جہلم انتظامیہ اور منتخب نمائندے۔ چوہدری فرخ الطاف متحرک۔ وفاقی وزیراور ڈپٹی کمشنر کے نام پر لوٹ مار

تحریر: محمد شہباز بٹ

0

جہلم میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں سابق ضلع ناظم چوہدری فرخ الطاف کی قیادت میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام ہوئے،سیاستدان چاہے اسوقت کے وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین ہوں،ممبران صوبائی اسمبلی یا تحصیلوں کے ناظمین سبھی متحرک دکھائی دیتے تھے یہاں تک کہ نچلی سطح پر یونین کونسلز کے ناظمین اور کونسلرز بھی عوامی خدمت میں پیش پیش تھے۔

ضلعی افیسران سے لیکر نائب قاصد تک ہر کوئی جوابدہ تھا،مجھے بطور رپورٹر کچھ تحفظات تھے اس جرم کی پاداش میں جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی لیکن اسکے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسوقت سابق ضلع ناظم چوہدری فرخ الطاف بہترین ایڈمنسٹریٹر تھے اسکی وجہ شاید اختیارات بھی تھے لیکن اختیارات کے ساتھ ساتھ انکی ضلعی افسران پر گرفت بھی مضبوط تھی،الزام لگانے والے تو نہ جانے کیا کیا کہہ جاتے ہیں لیکن میں نے ضلع ناظم دفتر میں میٹنگ کے دوران کرپشن کرنے پر انہیں سرکاری افسران کی سرزنش کرتے ہوئے بھی دیکھا۔

کمال اسٹائل اور کمال کی حکمرانی تھی چوہدری فرخ الطاف کی،،سیاسی مخالفین کا بھی انہیں بخوبی علم تھا،اپوزیشن میں آئے تو سرے عام اکیلے اپنی گاڑی پر بغیر محافظوں کے حلقے میں گھومتے دکھائی دئیے جبکہ انکو گھسیٹنے کی باتیں کرنے والے آپس میں لڑتے جھگڑتے رہے اسکے بعد (ن)لیگ نے کلین سویپ کیا۔

خواتین کی مخصوص نشست بھی حاصل کی لیکن وزارت کسی کے ہاتھ نہ آئی (ن)کے دور حکومت میں شہباز شریف کے دور حکومت میں انتظامیہ بے لگام رہی،ممبران اسمبلی کو کسی نے لفٹ نہ کروائی،،،یہاں تک کہ موٹر سائیکل بند ہونے اور پتنگ بازی پر پکڑے جانے والے کارکنان کو بھی منتخب نمائندے نہ چھوڑا سکے۔

ایم این اے اور ایم پی اے کے سرکاری افسر بھانجے کو دفتر سے دہشت گردوں کی طرح گرفتار کیا گیااور صورتحال اب بھی کچھ ویسی ہی دکھائی دیتی ہے پاکستان تحریک انصاف برسر اقتدار ہے وزارت بھی ہے لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے انتظامیہ آج بھی (ن)لیگ کی ہے،منتخب نمائندوں کو شائد لفٹ نہیں کروائی جا رہی۔

وفاق کی وزارت ہونے کے باوجود جہلم میں انتظامیہ (ن)لیگ کی محسوس ہوتی ہے،ایک صوبائی وزیر کی چونکہ جہلم میں (ن)لیگ کے سابق ممبران سیرشتہ داریاں ہیں اس لیے شائد آج بھی انکی چلتی ہے،کلین اینڈ گرین مہم ہو یا کوئی اور تقریب ہر جگہ پر ضلعی افیسران کا فوٹو سیشن ہوتا ہے،کھلی کچہریوں میں بھی ممبران اسمبلی کو مدعو نہیں کیا جاتا،ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اگلا الیکشن ضلعی افسران نے لڑنا ہے،پی ٹی آئی کے کارکنان مایوسی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

