کالم و مضامین

جہلم میں پی ٹی آئی بمقابلہ پی ٹی آئی

فصلی بٹیر ایک فصلی پرندہ ہے۔ جب فصل کے کھیت پکنے پرا ٓتے ہیں تو آ جاتا ہے۔ اور سردی کے موسم میں غائب یا روپوش ہو جاتا ہے ۔جو لوگ بٹیر پالنے کے شوقین ہوتے ہیں انہیں’’ بٹیر باز ‘‘کہا جاتا ہے ۔ وہ ان پر بڑی بڑی شرطیں لگاتے ہیں اور عموماََ ہار بھی جاتے ہیں۔ مغل دور حکومتوں میں بٹیر بازی کا عام رواج تھا ۔ہمارے ہاں بھی یہ شوق بہت پایا اور پالا جاتا ہے ۔

ہماری سیاست میں بھی بٹیر کا ذکر کثرت سے کیاجاتا ہے ۔ ہمارے سیاست میں جس بٹیر کا ذکر ہر زبان زد عام ہوتا ہے وہ ہے ’’فصلی بٹیر‘‘ ملک میں سیاسی ہوائیں چلتے ہی بٹیر اور کبوتر اپنی راہیں ہموار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس کارکن بھی ہوتے تھے اوریہ نظریاتی لوگ ہوا کرتے تھے۔انکی سیاسی وابستگی کی پختگی کی وجہ سے انکی قدر ہوتی تھی اور اپنی سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کے ساتھ انکے روابط ہوتے تھے ۔مگر جوں جوں ہماری سیاست کو نظر لگتی چلی گئی، یہ بے لوث سیاسی کارکن بھی ناپید ہونا شروع ہو گئے۔

ان دنوں سیاسی جماعتوں میں نظریاتی کارکن بہت کم رہ گئے ہیں تاہم یہ جتنی تعداد میں بھی ہیں بے لوث ہیں اور اپنے نظریات کی خاطر قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں۔ تاہم انکی وہ قدر اور پذیرائی نہیں ہوتی جو ہونی چاہیئے۔ سیاسی کارکنوں کی دوسری قسم وہ ہے جو ’’ غیر سیاسی ‘‘ ہے انہیں آپ ’’ مفاداتی کارکن‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں مگر انکی قدر افزائی ،بے لوث ، مخلص اور ایثار پیشہ کارکن کے مقابلے میں اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اسکا موازنہ بھی ممکن نہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ خوشامد پسند لوگ ہر دیگ کے’’ چمچے‘‘ کے طور پر استعمال ہونے میں ذرا برابر بھی ندامت محسوس نہیں کرتے۔

آ ج کے دور میں علامہ اقبال ؒ کا یہ مصرعہ اپنے پورے معنی دے رہا ہے ’’ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات ‘‘ سیاسی کارکن بھی مزدور سے کم نہیں ہوتے مگر کوئی اقبالؒ کی اس بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ جس کا کام نہ کرنا ہو اسکی زیادہ عزت کی جاتی ہے ۔

سیاسی جماعتوں کے وارثان نہ عزت کرتے ہیں نہ کام کرتے ہیں ۔ یہی کارکن ہیں جو جلسے جلوسوں میں نعرے لگاتے ہیں انکا کام صرف اپنے لیڈر کا چرچا کرنا اور اسکی ’’ بین ‘‘ بجاتے رہنا ہے وہ اس محاورے کا مطلب جانتے ہیں کہ بھینس کے آگے بین بجانا کیا ہوتا ہے اسی لیئے وہ بین بجاتے رہتے ہیں۔

اب سیاسی بھینسیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں اور ہر بھینس کے آگے اسکے بین بجانے والے بین بجا رہے ہیں بلکہ آجکل تو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ’’ بین ‘‘ کی جگہ ’’ بینڈ ‘‘ نے لے لی ہے اور کچھ سیاسی کارکن اب بین کی جگہ ’’ بینڈ ‘‘ بجا کر اپنا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ۔

بینڈ بجانے والے اپنے ’’ بے سُرے‘‘ راگوں سے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔مجھے نہیں لگتا کہ انکے بے وقت اور بغیر ’’ سُر ‘‘ کے راگ پذیرائی پا سکیں ۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر حکمران جماعت پی ٹی آئی کے ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کی تنظیم کے نو منتخب صدر کے حوالے سے ایک آڈیو کال وائرل ہو رہی ہے جس میں موصوف کسی دوست کو تنظیمی عہدہ دینے کی خاطر اسکو اپنی باتوں سے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس میں موصوف فرما رہے ہیں کہ انکی جماعت نے انکو اتنا با اختیار بنا دیا ہے کہ اب تمام سرکاری محکمے اور ادارے انکے زیر اثر کام کریں گے ۔

