امت محمدیہ خاموش تماشائی — تحریر: محمد امجد بٹ

0

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واضح ارشاد گرامی ہے:
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب اور عزیز نہ ہو جاؤں۔‘‘

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا قیامت کب آئے گی؟ آپ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے لئے تم نے کیا تیار کررکھا ہے؟ اس نے عرض کیا: میں نے قیامت کے لئے نہ تو زیادہ (نفلی) نمازیں نہ زیادہ (نفلی) روزے تیار کئے ہیں اور نہ زیادہ صدقہ، ہاں ایک بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تو پھر (قیامت میں) تم ان ہی کے ساتھ ہوگے جن سے تم نے (دنیا میں) محبت رکھی۔(بخاری)

ہالینڈمیں کفار کے ہاتھوں دونوں جہانوں کے سردار نبی اقدسﷺ کی ناموس کی گستاخی بے ہودہ کارٹون کے ذریعے کی جارہی ہے جس سے کم وبیش پوری دنیا کے مسلمان باخبر ہیں لیکن اس کے خلاف آوازاٹھانے والے بہت کم ہیں۔ کیا یہ فکر کی بات نہیں؟ وہ نبی علیہ السلام جنہوں نے ہمارے اور آپ کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا، پتھر کھائے، خون نعلین مبارک تک جا پہنچا لیکن جب جبرائیل نے آکے وادی طائف کو برباد کرنا چاہا تو آپﷺ نے منع فرمایا اور ان کی ہدایت کی دعا کی۔ وہ نبیﷺ جو آخری وقت بستر علالت پر تھے، اس وقت بھی اپنی امت کے لیے تڑپتے رہے وہ آقاﷺ جنہوں نے ہمارے لیے ہر طرح کے لسانی، جسمانی ہر طرح کی اذیتیں سہیں، آج اس ذات اقدسﷺ کے لیے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے۔

وہ ذات جس کی زبان پر حالتِ نزع میں بھی اپنی امت کی بخشش کی دعاتھی۔آج وہی امت اس نبیﷺ کی گستاخی پر خاموش کیوں ہے؟ کل قیامت کے دن جب گناہوں کی کثرت کی وجہ سے امت کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا اور وہ عظیم ذات غم خوار محمد مصطفیﷺ فکرِامت میں بے چین رہے ہوں گے، رب الرحیم کے آگے ہاتھ بلند کرکے میرے اور آپ جیسے گناہ گاروں کے لیے شفاعت طلب کریں گے، چہرہ اور داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہوں گے اور تب تک روتے رہیں گے جب تک آخری امتی کو بھی جنت میں نہ لے جائیں۔ کیا ہم ایسے کریم نبی کی شفاعت کے حقدار ہیں؟ کس منہ سے سامنا کریں گے ان کاروزِ محشر؟

اے امت محمدیہ!کیا ایسے غم خوار نبیﷺ کے لیے آج آپ آواز تک نہیں اٹھا سکتے؟ کفار آزادی اظہارِ رائے کے نام پر اس ذات کے لیے جو ہمیں ہمارے والدین، ہمارے ہر رشتے اور ہر محبوب شے سے زیادہ محبوب ہے، اس ذات کی گستاخی کے مرتکب ہیں اور ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔کیا کل قیامت کے دن ہم ان سے نظریں ملا سکیں گے؟ ان سے شفاعت کی تمنا کریں گے تو کس منہ سے؟ امام مالک رحمۃ علیہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ، گستاخ رسولﷺ کی کیا سزا ہے۔آپ نے فرمایا، گستاخ رسول کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔اس شخص نے کہا اگر ایسا نہ ہو سکے تو؟ آپ نے فرما یا، پھر تمہیں زندہ نہیں رہنا چاہئے۔ یعنی ہم اور آپ جو خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ہمیں زندہ ہی نہیں رہنا چاہیے۔

وہ ماں جو دنیا میں اپنے بچے کی خاطر جائز وناجائز تک کا فرق بھول جاتی ہے کل قیامت کے دن اس بچے کو ہی بھول جائے گی۔ ہمارے عزیز واقارب آج جو ہم پر جان چھڑکتے ہیں،کل قیامت کے دن جاننے سے بھی انکار کریں گے۔ جب پوری دنیا کی زبان پر نفسی نفسی کا نعرہ ہوگا تب واحد ذات اقدس محمدْ مصطفیﷺ ہی ہوں گے جو اپنی امت کے لیے پریشان ہوں گے اور امتی امتی کریں گے اور چن چن کر اپنی امت کو داخلِ جنت فرمائیں گے۔ آج اسی ذات کی نا موس پرحملہ کیا جارہا ہے تو ہم خاموش ہیں۔

عرب،عجم سب خاموش کیوں ہیں؟ اے دنیاوی حکمرانو! اگر اپنی سیاست سے فرصت ملی ہو تو سردار کونینﷺ کی ناموس کا دفاع تو کرو۔ اے امت محمدیہ! کے خاموش علماء! اگر دین فروشی سے فرصت ملے تو مصطفیﷺ کی گستاخی کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھاؤ۔ اے سکول، کالجز کے نوجوانوں! اگر اپنی عیاشوں سے فرصت ملی ہو تو نبی پاکﷺ کے لیے کفار سے لڑو۔ لڑو میرے ہم دینو!، میرے ہم وطنو! اس صورت میں تم پر جہاد فرض عین ہے لڑو خدارا دفاع ناموس مصطفیﷺ کے لیے لڑو۔ سوشل میڈیا کے ذریعے، ہالینڈر پروڈکٹس کا مکمل بائیکاٹ کرکے، جلسوں کی صورت میں، اور ہر صورت میں لڑو اپنے نبیﷺ کے لیے اور باہر نکلو:

غلامان مصطفی دفاع ناموس محمدی
پر جان دینے سے نہیں ڈرتے
کٹ جائے جوان کی ناموس کے
راہ میں سر تو پروا نہیں کرتے

تاکہ کل قیامت کے دن اس کی شفاعت کے حقدار ٹھہرائے جاؤ اور نبی پاک محمدﷺکو تمھاری شفاعت کرتے ہوئے اپنے امتی ہونے پر فخر ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.