شان حضرت امام حسین علیہ السلام

تحریر: محمد برھان الحق جلالیؔ

0

انسانوں میں کچھ ہستیاں ایسی اس کائنات عالم کے اندر تشریف لائیں جن پر نہ صرف ساری انسانیت کو ناز ہے بلکہ خود اللہ رب العزت بھی نازاں ہے اورسب سے بڑھ کر ان کا ذکر قرآن کریم میں بڑے ہی احسن انداز میں فرماتا ہے- ان عظیم ہستیوں کا دنیا میں آنا اور دنیا سے رخصت ہونا عام انسانوں کی طرح نہیں بلکہ ان وجودوں کے خمیر میں وہ تاثیر رکھ دی کہ جو ان کے وجود مبارک کی طرف نگاہ اٹھاتا ہے اسے وہ وجود مقدس قرب خداوندی کا انعام عطا کرتے ہیں- ان کے قلوب کا تصفیہ ،ان کی روحوں کی نورانیت اور اُن کی عقلوں کی لطافت اس قدر پاکیزہ اور طیب و طاہر ہوتی ہے کہ خود پروردگارِ عالَم نے اِس کا تذکرہ قرآن کریم میں اِس انداز میں فرمایا ہے :-
﴿ اِنَّمَا یُرِیْدُ اﷲُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا﴾ ﴿الاحزاب :۳۳﴾
’’اے میرے نبی کے اہل بیت ، اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے تمہارے لئے کہ تم سے ناپاکی کو دور کر دے اور تمہیں پوری طرح پاک اور صاف رکھے‘‘-
اللہ تعالی نے آقا کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے اہل بیت اطہار سے محبت کرنے کا حکم دیا
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی.
’’فرما دیجیے: میں اِس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا مگر (میری) قرابت (اور اﷲ کی قربت) سے محبت (چاہتا ہوں)‘‘
(الشوریٰ، 42: 23)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل بیت اطہار بالخصوص حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے شدید محبت فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ فرمانِ خداوندی کے ذریعے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امت پر بھی محبت اہل بیت کو واجب و ضروری قرار دے رہے ہیں۔
حسین ابن علی (امام حسین) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھوٹے نواسے اور علی بن ابی طالب و فاطمہ زہرا کے چھوٹے بیٹے تھے۔ ‘حسین’ نام اور ابو عبد اللہ کنیت ہے
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ اور فضیلت و شان پر جو کچھ ارشاد فرمایا، کتب حدیث ان سے بھری پڑی ہیں۔ اس موقع پر ہم ان چند احادیث کا مطالعہ کریں گے جن کے ذریعے ہمیں نہ صرف حضرت امام حسین علیہ السلام کے مقام و مرتبہ سے آگاہی ہوگی بلکہ ان سے محبت کی ضرورت و اہمیت کا پتہ ہی چلے گا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کو حضور بنی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا میں اپنا پھول قرار دیا ہے
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
هُمَا رَیْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْیَا.
(البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین، 3/ 1371، الرقم: 3543)
’’(حسن اور حسین) گلشن دنیا میں میرے دو خوشبودار پھول ہیں‘‘۔
لفظ ’’ریحان‘‘ کے معانی:
لفظ ’’ریحانتان‘‘ کا معنی ہمیشہ ’’دو پھول‘‘ کیا جاتا ہے۔ غریب الحدیث کی کتب میں جب لفظ ’’ریحان‘‘ کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے پانچ معانی ملتے ہیں مگر عام طور پر شارحین حدیث نے اس کے ایک معنی ’’پھول‘‘ پر اکتفا کیا ہے۔ ان پانچ میں سے ایک معنی ایسا ہے جس نے مجھے ایمانی فرحت اور روحانی لذت دی ہے۔ آیئے پہلے ’’ریحان‘‘ کے ابتدائی چار معانی کے اسرار و رموز کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر آخری معنی پر بات کریں گے جو ایمانی و روحانی حلاوت کا باعث ہے۔
خوشبو دار پھول
’’ریحان‘‘ کا ایک معنی زمین سے اُگنے والی خوشبودار شے ہے۔ اس سے پھول کا معنی لیا گیا۔ اس معنی کے اعتبار سے بھی حدیثِ مبارک کا مفہوم واضح ہے۔ آقا علیہ السلام ہمیشہ جب بھی حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو اٹھاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پکڑ کر سب سے پہلے سونگھتے تھے، پھر چومتے تھے اور چومنے کے بعد ان کو اپنے سینے سے لپٹا لیتے تھے۔
اہل بیت اطہار میں محبوب کون؟
حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہہ
سُئِلَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم أَيُّ أَهْلِ بَیْتِکَ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ وَکَانَ یَقُولُ لِفَاطِمَةَ ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ فَیَشُمُّهُمَا وَیَضُمُّهُمَا إِلَیْهِ.
