دینہاہم خبریں

حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ بہانہ کر کے کورونا وائرس پر ڈال رہی ہے ۔ بلال اظہر کیانی

دینہ: اس وقت ملک کی معیشت بدحالی کا شکار ہے جبکہ اس حکومت نے آتے ہی ملک کی معیشت کو ہینڈ بریک لگائی جس سے حکومت کے پہلے ہی سال جی ٹی بی پانچ اشاریہ آٹھ سےایک اشاریہ نو فیصد ہوگیا جس کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری جبکہ غربت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ کاروبار تباہ حالی کا شکار ہوئے۔
ان خیالات کا اظہار مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ (ن) بلال اظہر کیانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے ملک میں جی ٹی بی کی شرح کو مستحکم بنایا تھا اور آخری سال 2018 میں یہ8 اشاریہ 5 تک پہنچ چکی تھی اور پاکستان معاشی لحاظ سے مستحکم ہو کر ترقی کی طرف گامزن تھا اور یہ ایشیئن ٹائیگر بننے کی تیاری میں تھا لیکن موجودہ حکومت نے آتے ہی ناصرف ملکی معیشت کو ہینڈ بریک لگائی بلکہ معیشت کو بری طرح تباہ کیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اب یہ حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ بہانہ کرکے کورونا وائرس پر ڈال رہی ہے جبکہ اس ملک کی معیشت کو یہ حکومت پہلے ہی ڈبو چکی تھی۔
بلال اظہر کیانی نے کہاکہ قرضہ نہ لینے والے آج اس ملک کے حکمرانوں نے قرضوں میں اتنا اضافہ کردیا ہے کہ یہ ایک تاریخ ساز اضافہ ہے اور یہ اضافہ اس ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ آج کورونا وائرس کی وباء سے پوری دنیا میں جو اثر پڑا ہے اس دلدل سے نکالنے کے لیے قابل سیاسی قیادت اور تجربہ کار لوگوں کی ضرورت ہے جو عوام کے مسائل سمجھتے ہوئے انہیں حل کرنے کا تجربہ رکھتے ہوں جبکہ اگر یہ حکومت رہے گی تو ہمارے ملک میں ترقی کی بجائے تنگ دستی پھیلے گی جس کے لیے ہمیں اس حکومت سے چھٹکارا جتنا جلدی ملے اتنا ہی ملکی اور قومی مفاد میں بہتر ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ترقیاتی کاموں کے نعرے لگانے والے لوگوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے والے آج اپنے غلط اقدامات اور غلط پالیسیوں کی بناء پر غریب لوگوں کے گھر کی چھت بھی چھین رہے ہیں۔
رہنما مسلم لیگ ن نے کہاکہ یہ مسلم لیگ ن کا ایک تاریخی کارنامہ تھا کہ انہوں نے سی پیک کا منصوبہ بنایا اور اس پر عملدرآمد شروع کروایا جبکہ اس پر بھی کام نہیں ہورہا۔ جب جس ملک میں جمہوریت مستحکم ہوتی ہے وہاں لوگ خوشحال ہوتے ہیں جبکہ اس وقت ہمارے ملک میں کے مستحکم ہونے کے لیے اور عوام کو خوشحالی دینے کے لیے شفاف الیکشن کی ضرورت ہے تا کہ لوگ اچھے لوگوں کو نمائندہ منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھجوائیں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button