جہلم

محکمہ اوقاف کا غیر رجسٹرڈ درباروں اور مدارس کے خلاف کارروائی کا آغاز

جہلم: محکمہ اوقاف کا غیر رجسٹرڈ درباروں اور مدارس کے خلاف کاروائی کا آغاز، ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں قائم درجنوں درباروں و مدارس کونوٹسسز جاری، منتظمین فی الفور درباروں و مدارس کی رجسٹریشن کروائیں ، ایڈمنسٹریٹر اوقاف کی جانب سے ضلع جہلم کے64درباروں کو نوٹسسز جاری کرتے ہوئے رجسٹریشن کے لئے معلومات فراہمی کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ اوقاف نے غیر رجسٹرڈ درباروں اور مدارس کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے ضلع جہلم چاروں تحصیلو ں میں قائم 64درباروں اور غیر رجسٹرڈ مدارس کونوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں درباروں کے منتظمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فی الفور درباروں و مدارس کی رجسٹریشن کروائیں۔

اس ضمن میں ایڈمنسٹریٹر اوقاف کے جانب سے ضلع جہلم میں64درباروں کو نوٹسسز جاری کرتے ہوئے انہیں رجسٹریشن کے لئے معلومات فراہمی کی ہدایت کی گئی ہے اور تنبیہ کی گئی ہے کہ اس حوالے سے غلط معلومات مہیا کرنے والے منتظمین کو5سال قید اور 25لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں جبکہ معلومات اور رجسٹریشن سے انکارکی صورت میں منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

گزشتہ سال پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد نافذ ہونے والے پنجاب وقف پراپرٹیز (ترمیمی)ایکٹ2020کے تحت چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب سے تمام وقف پراپرٹیز کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا تھا جس کے لئے چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب نے نوٹیفکیشن نمبرSOP-5(1)DDE/2019میں قرار دیا ہے کہ ایسی تمام وقف پراپرٹیز جو محکمہ اوقاف کی تحویل میں ہیں لیکن ان کا انتظام و انصرام نجی طور پر کیا جاتا ہے انہیں پنجاب وقف پراپرٹیز (رجسٹریشن) رولز2020کے تحت90دن کے اندر رجسٹریشن کرانا ضروری ہوگا۔

اس ضمن میں ایڈمنسٹریٹر اوقاف نے بتایا کہ غیر رجسٹرڈ درباروں ، مساجد اور مدارس کا سروے شروع کر دیا گیا ہے پہلے مرحلے میںجہلم شہر میں واقع غیر رجسٹرڈ درباروں کو نوٹسسز جاری کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کا مقصد تمام ٹرسٹ ریکارڈ پر لانا ہے جس کے تحت تمام دربار وں اور مزاروں کی انتظامیہ سالانہ آمدن کی تفصیلات جمع کروانے کی پابند ہو گی جن درباروں کو نوٹسسز جاری کئے گئے ہیں غلط معلومات فراہم کرنے والوں کو5سال تک قید کی سزا کے ساتھ 25لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے جبکہ معلومات اور رجسٹریشن سے انکارکی صورت میں منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جبکہ درباروں، مزاروں ، مدارس اورمساجد میں گیزر اور ہیٹر جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اسی طرح مساجد کے امام حضرات کی تنخواہیں بھی سرکاری طور پر ادا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیوٹا کے اشتراک سے دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبا کے لئے کمپیوٹر اور لینگویج کورسز کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے ،رجسٹرڈ مدارس کے طلباء کو کمپیوٹر ہارڈ ویئر، سافٹ ویئراور ایم ایس ورڈ سمیت لینگویج کورس بھی کروائے جائیں گے تاکہ یہ طلبا دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی علوم سے بہرہ مند ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔

ٹیوٹا کے ذریعے کورسسز کرنے والے طلبا کو پنجاب ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ سے سرٹیفکیٹس / اسنادبھی جا ری کی جائیں گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button