پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال

مصدقہ کیسز
80,463
+4,065 (24h)
اموات
1,688
+67 (24h)
صحت یاب
28,923
35.95%
زیر علاج
49,852
61.96%
کالم و مضامین

کورونا بحران اور کرنے کے کام

زندہ قوموں کی زندگی کی پہچان ہمیشہ ان پر آنے پر آنے والی مشکلات پر ان کے رد عمل سے ہوتی ہے اگر وہ مشکل وقت میں متحد،منضبط اور با حوصلہ رہے تو اس کی مشکل نہ صرف آسان ہو جاتی ہے بلکہ قدرت ان کے لئے امکانات اور مواقع کا ایک حسین پیکج لئے کھری ہوتی ہے اور جو قوم حوصلہ اور ہمت ہار جائے وہ عبرت کا نشان بن کر تاریخ کے کوڑے دن کا رزق بن جاتی ہے۔

وطن عزیز پاکستان بھی روز اول سے مصائب و مشکلات کا شکار رہا ہے کچھ مشکلات قدرت کی طرف سے آئیں کچھ ہماری اپنی کارستانیوں کی وجہ سے آئیں وجہ کچھ بھی رہی ہو قدرت ہمیں کندن بنانے کے لئے کسی نہ کسی چلینج سے ہمکنار کرتی رہی لیکن ہر مشکل سے نئے امکانات اور کامیابیوں نے جنم لیا 1965کی جنگ ہمارے لئے ایک بہت برا چلینج تھا جب ہماری ہستی کے برقرار رہنے یا نا رہنے کا سوال پیدا ہو گیا تھا مگر قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن کے آگے تن گئی اور اپنے سے سات گنا بڑے اور برے دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔

من حیث القوم ہم نے ایثار،قربانی، خدمات اور امداد باہمی کا لازوال مظاہرہ کر کے اپنا وجود بھی برقرار رکھا اور اپنی حربی صلاحیتوں کا دنیا سے لوہا منوایا مگر پھر 1971 میں اپنے ہی نفاق،معاملہ ناشناسی اورآاپس کی نفرت وکدورت سے وقت کی باگیں اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیں تو قدرت نے ہمارا ایک بازو ہم سے جدا کر کے نیا سبق دیا پھر ہم سنبھلے غلطیوں کو سمجھا،محنت کی اور انعام کے توڑ پر اللہ کریم نے ہمیں عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا دیا۔

2005 کے تباہ کن زلزلے میں جہاں ہمارا بہت نقصان ہوا وہیں قوم کو ایمان یقین اور اتحاد کی بے پناہ طاقت بھی ملی قوم جسد واحد کی طرح متحد ہوئی اور ایک دوسرے کے زخموں اور دکھوں کا مداوا مل کر کیا اور نئے امکانات کے طور پر قدرتی آفت کی صورت میں فوری کام کرنے والے ادارہ وجود میں آئے اور اب عالمی وبا کورونا وائرس نے وطن عزیز میں اپنے پنجے گاڑ دئیے ہیں اور تیزی سے اپنے شکار بڑھا رہا ہے قوم میں مایوسی اور غم اور مصیبت و ابتلا کا ایک اور دور چل رہا ہے قدرت ایک بار پھر چاہتی ہے کہ ہم اس امتحان میں نہ صرف اپنے حقیقی خالق سے لو لگائیں اور اس کی نصرت کے ساتھ اس مشکل سے بھی سرخرو ہو جائیں۔

اس وقت حالت یہ ہو گئی ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار مزدور،بیوائیں، یتیم بچے اور ضعیف غریب لوگ گھروں میں محدود ہونے کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا سے محروم ہو رہے ہیں اور اس سے پہلے کے ایک المیے سے دوسرا المیہ جنم لے اور لوگ کرونا سے تو بچ جائیں مگر بھوک اور پیاس سے مر جائیں اب ہم سب کو آگے آنا ہے اور مواخات مدینہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے غریب بہن بھائیوں کی دامے،درمے اور سخنے مدد کرنی ہو گی اس کے لئے درج ذیل اقدامات کرنا از حد ضروری ہو گیا ہے ۔

تمام سر مایہ داروں،صنعتکاروں اور جاگیرداروں کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور کروڑوں میں سے چند لاکھ حکومتی فنڈ میں جمع کرانے چاہیں ۔

میڈیا ہاؤسز کو مسلسل ٹیلی تھان نشریات کے ذریعے فنڈز اکٹھے کرنے کی مہم چلانی چاہیے تا کہ جلد از جلد مستحق لوگوں تک اس فنڈ سے راشن پہنچانے کے عمل کو حکومت آگے بڑھا سکے ۔

عام لوگ اپنی گلی اور محلے کے ضرورت مند لوگوں کی مدد کریں کیونکہ محدود دائرے میں نظر رکھنا اور مدد کرنا آسان بھی ہوتا ہے اور ممکن بھی

طلبہ و طالبات آج کل فارغ ہیں تو انکو ورک فورس بنایا جائے اور گھر گھر جا کر لوگوں تک ان کی روٹی کا سامان پہنچائیں ۔ تمام واٹس گروپس اپنے اپنے ممبران کی مدد سے کمیٹی اور فنڈ قائم کریں اور عملی طور پر لوگوں کی مدد کریں ۔

قارئین: مشکل اور مصیبت کسی پر اور کسی وقت بھی آ سکتی ہے مگر آج ہم پر فرض ہے کہ اپنی اپنی جیبوں اور دلوں میں گنجائش پیدا کریں تو عرش معلی سے بھی غیبی مدد شامل حال ہو گی اور اس بحران سے بھی قوم نکل جائے گی۔۔۔۔ انشاءاللہ!

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر
خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close