کالم و مضامین

پنڈدادنخان کا نام تبدیل کیا جائے — تحریر: آصف حیات مرزا

پنڈدادنخان کا نام تبدیل کیا جائے قائداعظم کے دست راست راجہ غضنفر کے نام پر غضنفر آباد رکھا جائے۔تحصیل پنڈدادنخان ایک بہت بڑا تاریخی شہر ہونے کے باوجود سیاحوں کے لیے یہ گمنام کیوں ؟۔۔۔ البیرونی سائنس دان نے تحصیل پنڈ دادنخان کو دنیا کا سینٹر قرار دیا ۔۔۔تحصیل پنڈ دادن خان میں شیخ عبدالقادر جیلانی اور بڑے بڑے ولی اللہ کی چلہ گاہیں موجود ہیں۔۔۔ حضرت نوح علیہ اسلام کے بیٹے حضرت حام کی9گز لمبی قبر بھی تحصیل پنڈ دادن خان میں ہے ۔۔ تحصیل پنڈ دادن خان کا سیاسی حوالے اور پاکستان بنانے میں بھی بہت بڑا کردارہے۔۔۔تحصیل پنڈدادن خان کے لوگ بھی انسان ہیں اور اس علاقہ کو بھی بنیادی سہولتیں دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔۔۔مسلم لیگ ن نے اس علاقہ کے مسائل حل نہ کیے تو 2018 کے الیکشن میں اس علاقہ کی عوام بھی ن لیگ کو لولی پاپ ہی دے گی ۔

دنیا میں ہر شہر کی کسی نہ کسی حوالہ سے اپنی ایک پہچان ہوتی ہے جیسے کہ سرگودھا کو شاہینوں کا شہر جھنگ ہیر سیال کراچی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے اور موہنجودوڑہ آثار قدیمہ کے نام مشہور ہیں اسی طرح تحصیل پنڈ دادن خان بھی ایک بہت بڑا تاریخی شہر ہے لیکن ا س شہر کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس کے تاریخی حوالہ کوکسی نے بھی آج تک اہمیت نہ دی جس کی وجہ سے تحصیل پنڈدادن خان تاریخی پہچان کے حوالہ سے محروم ہے تحصیل پنڈدادن خان جس کی سب سے بڑی پہچان معدنیات کی ہے یہاں سے نمک ،کوئلہ،چونے کا پتھر،سوڈا اورجپسم وغیرہ نکلتا ہے اس کے علاوہ البیرونی سائنس دان نے قلعہ نندنا میں بیٹھ کردنیا کا قطر نکالا جس میں تحصیل پنڈدادن خان دنیا کا سینٹرنکلا جلالپور شریف کے قریب پہاڑیوں میں راجہ پورس اور سکندر اعظم کے درمیان مقابلہ ہوا تھا بعد میں سکندر اعظم کے گھوڑے بیمار ہو گئے جو آہستہ آہستہ صحت مند ہونے لگے تو سکندر اعظم کے ملازم نے دیکھا کہ گھوڑے کیسے ٹھیک ہو رہے ہیں تو اس نے دیکھا کہ گھوڑے کوئی پتھر چاٹ رہے ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ پتھر نہیں نمک ہے جس کی وجہ سے کان نمک دریافت ہوئی ۔

پنڈ دادن خان کا نام تبدیل کیا جائے کیونکہ جب بھی پنڈدادن خان کا نام کسی جگہ لکھا یا پڑھا جاتا ہے تو سب یہ ہی سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی پنڈ ہے جس کی وجہ سے اس علاقہ کی ترقی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے پنڈ دادن خان کا نام تبدیل کر کے قائداعظم کے دست راست راجہ غضنفر علی خان جن کا تعلق اسی شہر سے ہے کے نام پر غضنفر آباد رکھا جائے۔تحصیل پنڈ دادن خان ایک بہت بڑا تاریخی شہر ہونے کے باوجود سیاحوں کے لیے یہ گمنام کیوں ؟ کیونکہ حکومت سے اس طرف توجہ ہی نہیں دی اور شاہد سیاح اس علاقہ کو کوئی پنڈ یعنی دیہات سمجھ کر اس طرف کا رخ ہی نہیں کرتی ۔

