جہلم

جہلم میں ملاوٹ شدہ سرخ مرچ اور بیسن تیار کرکے فروخت کرنے کا دھندہ عروج پر

جہلم: شہر و گردونواح میں ملاوٹ شدہ سرخ مرچ اور بیسن تیار کرکے فروخت کرنے کا دھندہ عروج پر، غیر معیاری بیسن اور سرخ مرچ کے دھندے میں ملوث مافیا راتوں رات امیر ہونے کے چکروں میں شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگا جبکہ بچے اور بزرگ شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگے ۔

تفصیلا ت کے مطابق جہلم شہر اور گردونواح میں 2 نمبرمرچ اور بیسن تیار کر کے فروخت کرنے کا دھندہ عروج پر پہنچ چکا ہے بااثر مافیا مرچوں میں بھوسا اور بیسن میں رنگ اور دونوں چیزیں ملا کر دھڑا دھڑ فروخت کر رہا ہے۔اس دھندے میں ملوث بااثر افراد راتوں رات امیر ہونے کے چکروں میں شہریوں کی زندگیوں سے گھناؤنا کھیل،کھیل رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں،موت کے ان سوداگروں کو کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ پوچھنے کے لئے تیار نہیں۔

ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹی سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داران جو کاروائی کا پورا اختیار رکھتے ہیں حقائق کا علم ہونے کے باوجود انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے ملاوٹ مافیا کے حوصلے بلند ہورہے ہیں اور وہ دن رات اس مکروہ دھندے میں مصروف ہیں۔

ضلع بھر کے مختلف علاقوں میں ملاوٹ مافیا نے شہر کے گنجان آباد علاقوں سمیت مختلف مقاما ت پر چکیاں لگا کر 2 نمبرمرچیں اور بیسن تیار کرکے فروخت کرنا شروع کر رکھا ہے یہ دھندہ کرنے والے بااثر افراد شہریوں کی زندگیوں سے گھناؤنا کھیل،کھیل کر خودکروڑ پتی بن رہے ہیں جس کی وجہ سے شہری، بچے، بزرگ، خواتین موذی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، ڈی جی فوڈ اتھارٹی اورڈپٹی کمشنرجہلم سے مطالبہ کیا ہے مطالبہ کیاہے کہ ملاوٹ مافیا کے خلاف قانونی کارروائی کر کے فوجداری مقدمات درج کئے جائیں تاکہ شہریوں کی جانوں سے کھیلنے والے ملاوٹ مافیا کا محاسبہ ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close