جامع الترمذی، الرقم:3781
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا اہل بیت میں سے آپ کو کون زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حسن اور حسین۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ j سے فرمایا کرتے تھے کہ میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلائو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو سونگھتے اور اپنے ساتھ چمٹالیتے‘‘۔
آقائے کریم نے فرمایا حضرت امام حسین میرا قبیلہ بلکہ امت خیر ہیں
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے سیدنا امام حسین علیہ السلام کے لیے فرمایا:
حُسَیْن سبطٌ مِّنَ الأسْبَاطِ.
(ابن ماجہ، السنن، 1/51، رقم 144)
’’ حسین میرا ’سبط‘ ہے‘‘۔
سبط کسے کہتے ہیں؟
• ’سبط‘ عربی زبان میں ’قبیلہ‘ کو بھی کہتے ہیں۔ مگر ایک خاص معنیٰ جو امام ابن الاثیر نے ’النہایہ‘ میں بیان کیا: وہ یہ ہے:
أی أمة من الأمم فی الخیر.
(الجزری، النہایة فی غریب الاثر، 2/334)
یعنی خیر اور نیکی کے کاموں میں امام حسین رضی اللہ عنہ از خود تنہا ایک جان ہو کر ایک پوری امت ہیں‘‘۔
گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے حسین کو فقط ایک شخص نہ سمجھنا، میرے حسین کو فقط ایک انفرادی اکائی نہ سمجھنا۔ ہو سبط من الأسباط۔ وہ ایک پوری مکمل امت ہے، میری امت میں سے تنہا حسین اتنا عظیم کام کرے گا جو پوری امت اجتماعی طور پر بھی نہیں کرسکتی۔
امام ابن الاثیر فرماتے ہیں کہ:
فهو واقعٌ علی الأمة والأمة واقعةٌ علیه. (ایضاً)
سبط امت کو کہتے ہیں اور کبھی امت، سبط کو کہتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کا مترادف ہیں۔
حضرت علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے اس کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ امت ہے۔ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ تنہا حسن و حسین سے ایک قبیلہ جنم لے گا، دیکھنے میں دو وجود ہیں مگر ان سے قبائل پیدا ہوں گے، آلِ رسول، ذریتِ رسول اور نسلِ رسول پیدا ہوگی۔ خلقِ کثیر پیدا ہوگی اور قیامت تک میری نسل، میری ذریت اور میری آل حسن و حسین کے ذریعے زندہ و تابندہ رہے گی، اس کی بقا ہوگی اور وہ ایک پوری امت کا درجہ پائے گی۔
یعلی بن مرہ سے روایت ہے :ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے ساتھ ایک دعوت میں جا رہے تھے تو آنحضرت نے دیکھا کہ حسین ؑ سکوں سے کھیل رہے ہیں تو آپ نے کھڑے ہوکر اپنے دونوں ہاتھ امام ؑ کی طرف پھیلادئے ،آپ مسکرارہے تھے اور کہتے جا رہے تھے، بیٹا ادھر آؤ ادھرآؤیہاں تک کہ آپ نے امام حسین علیہ السلام کو اپنی آغوش میں لے لیاایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرے سے سر پکڑ کر ان کے بوسے لئے اور فرمایا:’’حسین منی وانامن حسین،احب اللّٰہ من احب حسینا،حسین سبط من الاسباط
’’حسین ؑ مجھ سے ہے اور میں حسین ؑ سے ہوں خدایاجو حسین ؑ محبت کرے تو اس سے محبت کر ، حسین ؑ بیٹوں میں سے ایک بیٹا ہے ‘‘
سنن ابن ماجہ ،جلد ۱،صفحہ ۵۶۔مسند احمد، جلد ۴،صفحہ ۱۷۲۔اسد الغابہ، جلد ۲،صفحہ ۱۹۔تہذیب الکمال،صفحہ ۷۱۔تیسیر الوصول ،جلد ۳، صفحہ ۲۷۶۔مستدرک حاکم ،جلد ۳،صفحہ ۱۷۷۔
جنتی جوانوں کے سردار
آقاکریم علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا:
الحسن والحسین سیدا شباب أهل الجنة.