چینوٹ کی طرح تحصیل پنڈدادن خان میں بھی سونے چاندی اور تیل کے ذخائر موجود ہیں چینوٹ کے قریب ربوہ کے پہاڑوں میں سونے ،چاندی، پٹرولیم اور دیگر قیمتی دھاتوں کے ذخائر کا علم ہوا ہے ان ذخائر سے زیادہ ذخائر کا انکشاف کوہستان نمک کے پہاڑوں میں ہوا ہے یہاں بھی سونے،چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں کے وسیع ذخائر کا اندازہ لگایا گیا ہے چائنہ اور دیگر ماہرین اس سلسلہ میں تحقیقات کا آغاز کر چکے ہیں بعض کا خیال ہے کہ تیل کے ذخائر بھی اس علاقہ میں وافر مقدار میں موجود ہیں لیکن حکومت پاکستان نے اس علاقہ کی طرف کوئی توجہ نہ دیحکومت پاکستان تحصیل پنڈ دادن خان میں موجودمعدنیات کی آمدنی سے اپنے خزانے تو بھر رہی ہے لیکن یہ علاوہ پسیماندگی میں پس رہا ہے اور لوگ فاقوں اور بے روز گاری سے مر رہے ہیں ۔

تحصیل پنڈ دادن خان صرف معدنیات سے مالامال ہی نہیں بلکہ یہاں حضرت نوح علیہ اسلام کے بیٹے حضرت حام کی قبر جو کہ 9گز لمبی ہے وہ بھی یہاں ہی ہے اس کے علاوہ معروف اولیا اکرام نے یہاں کی پہاڑیوں میں چلے کاٹتے تھے جن کی چلہ گاہیں آج بھی یہاں موجود ہیں ان اولیا اکرام شیخ عبدالقادر جیلانی اور پاک پتن شریف اور دیگر ولی االلہ بھی شامل ہیں اس کے علاوہ یہاں پیر کھارا سرکار کا دربار ہے جہاں سے لوگوں کو خاص کر گردے کی بیماری سے شفا ملتی ہے۔

جلالپور شریف میں غوری مزائل کا ماڈل بھی لگایا گیا ہے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس کا افتتاح بحریہ کے کمانڈرمحمد صادق اور اس وقت کے وزیر دفاع نے کیا تھا قائداعظم کے دست راست راجہ غضنفر علی خان کا تعلق اور مقبرہ بھی پنڈ دادن خان میں ہے تاریخی حوالہ کے علاوہ تحصیل پنڈ دادن خان کا سیاسی حوالے اور پاکستان بنانے میں بھی بہت بڑا کردارہے تحصیل پنڈدادن خان کو مسلم لیگ کا گڑھ بھی کہا جاتا ہے قائداعظم کے دست راست راجہ غضنفر علی خان کا تعلق اور مقبرہ بھی پنڈدادن خان میں ہے۔

یہاں سے ہر مرتبہ مسلم لیگ ن کو ہی کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن ستم ظریفی دیکھیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی نگاہ کرم آج تک اس علاقہ پر نہ پڑی شاید اس لیے کہ مسلم لیگ ن کو پتہ ہے کہ یہاں کے لوگ بولتے نہیں اور ہمیشہ ووٹ مسلم لیگ ن کو ہی دیتے ہیں نہ تو آج تک وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلی شہباز شریف کی اس علاقہ پر نظر پڑی اور نہ ہی اس علاقہ کے مسائل حل کیے حال ہی میں ہو نے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے سخت مقابلہ کے باوجود بھی مسلم لیگ ن کو عوام نے کامیابی کا سہرا پہنایا کہ شائد تیرے دل میں اتر جائے میری بات کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو اساس ہو جائے کہ تحصیل پنڈدادن خان کے لوگ بھی انسان ہیں اور اس علاقہ کو بھی بنیادی سہولتیں دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ضمنی انتخابات میں آنے والے حکومتی نمائندوں اور حمزہ شہباز کے سارے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اورتحصیل پنڈدادن خان کی عوام کو حسب مامول پھر لولی پاپ دے دیا گیا لیکن اگر مسلم لیگ ن نے اس علاقہ کے مسائل حل نہ کیے تو اس کو بھی 2018 کے الیکشن میں اس علاقہ کی عوام لولی پاپ ہی دے گی۔

متعلقہ مضامین

2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button