یہاں صورتحال یہ ہے کہ وفاقی وزیر کے حلقے کے دیہاتوں میں پنڈدادنخان انتظامیہ بے چارے چھوٹے دکانداروں کو جرمانوں کی مد میں تنگ کر رہی ہے،اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت پنڈدادنخان غریب دکانداروں سے وفاقی وزیر فواد چوہدری اور ڈپٹی کمشنر کا فنکشن کروانے کے نام پر ہر دکاندار سے ایک ایک ہزار روپے وصول کر رہا ہے،بھتہ نہ دینے والے غریب دکانداروں کو پانچ سے دس ہزار روپے جرمانے اور مقدمات درج کروائے جاتے ہیں۔

کسی نے نوٹس تک نہ لیا اور ایسی ہی صورتحال جہلم کی سبزی منڈی کے باہر بھی پیش آئی جہاں مارکیٹ کمیٹی کے اہلکاروں نے کلوز سرکٹ کیمرے لگانے کے بہانے ریڑھی بانو سے پانچ پانچ سو روپے وصول کیے،،،جس طرح (ن)لیگ کے دور حکومت میں (ن)لیگی کارکنان سے ہوتا تھا آج بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔

میرٹ کا مطلب ہے سب کے ساتھ برابری کی سطح پر سلوک ہو،لوگوں کے کام کان میرٹ پر ہوں لیکن میرٹ کا یہ مطلب ہرگرز نہیں کہ کسی منتخب نمائندے کی سفارش پر میرٹ پر بھی کام نہ ہو اور وہی شخص اسی افسر کو دس ہزار دیکر وہ کام کروا لے،،،،یہ سب کچھ ہو رہا ہے،آج بھی سول اسپتال میں جعلی میڈیکل لیگل رپوٹیں تیار ہو رہی ہیں۔

آج بھی لڑائی جھگڑوں کے مقدمات میں ہڈی جوڑ توڑ مافیا اپنا کام دکھاتا ہے،آج بھی ڈاکٹروں کی کمی ہے اور مریضوں کو اسلام آباد یا راولپنڈی ریفر کر دیا جاتا ہے،آج بھی محکمہ مال میاں رشوت کا بازار گرم ہے،تھانوں میں کرپشن ہے اور حقیقت یہ کہ آج بھی انتظامیہ بے لگام ہے اور جبکہ ممبران اسمبلی کو بااختیار نہیں بنایا جاتا یہ سسٹم ایسے ہی چلتا رہے گا۔

سیاست ایسی چیز ہے جس میں وفاداریاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں،لوگ ادھر سے ادھر ہوتے رہتے ہیں پی ٹی آئی کے ایک راہنماء کا کہنا ہے کوٹلہ فقیر میں پی ٹی آئی پہلے سے بھی مضبوط ہو گئی ہے۔

منور منہاس نے مشرف کے دور حکومت میں کامیابی حاصل کی تھی اور آج وہ لدھڑ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں ادھر حلقہ این اے66میں بھی وفاداریاں تبدیل ہو رہی ہیں،یونین کونسل نگیال مائر میں جلسہ عام کے دوران چوہدری انصر بشیر،چوہدری خضر،چوہدری اللہ دتہ،چوہدری جاوید نائیک،ملک کاشف،ملک نعمت اور لالہ یعقوب نے پاکستان مسلم لیگ(ن)اور چوہدری ثقلین گروپ کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

پی ٹی آئی کے ایک راہنماء کا کہنا ہے کہ بہت جلد از علاقے سے(ن)لیگ کی ایک بڑی وکٹ بھی گرنے والی ہے، چوہدری فرخ الطاف اپنے حلقے میں متحرک اور انکے دروازے بھی اس بار کھلے ہیں،وفاقی وزیر کی چونکہ اسلام آباد میں مصروفیات ہیں لیکن انہیں بھی حلقے میں ٹائم دینے کے ساتھ ساتھ خود نمائی کے متحمل چند افسران کو تبدیل کروانا ہو گا۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.