بریکنگ نیوز — تحریر: چوہدری زاہد حیات

0

مہربان تھا نام اس کا لیکن کسی بھی قسم کی مہربانی اس پر قسمت کی طرف سے نہیں تھی، غربت کے ڈیرے ڈالے ہوئی تھی اس کے گھر میں جب وہ پیدا ہوا۔ ماں باپ نے نام مہربان رکھا کہ شاید زندگی اس پر مہربان ہو جائے لیکن قسمت نے ساتھ نا دیا اور باپ کی طرح وہ غربت اس سے مہنگائی کی طرح چمٹ گئی ۔

کبھی روٹی ملتی کبھی نا ملی ، کھلونے تو اس نے زندگی میں صرف دوسرے بچوں کے ہی ہاتھوں میں دیکھے ، وہ معصوم تھا ،خواب دیکھتا اور روز اپنے خوابوں کو ٹوٹتے بھی دیکھتا، غربت اور لاچاری کے بیچ بہتا ہوا جوان ہوگیا۔ غربت انپڑھی نا کوئی شفارش اس لیے نوکری ملنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ قسمت نے یاوری کی ایک بڑے نجی سیمنٹ کے کارخانے میں ڈیلی پیڈ مزدور بھرتی ہوگیا ، دس ہزار ماہانہ پر ۔ مان باپ بھولے تھے نوکری لگتے ہی اس کی شادی کروا دی ۔

مہربان پر اب یہ راز کھلنے لگے تھے کہ مزدور اور وہ بھی ڈیلی پیڈ اس میں اور بیگار کرنے والے گدھے میں کوئی خاص فرق نہیں، اللہ نے مہربان پر مہربانی کی ا ور جوڑے کے دو بچے عطا کر دیے ، اقور ساتھ یہ بچے ہو بھی گھر میں گئے یہ اللہ کا خاص کرم ہوا اس پر ۔ ورنہ مہربان جیسے ڈیلی پیڈ مزدور ڈاکٹروں کی فیس دنیے کی اوقات کہاں رکھتے ہیں۔ اب خرچے بڑھنے لگے لیکن تنخواہ تھی بڑھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ، بس بڑھا ئے جانے کا اعلان ہر سال کیا جاتا لیکن عمل نا ہو سکا نا سرمایہ دار کرتے، مہربان نے ساری زندگی اپنے خواب مارے تھے لیکن اپنے بچوں کی انکھوں میں نظر اتا احساس محرومی اسے مار دیتا تھا ، کہتے ہیں محنت کا پھل ملتا ہے لیکن مزدور اور مہربان جیسے مزدور وہ بدقسمت مخلوق ہیں کہ ان کی محنت کا پھل بھی سرمایہ دار اور ان کے بچے کھاتے اور مہربان جیسوں کے ہاتھ اتنی محنت کے بعد بھی سسکتی زندگی آتی ہے ۔

مہربان مزدوری کرتا اور افسران کی خوشنودی کے لیے ان کی جی حضوری بھی بجا لاتا کہ روٹی تو روکھی سوکھی مل ہی رہی تھی۔ مہربان اتنا مجبور تھا کہ بیمار بھی ہونا بھی افورڈ نہیں کرسکتا تھا ۔ کیوں کہ چھٹی کی صورت میں تنخواہ کٹتی تھی ، اور اگر ایک دن کی تنخواہ بھی کٹ جاتی تو روٹی کے لالے پڑھ جاتے ، لیکن کب تک بد قسمتی سے ایک دن بیمار پڑھ گیا، ادارے کے لئے وہ اس وقت تک کام کا تھا جب تک ان کے لیے مزدوری کر رہا تھا۔

یہ دیہاڑی دار جانور نما انسان مزدور بیمار ہونا بھی ان کے لیے جرم بن جاتا۔ مہربان سے بھی یہ جرم سر زد ہوا اور وہ بیمار ہوگیا ، ڈاکٹر کے پاس جانے کی اوقات نہیں تھی، دیسی ٹوٹکوں سے ہی تین چار دن میں کچھ بہتر ہوا تو مزدوری پر جانے کے لیے تیار ہوگیا ، کیوں کے عید سر پر تھی ، اور وہ بیمار رہنا افورڈ نہیں کر سکتا تھا ورنہ عید بھی فاقہ کشی میں گزرتی ، وہ نیم بیمار ہی مزدوری کرنے پہنچا تو اس پر یہ خبر بم بن کر گری کے اس کو چھٹیوں کرنے کی وجہ سے نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے ، نا کوئی کوک نا فریاد نا کوئی نوٹس نا کوئی قانونی چارہ جائی کا حق ، وہ مزدور تھا غریب دیہاڑی دار اس کو بیمار ہونے کی سزا مل گئی ۔

ہر ایک کی منت سماجت کی کچھ نا بنا ، عید سر پر تھی ۔ اپنے معصوم بچوں کے چہرے سامنے آنے لگے ۔ اپنے ٹوٹے پھوٹے گھر کے سوا کہاں جاتا ، گھر پہنچا تو وہ معصوم فرشتے جو اس کی کل دنیا تھے کانئات تھے ، نئے کپڑوں اور جوتوں کی ضد کرنے لگے ، مہربان روز ہی مرتا تھا لیکن اج بلکل ہی مر گیا ۔ بچوں کی ضد بڑھنے لگی اور مہربان کی بے بسی ، گھر میں ایک شور تھا مہربان کے نوحے تھے ریاست ماں کے خلاف اس نظام کے خلاف ان اداروں کے خلاف جو مزدروں کے تحفظ کے لیے بنے اور کروڑں کھاتے۔

یہ شور بڑھا تو لوگ مہربان کے گھر پہنچے ، تو وہاں ایک بڑی بریکنگ نیوز بن چکی تھی مہربان نامی شخص نے اپنے بیوی بچوں کو قتل کر کے خود خود کشی کر لی ، مہربان اور اس کے بچوں کے قتل کی بریکنگ نیوز بننے میں یہ معاشرہ وہ سنگ دل کارخانے کی انتظامیہ ۔ مزدوروں کے حقوق کے لیے بنائے گے نام نہادادارے سب شامل۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.