نیا مداری اور پرانا ’’بچہ جمہورا‘‘

تحریر: محمد امجد بٹ

0

ہم ٹھہرے ٹھیٹھ ” پینڈو” لوگ؛ ہماری سوچ پینڈو، رہن سہن پینڈو، ملنا ملانا پینڈو، کھانا پینا پینڈواور حیران کن طور پہ ہمیں اپنے پینڈو ہونے پہ ہمیشہ احمقانہ حد تک فخر بھی رہا ہے جس کی وجہ سے اپنا ”پینڈو پن” نہ کبھی چھپایا نہ ہی کبھی چھپانے کی کوشش کی۔ شاید یہ ہمارے اندر کا پینڈو پن ہی ہے کہ ہم ملکی اہمیت کا کوئی معاملہ ہو یا عالمی سطح کا اس کو اپنے دیہاتی پس منظر کے حوالے سے ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ جدید دنیا کی سہولیات کی فراہمی کے باعث اب دیہات میں بھی رہن سہن ویسے تو کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ ان سہولیات اور آسائشوں نے مصنوعیت کو جنم دیاہے لیکن پھر بھی کسی نہ کسی حد تک قدرت سے تاحال رشتہ قائم ہے۔

یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب گلی کوچوں میں ڈگڈگی کی آواز گونجا کرتی تھی تو بچے بوڑھے سبھی گھروں سے نکل کر مداری کے ارد گرد دائرے کی صورت میں جمع ہوجایا کرتے تھے۔ ایک گلی میں مداری بندر نچا رہا ہوتا تو دوسری گلی میں کوئی قلندر شاہ ریچھ کو نچا رہا ہوتا۔ بندر اور ریچھ ایسے ایسے کرتب دکھایا کرتے تھے کہ دیکھنے والے انگشت بدنداں رہ جاتے۔ اس طرح کے تماشوں سے بچے بوڑھے سبھی خوش ہوا کرتے تھے۔ گلیوں میں یہ شعبدہ باز ایسے ایسے کرتب دکھاتے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے۔ کرتب باز ’بچہ جمہورا‘ پر چادر ڈال کر اسے فضا میں معلق کردیا کرتے تھے۔ کبھی اس کی زبان کاٹ کر تماشائیوں کو آبدیدہ کردیا کرتے، کبھی کسی بچے کو بلاکر اس کے کان سے پانی نکالا کرتے تھے۔ اب یہ شعبدے اور تماشے ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔

زمانے کی تبدیلی ایک فطری عمل ہے۔ اس لیے زمانے کے ساتھ ساتھ قدریں بھی بدل جاتی ہیں۔ لوگوں کی سوچ و فکر بھی بدل جاتی ہے۔ اس لیے وقت کے مداریوں اور قلندر شاہوں کے شعبدے بھی بدل جاتے ہیں۔ کل تک جو محلوں اور گلیوں میں کرتب دکھاتے تھے وہ آج اسی فطری تبدیلی کے سبب ہی اونچی اونچی اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھ کر پوری قوم کو نچا رہے ہیں۔ یعنی کل تک تو قوم بندر اور ریچھ کا کھیل دیکھتی تھی اور محظوظ ہوتی تھی لیکن زمانے کی تبدیلی نے ایسا کرتب دکھایا کہ قوم مداری کی پکار پر کھیل دکھانے لگی اور بندر و ریچھ تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

کل اور آج میں یہ فرق بھی دکھائی دے رہا ہے کہ کل کے زمانے میں شعبدہ باز بہت محدود تھے، ان کی شعبدہ بازی روٹی روزی تک ہی تھی لیکن آج کے شعبدہ باز لامحدود ہیں، ان کے کھیل تماشے بھی لامحدود ہیں اور ان کے اغراض و مقاصد بھی لامحدود ہیں۔ ہر بستی کے ہر محلے میں ان کی پھیلتی اور وسیع تر تعداد سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ پہلے کے بہ نسبت شعبدہ بازوں کی صرف تعداد ہی نہیں بلکہ ان کے عمل و اقدام میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اب پہلے کی طرح ان کی چادر صرف بچہ جمہورا کو ہی نہیں بلکہ پوری قوم کو ڈھانپ لینے کی وسعت رکھتی ہے۔ پوری قوم کو فضا میں معلق کردینے کی یہ کرتب باز صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ جدید د ور کے جدید کرتب باز ہیں، یہ نئی ٹکنالوجی اور جدید تکنیک کا استعمال کرکے لوگوں کو مبہوت کردیتے ہیں۔

اس طرح آج اور کل کے شعبدہ بازوں میں صرف نام اور حلیے کا فرق اگر کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو کیونکہ آج کے بازی گر ’بچہ جمہورا‘ کو فضا میں معلق کرنے کے بجائے عوام کی بنیادی ضرورتوں کو ہی فضا میں معلق کردیتے ہیں۔ عوام کے منہ کی روٹی چھین لیتے ہیں، ان کے خون پسینے کی کمائی کو نئے دور کے آہنی پٹارہ اے ٹی ایم اور بینکوں میں مقفل کرکے خون کے آنسو رلاتے ہیں، جبکہ کل کا مداری جب اپنا جادوئی پٹارا کھولتا تھا تو لوگ ہنستے اور محظوظ ہوتے تھے۔

جدید دور کے جدید مداری اب اپنے جمہورے کا کان، ناک نہیں کاٹتے بلکہ پیٹ کاٹتے ہیں۔ روزمرہ استعمال ہونے والی اشیا کی قیمتوں کو اتنی بلندی پر پہنچادیتے ہیں کہ عام آدمی اپنی بنیادی ضرورتوں کو پوری کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔ کاش! یہ لوگ روٹی سے محروم لوگوں کو تندوری پھُلکوں کا تماشا دکھانے اور غربت کو ختم کرنے کے نام پر قوم کو بھکاری بنانے کے بجائے خورد و نوش کی قیمتوں کو منجمد کردیتے تو غریب سُکھ کا سانس لیتے۔ نوٹ بندی، کیش لیس جیسے تماشوں سے غربت کا خاتمہ تو نہیں ہوسکتا، البتہ غریبوں کی عزت نفس ضرور ختم ہوجائے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.