کالم و مضامین

کہہ دو۔۔۔۔۔ اب بس — تحریر: اِسماء مسعود

سمجھ نہیں آ تا کہاں سے لکھنا شروع کروں اور کیا لکھوں آج تو میرا قلم بھی میرا ساتھ دینے کو تیار نہیں شاید اسے بھی معلوم ہے کہ میں ظلم و بربریت، سفاکیت، حیوانیت اور درندگی کا شکار ہونے والی اس لڑکی کے بارے میں لکھنے جارہی ہوںجس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ گھر سے باہر قرآن پاک پڑھنے کے لیے نکلی تھی قصور سے تعلق رکھنے والی اس معصوم کلی کا کیا قصور تھا کہ اسے مسل کرکچرے کے ڈیر پر پھینک دیا گیا تھا ۔

سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے کو ہو کیا گیا ہے کہ آج ہماری ماں بہنوں بیٹیوں کا عزت محفوظ نہیں۔زینبؑ ،فاطمہ ؑہو یا طیبہ کسی نہ کسی صورت میں حوا کی یہ بیٹیاں ظلم کی اس چکی میں پس رہی ہیں زینب کے ساتھ ہونے والا یہ دلخراش واقع ہمارے رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی نہیں کہ اب تو ہم اپنا قبلہ درست کریں۔ ایک وہ زینب ؑ تھیں جس نے یزید کے محلات کو ہلا کر رکھ دیا تھا تو وہاں سناٹاچھا گیا تھا اور ایک زینب یہ ہے جس نے پورے پا کستان کی فضا کو سوگوار کر رکھا ہے۔

اس واقع نے پورے ملک کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیسے ہمارے ملک کے حالات اتنے خراب ہو گے کہ آج ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں رہے ایک وہ وقت تھا جب ہمارے بزرگوں نے اس ملک کو حاصل کرنے کیلے قیمتی جانوں کا نذزانہ پیش کرکے اس ملک کو حاصل کیا تھا ۔تاکہ پاکستان میں انکی ماں بہنوں،بیٹیوں، بچوں کی عزت محفوظ رہے گی۔ یہ سوچ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ آج اسی وطِن عزیز میں ہمارے بچے تک محفوظ نہیں رہے۔اب ہمیں خود ہی ہمت کرنا ہو گی،معاشرے کو سدھارنے کی پوری کوشش کرنا ہو گی، معاشرے سے برائی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔

یہ واقعہ کسی قیامت سے کم نہیں کہ2017میں تقریبا 768 بچوں سے ذیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن کے مطابق ان ننھی معصوم کلیوں کو بڑی بے رحمی سے کچل دیا گیا ان سب کا ذمہ دار کون ہے ؟ہم ہمارے نام نہادسیاستدان جنہیں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے علاوہ کسی بات سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ یہ واقعات کونسا انکی اپنی بیٹیوں کے ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ جب بھی اسطرح کے واقعات رپورٹ ہوئے تو یہ ظلم ہمیشہ ایک لاچار ،مظلوم ،بے بس غریب کی بیٹی پر ہی ان کا نشانہ نبتی ہے۔ کیونکہ انکے پاس تو کوئی پروٹوکول جو نہیں ہوتا ۔اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والے سیاستدان جو خود کو دودھ کادھلا ثابت کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے ہیں اور جب متاشرا خاندان سے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کرنے جائیں تو میڈیا پروٹوکول کے ساتھ کیونکہ کیمرے کے بغیر ان سے کوئی اچھا کام نہیں ہوتا ۔اس حادثے نے پنجاب حکومت کی گڈ گورنس پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں ۔

مقامی اور عالمی میڈیا پر کوریج اورسپریم کورٹ ،ہائی کورٹ اور آرمی چیف کے نوٹسز نے پنجاب پولیس کی دوڑیں لگوا دیں۔150ڈی این اے ٹیسٹ ہونے کے بعد معصوم زینب کا قاتل قانون کے شکنجے میں آہی گیا اب قانون نافذکرنے والے اداروں سے اپیل ہے کہ اس درندے کو جلد از جلد کیفرے کردار تک پہنچایا جائے۔قصور کے عوام میں دوڑتی غم وغصے کی لہرجائز ہے کیونکہ قصور میں یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں اس سے پہلے بھی بچوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات کی ویڈیوز منظرِ عام پر آئی تھی اگر تب ہی کوئی مناسب حکمتِ عملی اپنائی جاتی ان جرائم کی روک تھام کے لیے تو یہ حادثہ پیش نہ آتا روز بروز یہ بڑھتے حادثہ لمحہ فکریہ ہیں کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جارہاہے ہمیں اب بیدار ہونا ہوگااور ہمارے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اور ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور کہنا ہو گا ۔۔۔اب بس!!!!

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button