گردونواح کی خبریں

جہلم میں چھ ماہ سے ماہانہ وظیفہ نہ ملنے پر سول ہسپتال کی نرسوں کا شدید احتجاج

جہلم: چھ ماہ سے ماہانہ وظیفہ نہ ملنے پر نرسوں کاڈی سی ، سی ای او دفتراور جی ٹی روڈ پر شدید احتجاج، اے سی اور سی ای او ہیلتھ کے مذاکرات ناکام ، نرسوں نے تنگ آکرجی ٹی روڈ بلاک کر دیا، ڈپٹی کمشنر جہلم اقبال حسین نے دفتر سے باہر نکلنا تک گوارا نہ کیا ۔

سی ای او ڈاکٹر وسیم نرسوں کو گرفتار کروا کے چھتر مروانے کی دھمکیاں دیتا رہا، شہریوں کی شدید لعن طعن ، ہسپتال میں کام ٹھپ ہونے سے ہزاروں مریض رل گئے ،چھ گھنٹے بعد اے ڈی سی جی آفاق وزیر نے ایک دن میں معاملات حل کروانے کی یقین دہانی کروائی تو احتجاج موخر کر کے جی ٹی روڈ کھول دی گئی ۔

تفصیلات کے مطابق سو ل ہسپتال کے شعبہ نرسنگ کے سکول میں زیر تربیت طالبات اور نرسوں کو گزشتہ 6 ماہ سے ماہانہ واجبات نہ ملنے پر نرسوں کا مسلسل دوسرے ماہ احتجاج ، پیرا میڈیکل سکول سے ڈی سی دفتر تک احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کے دوران نرسوں نے ڈی سی دفتر کے سامنے ایک گھنٹہ دھرنا دے کر روڈبلاک کر دی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مذاکرات اور وظیفہ بحال کروانے کا مطالبہ کیا لیکن ڈی سی جہلم اقبال حسین نے حسب سابق نرسوں کو لفٹ نہ کروائی اور دفتر سے باہر ہی نہ نکلے۔

اس دوران اسسٹنٹ کمشنر جہلم اور سی ای او ہیلتھ جہلم مذاکرات کے لئے آئے لیکن نرسوں کے ساتھ ان کے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے جس پر سی ای او ڈاکٹر وسیم نے ہٹ دھرمی اور بے شرمی کا ثبوت دیتے ہوئے نرسوں کو گرفتار کروانے اور چھتر مروانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس سے نرسیں اشتعال میں آگئیں جبکہ اس موقع پر شہریوں نے سی ای او کو سخت لعن طعن کی سی ای او کی بدتمیزی پر سیخ پا نرسوں نے احتجاج کرتے ہوئے جی ٹی روڈ کی راہ لی اورچھاونی چوک کے مقام پر جی ٹی روڈ بلاک کر دی جس سے سکولوں میں چھٹی کے وقت روٹین سے زیادہ رش کی وجہ سے چند منٹوں کے دوران ہزاروں گاڑیوں کی لائنیں لگ گئیں۔

اس موقع پر زیر تربیت نرسوں کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے بلندو بانگ دعوے سب جھوٹ ہیں ہم کو چھ چھ ماہ سے ہمارے واجبات نہیں دئیے جارہے ہم سینکڑوں میل دور اپنے گھروں سے ہاسٹل میں رہ کر تربیت حاصل کرتی ہیں اور دن رات سول ہسپتال میں ڈیوٹی بھی دیتی ہیں لیکن ہمارے واجبات نہ ملنے کی وجہ سے ہم بھوکی مرنے پر مجبور ہیں کھانے پینے کے لئے پیسے نہیں ہے ہم جائیں تو کہاں جائیں ۔

احتجاجی نرسوں نے بتایا کہ ہم نے گزشتہ ماہ واجبات کیلئے احتجاج کیا تو ایک ماہ کے واجبات دے کر دیگر بعد میں دینے کی یقین دہانی کروائی گئی لیکن اب پھر وہی سلسلہ شروع ہو گیاہے اور واجبات بند ہو گئے ہیں اس موقع پر نرسو ںنے اپنے مطالبات کے حق میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جبکہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی ۔

جی ٹی روڈ بلاک ہونے کے باوجود ڈی سی اقبال حسین نے نرسوں سے بات چیف کرنا گوارا نہ کی البتہ نرسوں نے اے ڈی سی جی آفاق وزیر کے ساتھ مذاکرات اور ایک دن میں مسئلہ حل کروانے کی یقین دہانی کے بعد جی ٹی روڈ کھول دی ، نرسوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ حل نہ ہونے پر دوبارہ جی ٹی روڈ بلاک کی جائے گی ۔

احتجاج کے دوران سول ہسپتال اور پیرا میڈیکل سکول کے انچارج ایم ایس چوہدری خالد خاموشی سے گھر چلے گئے اور احتجاج ختم ہونے کے بعد ہسپتال آئے اور اپنے دفتر میں بیٹھ گئے ان سے جب موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کوئی بھی جواب نہ دیا۔

چھ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والے احتجاج کے دوران کسی ممبر قومی و صوبائی اسمبلی ، چیئرمین ضلع کونسل سمیت کسی اہم شخصیت نے نرسوں کے مطالبات سننے یا ان سے مذاکرات کرنے کی زحمت ہی نہ کی ۔

نرسوں کے احتجاج کے حوالے سے محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا تھا کہ نرسوں کو یقین دہانی کروانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے مطالبات پورے کئے جائیں گے لیکن نرسوں کی جانب سے ڈی سی جہلم اقبال حسین سے مذاکرات کی ضد سمجھ سے بالا تر ہے ۔

سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ قوم کی بیٹیوں کو سڑکوںپر اپنے حق کیلئے ذلیل ہونا پڑر ہا ہے یہ پنجاب حکومت کی گڈ گورننس ہے ڈی سی جہلم کتنا بے حس افسر ہے جس نے نرسوں کے ساتھ مذاکرات نہ کرکے لاپروائی کا ثبوت دیا ہے ۔ جائز مطالبات کی خاطر قوم کی بیٹیوں کو سڑکوں پر کھڑا کرنا انتہائی افسوس ناک ہے ۔ اس موقع پر ضلعی پولیس کی بھاری نفری نے نرسوںکی ریلی کو چاروں طرف سے گھیرے رکھا جبکہ جی ٹی روڈ پر ڈنڈا بردار پولیس اہلکار وں کی بڑی تعداد پہنچ گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button