کیا جائے اعتراض ہو ا والد محترم کا جواب واضح تھا کہ نئے سربراہ ادارہ نے چارج سنبھال لیا ہے اس لیے حکم پر عمل ضروری ہے ۔ گھنٹی بجائی گئی باقاعدہ اسمبلی ہوئی دعا کے بعد نئے سربراہ ادارہ کی حیثیت نے والد صاحب نے اساتذ ہ کرام کو ہدایت کی کہ طلباء میں سے کوئی اچھا مقرر ، نعت خوان یا قاری پیش کیا جائے کچھ طلباء نے سٹیج پر نعت خوانی اور تقاریر کا مظاہرہ کیا تو والد محترم نے اُس دور میں دس دس روپے فی کس کے بطور انعام تقسیم کیے۔

سکول کی اسمبلی سے ایک مختصر خطاب کیا بتایا کہ انہوںنے بطور نئے ہیڈ ماسٹر کے چارج لے لیا اور اس آمد نو کی خوشی میں سکول میں آج چھٹی کی جاتی ہے جبکہ اگلے روز سے بروقت سکول کا آغاز ہو گا ۔ یہ واقع اس لیے رقم کیا گیا کہ آج جب ہماری نظام تعلیم جدت کے نام نہاد نظام کی وجہ سے مسخ ہو رہا ہے آج کے سربراہان ادارہ کے لیے شاید کوئی سبق فراہم کر سکے ۔ باد شاہان تبادلہ ہونے پر میں اور امی جان یہاں پڑی درویزہ منتقل ہوگئے گورنمنٹ مڈل سکول باد شاہان چکوال میں سات سال رہنے کے بعد اپنی ملازمت کی آخری منزل گورنمنٹ مڈل سکول مینگن چکوال میں منتقل ہو گئے۔

میں ان دنوں جماعت سوم میں تھا کہ55سال کی عمر میں رائج الوقت قواعد کے مطابق یکم مارچ 1973ء کو ابّا جی 31سال چار ماہ کی ملازمت مکمل کر کے ریٹائر ہو کر گھر آگئے کوئی خاص آگے نہ جا سکے اپنی چھوٹی دوکان کا تجربہ بھی کیا لیکن کامیاب نہ ہوئے کیونکہ ہر انسان کا اپنا شعبہ ہوتا ہے اسی میں وہ تجربہ کار ہو تا ہے ۔ 1975ء میں راقم الحروف کی ایک بہن پیدا ہوئی جس کا نام محمودہ مریم رکھا تھا لیکن شومئے قسمت سے 24گھنٹے دنیا کی رت سے لطف اندوز ہو کر واپس عالم برزخ میں چلی گئی میرے والد محترم کو محمود اور محمودہ نام بہت پسند تھے بتایا کرتے تھے یہ نام ان کے ایک انسپکٹر آف سکولز کے بچوں کے نام تھے ۔والد گرامی کی زندگی کے کئی یاد گار واقعات ایک کتاب کی طرح ہیںجو میں صرف ایک قارئین کی دلچسپی کے لئے زیر تحریر لا رہا ہوں شاید ان کا کوئی شاگرد یہ تحریر پڑھے تو یاد تو کرے ۔

بتایا کرتے تھے کہ اس دور میں بھی ملازمین اپنے حقوق کے لیے جلوس یا ہڑتال کی شکل میں احتجاج کیا کرتے تھے۔ اس وقت ایک جے وی ( موجودہ پی ٹی سی) ٹیچر کی ماہانہ اجرت مبلغ 18روپے اور ایک ایس وی (سینئر ورنیکلر)آج کا سی ٹی اب ای ایس ٹی بھی کہا جاتا ہے کی ماہانہ اجرت مبلغ 20روپے مقرر تھی تو ضلعی صدر مقام جہلم میں ایک جلوس نکالا گیا جس کا نعرہ تھا ’’ ہم کیا چاہتے ہیں انصاف ، پچاس اور ساٹھ ‘‘ حکومت کی طرف سے پابندی تھی کہ چار افراد سے زائد اجتماع نہیں کر سکتے تو اُس وقت کی ٹیچر یونین نے چار چاراساتذہ کی قطاریں تقسیم کردیں جلوس کامیاب ہو گیا ۔ اسی طرح ابا جی سوہاوہ سکول کا ایک واقع سنایا کرتے تھے کہ اپنے حقوق کے لیے ہڑتا ل کی گئی سرکاری پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ہڑتا ل ناکام یا ختم ہو گئی ہے لیکن والد صاحب اور ان کے ایک دوست محمد امین شاہ نے ہڑتال اپنی قیادت کی طرف سے تحریری اطلاع آنے تک ہڑتا ل نہ چھوڑی محکمہ تعلیم کی انتظامیہ کے حربے کامیاب نہ ہونے دیے جس کو عوام کی طرف سے خو ب سراہا گیا۔

