جہلم

ضلع جہلم کے بیشتر دیہاتوں میں پینے کا صاف پانی نایاب، عوام مہلک امراض کا شکار

جہلم: محکمہ پبلک ہیلتھ کی نااہلی کے باعث ضلع جہلم کے بیشتر دیہاتوں میں پینے کا صاف پانی نایاب، شہری ناقص پانی کے استعمال سے مہلک امراض کا شکار ہونے لگے، ضلع جہلم کے سینکڑوں شہری ہیپا ٹائٹس اورجگر کے عارضہ میں مبتلا ہونے لگے ۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی ، ڈپٹی کمشنر جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہرو گردونواح کے علاقوں میں پینے کا پانی انتہائی غیر معیاری اور ناقص ہو چکاہے جس کے استعمال سے شہری مہلک امراض کا شکار ہو رہے ہیں ، جہلم شہر کے علاوہ دیہی علاقوں میں محکمہ پبلک ہیلتھ کے افسران کی عدم دلچسپی کے باعث پینے کا پانی انتہائی بدبو دار ، کڑوا اور غیر معیاری ہو چکا ہے جہاں شہریوں کو انتہائی پریشانی اور ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، دیہی علاقوں میں صاف پانی کے لئے کوئی مناسب حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

جہلم کے 90 فیصد دیہاتوں کا پانی انسانی صحت کے لئے مضر قرار دیا گیا ہے غیر معیاری اور مضر صحت پانی پینے کی وجہ سے لوگ جگر،معدہ ،ہیپا ٹائٹس ، گردے ، کالا یرقان سمیت دیگر مہلک امراض کا شکار ہو رہے ہیں ، مسلسل غیر معیاری پانی کے استعمال کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں دن بدن تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، ناقص و غیر معیاری پانی کے استعمال کی وجہ سے شہریوں میں پائی جانے والی بیماریاں جگر ، گردے ، ہیپاٹائٹس کا علاج انتہائی مہنگاہے جس کے لئے غریب شہری اپنی ہمت ہار دیتے ہیں۔

جہلم شہر کے سمیت مضافاتی علاقوں میں پانی بدبودار ہونے کیو جہ سے شہری دور دراز سے پانی لانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بعض مقامات پر شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کروا رکھے ہیں جہاں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث شہری غیر معیاری اور مضر صحت پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی لیبارٹری نے شہر سمیت مضافاتی علاقوں کا پانی غیر معیاری قرار دے رکھا ہے ، منتخب عوامی نمائندے عوام کو پانی جیسی بنیادی سہولت فراہم کرنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہے ۔

منتخب عوامی نمائندے بلندو بانگ دعوے کرنے کی بجائے شہریوں کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دیں تاکہ شہری بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button