’’لے پالک‘‘ بادشاہ

تحریر: محمد امجد بٹ

0

بچپن میں جب کوئی کہانی سنتے تھے تواس کا آغاز کچھ ایسے ہی ہوتا تھا کہ ایک تھا بادشاہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ،خیر ہوتا پھر کچھ یوں کہ بادشاہ جب ایک دن سو کر اٹھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو کسی اندھیرے جنگل میں ہے اور اسکے ساتھ تو کوئی بھی نہیں۔

خیر قصہ مختصر بادشاہ کو یا تو خواب میں کوئی بشارت ہوتی ہے یا کوئی ’’ بزرررگ‘‘مدد کرتے تھے اور بادشاہ کو نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی سلطنت واپس مل جاتی تھی بلکہ ایک عدد خوبصورت ملکہ بھی مل جاتی تھی اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتے تھے مگر کہانی میں موجود ’’ بزرررگ‘‘ کہاں سے آتے تھے اور آتے ہیں ،چلے جاتے تھے چلے آتے ہیں۔

یہ کھبی کسی کہانی میں پتہ نہیں چل سکا شاید بادشاہ گروں کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ منظر عام پر نہیں ہوتے مگر اقتدار کا کھیل انکے ہاتھوں میں ہی ہوتا ہے اسی طرح کے ’’ بزررگ‘‘ نے ایک بادشاہ کے بعد ایک لے پالک بیٹے کو نیا بادشاہ بنا دیا جس نے آتے ہی بہت سی تبدیلیاں کیں، قوانین بدل دئیے اصلاحات کے نام سے نئے سلسلے شروع کئے گئے جو سارے فلاپ ہوتے گئے۔

ایک روز نئے بادشاہ نے اعلان کیا کہ ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘او ر یہ کیا کہ کئی ملازمین میرے دادا کے زمانے سے ایک ہی کام کررہے ہیں ہم حکم دیتے ہیں کہ کسی بھی شخص کو تمام عمر ایک جگہ نہ رکھا جائے بلکہ کچھ وقت کے بعد تبدیل کر دیا جائے ۔

بادشاہ نے فوج کی تعداد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی فوج فارغ بیٹھی رہتی ہے لہذا شاہی فرمان کے تحت جس محکمہ میں جگہ خالی ہو وہاں فوج کو لگایا جائے ‘‘۔

فیصلہ پر کھلبلی مچ گئی اور سب نے اسے غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے مخالفت کی لیکن بادشاہ کے آگے سب کو خاموش ہو ناپڑا ، ایک صبح بادشاہ نے شاہی لباس منگوایا تو اس کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ اس کا رنگ پھیکا اور وہ جگہ جگہ سے پھٹا اور ادھڑاہو اتھا ۔ اس نے غصے سے پوچھا ’’ یہ کیا مذاق ہے‘‘‘؟؟؟ جاہ پناہ سب دھوبی دربار سے جاچکے ان کی جگہ آپ کے حکم پر فوجیوں کو لگایا گیا ہے اور ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘دوسرے وزیر نے کہا۔

بادشاہ غصے میں ناشتے کی میز پر بیٹھا اور ناشتہ دیکھتے ہی آگ بگولہ ہو گیا اور کہا ’’یہ کس قسم کا ناشتہ ہے‘‘؟؟

وزیر نے کہا تما م باورچی فارغ کر کے فوجیوں کو لگایا گیا ہے۔ دوسرے وزیر نے کہا۔

ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘بادشاہ غصے میں وہاں سے چل دیا اور اپنی گھوڑا گاڑی پر سوار ہو گیاتھوڑی دیر بعد ایک جھٹکا لگا اور بادشاہ گر گیا اور اسکی ٹانگ ٹوٹ گئی بادشاہ چلایا کیا تم کو گھوڑا گاڑی چلانی نہیں آتی؟؟؟

وزیر نے کہا کہ گھوڑا گاڑی والے کو دوسر ے محکمہ میں بھیج کر چرواہوں کو بھرتی کیا گیا جہاں پناہ ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘۔

بادشاہ چلایا ارے بد بختو طبیب کو بلاو
طبیب آیا تو اس نے ایک سفوف بادشاہ کی ٹانگ پر لگایا جس سے جلن اور بڑھ گئی بادشاہ چلایا یہ کیا لگا دیا ہے؟ میری ٹانگ کا گوشت پھٹ گیا ہے اسے جلدی سے اتارو، وزیر نے کہا کہ شاہی طبیب کی جگہ دھوبی بھرتی کیا گیا ہے اور حضور والا ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘ یہ بھی سیکھ جائے گا۔

بادشاہ غصے سے لال پیلا ہو گیا اور کہا کہ بکواس بند کرو اور مجھے شفاخانے لے چلو۔

فوری طور پر پالکی منگوائی گئی جوں ہی بادشاہ سوار ہو ا وہ ڈولنے لگی ۔ بادشاہ کھبی یہاں کبھی وہاں،،،،،،اس نے دیکھا تو درباری رقاص اسکی پالکی اٹھائے ہوئے تھے۔

بادشاہ چیخا ۔۔۔۔۔ اف خدایا!!!!!!!! یہ تو ہماری جان لینے کا منصوبہ ہے اسکو روکو نہیں تو میں گرجاوں گا پالکی روکنے سے قبل ہی الٹ گئی اور بادشاہ زمین پر دراز ہو گیا

درباری رقاص اسکے آگے پیچھے رقص کر رہے تھے اور اپنے تائیں کوس رہے تھے۔بادشاہ ادھر ادھر ہمدردانہ نظرو ںسے دیکھنے لگا

اسی اثناء ایک بھاری بھرکم شخص نے بادشاہ کو کندھے سے اٹھا کر سر کے برابراٹھایا تو بادشاہ چیخا او ے ۔۔ میں بادشاہ ہو ں کوئی بوری نہیں۔

وزیر نے کہا کہ بادشاہ سلامت یہ تن ساز ہے اور سرکاری ویٹ لفٹر ہے فوجی کی جگہ یہ آپ کا باڈی گارڈ ہے

جناب ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘

بند کرو یہ بکواس ، بادشاہ چلایا اور کہا آج سے ہر عہدے کیلئے مناسب اور موزوں شخص کو بھرتی کرو لیکن جہاں پناہ آپ نے تو۔۔؟

دوسرا وزیر کہنے والا تھا کہ بادشاہ چلایا۔ ہاں۔ ہاں۔ میں جانتا ہوں

فورا کسی قابل اور ذہین شخص کو لایا جائے اور اس کو بادشاہ بنایا جائے اگر میں مذید اس عہدے پر فائز رہا تو پھرررر مھارا
’’نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘

مذکورہ کہانی کی موجودہ سیاسی حالات سے مماثلت اتفاقیہ ہو سکتی ہے یا سمجھی جائے۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.