1980ء کے آغاز پر راقم الحروف انٹرمیڈیٹ تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک غیر تربیت یافتہ استاد کی ملازمت اختیارکی تو والد محترم میری تقرری کے روز بھی ساتھ تھے اور اوپر بیان کردہ بادشاہان والی مشق ایک بار پھر دہرا دی جو گورنمنٹ پرائمری سکول پنڈ متے خان تحصیل سوہاوہ میں ہوئی تھی۔ایک سال بعد میں نواحی گورنمنٹ پرائمری سکول دئیوال آگیا ۔ اس عرصہ میں ابا جی کو گھٹنوں کے درد کا عارضہ لاحق ہو گیا چھ ماہ تک مبتلا رہے آخر ایک انگریزی دوا’’ فینائل بیوٹا زون کیلشیم‘‘ کے ذریعے صحت یاب ہو ئے بعد میں ایک علاقائی سفر کے دوران ٹریفک حادثہ کا شکار بھی ہوئے گلے کے نیچے ہنسلی کی ہڈی متاثر ہوگئی ایک تجربہ کار ہڈی جوڑ معالج گستاسب از پھپھیل گاؤں کے علاج کے نتیجے میں صحت یاب ہو ئے ۔میں1985ء میں مستقل ملازمت کے سلسلے میں پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ کینٹ چلا گیا ۔

پسر واحد ہونے وجہ سے گھر میں جدائی اور تنہائی دونوں کا عالم پیدا ہو گیا ۔ والد صاحب مختلف اعصابی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو گئے جن کا خاطر خواہ علاج نہ ہو سکا ۔ بس کم علمی کی وجہ سے توہمات کا سہارا لیا جاتا رہا جو قطعً درست نہ تھا ۔ آخر کار 79سال کامیابیوں ، پریشانیوں کی عمر مکمل کرتے ہوئے روح 08اکتوبر 1996ء بروز جمعرات بمطابق 26جمادی الاول 1417ھ کو رات نو بجے روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی نماز جنازہ اگلے روز جمعۃالمبارک کو سہ پہر تین بعد 09اکتوبر 1996ء بمطابق 27جمادی الاول 1417ھ کو اداکی گئی ۔غربی قبرستان پڑی درویزہ میں دفن کیا گیا۔

مجھے اپنے والد گرامی سے کبھی نہ بھولنے والا پیار ملاباہوش زندگی میں ایک دن بھی غصے کی نگاہ سے نہ دیکھاحالآنکہ ذاتی طور پر بہت ہی غصے کے مالک تھے، کیونکہ میرا بچپن جوانی اور لڑکپن تک بیماریوں میں گزرا میری پریشانی کی وجہ سے کئی مرتبہ انہیں نم آنکھوں کے ساتھ دیکھا میں اکلوتی اولاد تھا یہی وہ باتیں ہیںجن کی وجہ سے میں یہ سطور تاریخ کے طور پرچھوڑ رہا ہوں۔ کاش کہ ہر فرد کو ایسے والدین نصیب ہوں جنہیں وہ زندگی بھر یاد رکھے۔پھر میرا کسی سفر سے واپس آنا تو راستے تک چلا جانا بے تابی سے انتظار کرنا الوداعی کے وقت خصوصاً ساتھ جانا گاڑی میں سوار ہونے تک موجود رہنا ،کیا کچھ یاد کروں گا ان نہ ختم ہونے والی یادوں کا کوئی شمار ہی نہیں،اپنے قارئین کے لئے ایک یاد گار تحریر پیش کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور اس روح کو ایصال ہو جائے جس کو یاد کر رہا ہوں ۔

مرنے والے مرجاتے ہیں
دنیا خالی کر جاتے ہیں

فون نمبر :۔ 0301/03065430285
ای میل :۔ [email protected]

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.