وہ یہ بھی فرما رہے ہیں کہ انکے انتخابی حلقے کے ایم این اے اورایم پی اے نے کوئی کام نہیں کیے لہذا اس لیے شاید سارا بوجھ انکے ناتواں کندھوں پر آ گیا ہے اور اب وہ اپنی تحصیل کے ’’ کرتا دھرتا ‘‘ ہوں گے۔

کال کرنے والے موصوف نے پوری کوشش کر کے اپنے حلقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کو بے اختیار ثابت کر کے تمام اختیارات کا منبہ اپنی ذات اور تنظیم کو بنایا بظاہر تو یہ کال کسی دیوانے کے خواب کی طرح گردانی جا سکتی ہے مگر ایک حکمران جماعت کے کارکن کے طور پر اپنی جماعت کے منتخب ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی پر عدم اعتماد کی بھی مظہر ہے۔

مجھے نہیں لگتا کہ فصل پکنے تک یہ بٹیر رہیں گے یا نہیں مگر جہلم کی سیاست میں پی ٹی آئی کی ضلعی تنظیم سمیت چاروں تحصیلوں کی تنظیم سازی میں ممبران قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی شاید رائے نہیں لی گئی ۔

چوہدری زاہد محمود کا دوبارہ ضلعی صدر منتخب ہونا اس امر کی واضح دلیل نظر آتا ہے کیوں کہ موصوف کو پہلے اس عہدے سے فارغ کروانے میں ممبران کا پورا ہاتھ تھا مگر دوبارہ منتخب ہونے میں انکی رائے کا شامل نہ ہونا جماعیت کے اندرونی خلفشار کا سبب ہو سکتا ہے ۔

وفاقی وزیر چوہدری فواد کے انتخابی حلقے میں بھی انکے حمایت یافتہ کارکنوں کو نظر انداز کرنے کاواوویلا سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے ۔ایسے باور کروایا جا رہا ہے کہ جیسے تنظیمی کارکنوں کو ممبرا ن قومی و صو بائی اسمبلی کے اختیارات سونپ دیے گئے ہیں اور ضلعی انتظامیہ کو انکے احکامات پر عمل در آمد کا پابند بنا دیا گیا ہو۔ کسی تنظیمی کارکن کے لیے ایسی خبریں راحت افزا تو ہو سکتی ہیں مگر ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے اپنی جماعت کی طرف سے ایسے اقدامات اور احکامات اپنی ہی جماعت میں ’’ خودکش ‘‘ حملے سے کم نہیں ۔

سیاسی جماعتیں بڑی سیانی ہوتی ہیں وہ جب دیکھتی ہیں کہ انکا سیاسی مورال یا عوامی پذیرائی کم ہو رہی ہے تو وہ پھر کارکنوں کو بااختیار بنانے کا نعرہ لگا کر نیا ڈھونگ رچاتی ہیں کارکن بے چارے اس تیلے والی ’’ مچھی‘‘ کو اپنے لیے ’’سیاسی ویاگرا‘‘ سمجھ کر میدان میں نکل پڑتے ہیں اور ایک بار پھر سے سوئے ہوؤں کو جگا کر اپنی جماعت کا دیا گیا ’’ معجون‘‘ کھلانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

کارکن جب بیدار ہوتے ہیں تو جماعتوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوتا ہے ۔ مگر جب انتخابات میں امیدواروں کے چناؤ کا عمل شروع ہوتا ہے تو اس وقت انہی کارکنوں کو یہ کہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے یا انکی بولتی اس وقت بند کر دی جاتی ہے جب چناؤ کرنے والے فیصلہ دیتے ہیں کہ امیدواروں کا چناؤ انکی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ انتخابی حلقہ میں امیدوار کی عوامی پذیرائی اور ووٹ بنک کے حوالے سے ہو گا ۔جس سیاسی مردہ گھوڑے کو زندہ کرنے کے لئے یہ کارکن دن رات ایک کر کے کام کرتے ہیں فیصلہ سازی کے اوقات میں انکی ’’ اوقات ‘‘ ختم کر دی جاتی ہے ۔

تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اگر رنگین ہیں تو ان کی رنگینی میں کارکنوں کی امنگوں کا خون شامل ہوتا ہے ۔ بات لمبی ہوتی جا رہی ہے مختصر یہ کہ آنے والا وقت بتائے گا کہ پی ٹی آئی میں کارکنوں اور تنظیم کی بات مانی جاتی ہے یا سیاسی دھڑوں کا سکہ چلتا ہے ۔ اگر سیاسی دھڑوں کا سکہ چلا تو یہی کارکن اپنی جماعت کے خلاف سینہ سپر نظر آئیں گے ۔

جہلم میں ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں جو تنظیموں کے بل بوتے پر اتراتے تھے عین وقت پر انکی ہوائیں اکھڑ گئیں۔ اب تیل اور اسکی دھار کا انتظار ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button