جہلم

میونسپل کمیٹی جہلم کا ایک اور ڈرامہ منظر عام پر، پانی استعمال کرو یا نہ کرو لیکن بل دینا پڑے گا

جہلم: میونسپل کمیٹی جہلم جاگ گئی، بلدیہ جہلم کا ایک اور ڈرامہ منظر عام پر، کئی دہائیوں سے واٹر سپلائی کنکشن منقطع ہونے کے باوجود شہریوں کے گھروں میں ہزاروں کے واٹر سپلائی کے بل پہنچنے لگے،شہری پریشان ،پانی استعمال کرو یا نہ کرو لیکن بل دینا پڑے گا۔پانی کا کنکشن منقطع ہونے کے باوجود بل بھیجنا محکمے کا غیر ذمہ داران کام ہے ،میونسپل آفیسر سرفراز خان۔

تفصیلات کے مطابق بلدیہ جہلم کے اس سے پہلے بھی عوام کے ساتھ غیر ذمہ داران کام منظر عام پر آتے رہے لیکن اس مرتبہ بلدیہ جہلم کے اہلکاروں نے واٹر سپلائی کے منقطع کنکشن کے ہزاروں کے بل بھیجنے شروع کر دیے ،جس سے شہری ذہنی پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ محلہ چشتیاں ،اسلامیہ سکول محلہ عباس پورہ ۔مشین محلہ جادہ اور اس کے ملحقہ درجنوں علاقے ایسے ہیں جہاں پر شہریوں کے گھروں میں سالوں سے کنکشن منقطع ہیں لیکن محکمے کے خزانے کو بھرنے کے لیے بلدیہ نے شہریوں کو ذہنی ازیت میں مبتلا کر دیا ہے ۔

محلہ چشتیاں کے ساجد اقبال نے کہا نے میرا کنکشن ختم ہوئے دس سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن مجھے نوٹس بھیج دیا گیا ہے کہ فلاں تاریخ تک واٹر سپلائی کا بل جمع کراؤ جو کہ دس ہزار بنتا ہے کہ جمع کراؤ ورنہ تمہارے خلاف قانونی کاروائی ہوگی۔

ایک اور شہری پرویز نے کہا میرے گھر 6 سال سے واٹر سپلائی کا پانی نہیں آتا ہے لیکن میرے گھر بلدیہ جہلم کے اہلکاروں نے سات ہزار بل بھیج دیا ہے اور مقررہ تاریخ تک نہ جمع کروانے پر جیل جانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے میونسپل افیسر فنانس سرفراز خان سے جب موقف لیا گیا اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ یہ محکمے کا غیر زمی داران کام ہے۔

شہریوں نے ڈی سی جہلم اقبال حسین سے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button