جہلم

کورونا لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم ہونے کے بعد حفاظتی تدابیر اور ایس او پیز کاغذ کا ٹکرا بن کر رہ گیا

جہلم: کوروناوائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لگایا گیا لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم ہونے کے بعدحفاظتی تدابیر اور ایس او پیز کاغذ کا ٹکرا بن کر رہ گیا۔

شہریوں اور تاجروں کی جانب سے ماسک اور گلوز کا استعمال بھی صرف نمائشی حد تک محدود، دکانوں اور تجارتی مراکز کے داخلی راستوں پر جراثیم کش سپرے تک نہیں کیا جاتا، سمارٹ لاک ڈاؤن بھی نمائش کی حد تک محدود ، مقررہ اوقات کی بجائے دکانیں رات8بجے تک کھلی رہتی ہیں جہاں بدستور خریداروں کا رش لگا رہتا ہے۔

جی ٹی روڈ پر متعدد ہوٹلز اور ریسٹورنٹس سرعام گاہکوں کو دنبے ، بکرے، مرغے کاگوشت تیار کرکے سرعام بٹھا کر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں جہاں نہ تو سماجی فاصلوں کا خیال رکھا جا رہا ہے اور نہ ہی کاریگروں اور گاہکوں نے ماسک پہن رکھے ہوتے ہیں ، جو کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں ۔

یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ بااثر ہوٹلز مالکان نے ہوٹل میں ڈسپوزل برتنوں کی بجائے عام برتن استعمال کرنے شروع کر رکھے ہیں اس طرح ایک ایک میز پر نصب درجن سے زائد افراد کو اکٹھا بیٹھا کر کھانا پیش کر رہے ہیں ۔

دوسری جانب پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی ماسک اور مسافروں کے درمیان فاصلے کی پابندیوں پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ کورونا وائرس کے کیسز میں غیر معمولی اضافے کے باوجود انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے ، جو کہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button