(احمد بن حنبل، المسند، 3/3، رقم 11012، 3/62، رقم 11612)
’’حسن و حسین رضی اللہ عنہما کل جنتی جوانوں کے سردار ہیں‘‘۔
۔ابو ہریرہ سے روایت ہے :میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ (ص)امام حسین ؑ کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے یہ فرما رہے تھے :
’’اللھم انی احِبُّہ فاحبّہ
‘‘۔’’پروردگار میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر ‘‘۔
مستدرک حاکم ،جلد ۳،صفحہ ۱۷۷۔نور الابصار، صفحہ ۱۲۹:اللھم انی اُ حِبُّہ وَ أُحِبَّ کُلَّ مَنْ یُحِبُّہُ‘‘۔ ’’خدایا میں اس کو دوست رکھتا اور جو اس کو دوست رکھتا ہے اس کوبھی دوست رکھتاہوں‘‘
سوار کتنا اچھا ہے؟
بن عباس سے مروی ہے :رسول اسلام اپنے کا ندھے پر حسین ؑ کو بٹھا ئے لئے جا رہے تھے تو ایک شخص نے کہا : ’’نِعم المرکب رکبت یاغلام ،فاجا بہ الرسول :’’ونعم الراکب ھُوَ ‘‘۔’’کتنا اچھا مرکب (سواری )ہے جو اس بچہ کو اٹھا ئے ہوئے ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے جواب میں فرمایا:’’یہ سوار بہت اچھا ہے ‘‘۔
تاجِ جامع للاصول ،جلد ۳،صفحہ ۲۱۸۔
حضرت امام حسین علیہ السلام سے محبت:۔
حضور سرورِ کائنات ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
اَحَبَّ اللّٰہُ مَنْ اَ حَبَّ حُسَیْنَا
جس نے حسین سے محبت کی اس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی (مشکوٰۃ شریف صفحہ 571
مَنْ اَ حَبَّھُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَ مَنْ اَبْغَضُھُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ
جس نے ان دونوں سے محبت کی تو اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی (اشرف المؤیہ صفحہ 71)
ایک دن نبی کریم علیہ السلام اپنی بیٹی حضرت خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لائے تو سیدہ کونین نے عرض کی ابا جان آج صبح سے میرے دونوں شہزادے حسن و حسین گم ہیں اور مجھے کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ ابھی حضور علیہ السلام نے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام فوراً حاضر خدمت ہوئے اور عرض کی
یا رسو ل علیہ السلام انھمافی مکانٍ کدا وکدا و قد وکل بھما ملک یحفظھما
یعنی دونوں شہزادے فلاں مقام پر لٹیے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کی حفاظت کے لئے ایک فرشتہ مقرر کر دیا ۔حضرت زہرا ء سے فرما دو کہ وہ پریشان نہ ہو
۔( نزہۃالمجالس جلد 2صفحہ 233) –
پس حضور علیہ السلام اس مقام پر گئے تو دونوں شہزادے آرام کر رہے تھے اور فرشتے نے ایک پر نیچے اور دوسرا اوپر رکھا ہوا تھا۔)
مشکٰوۃ شریف صفحہ570 ۔ ترمذی شریف جلد 2 صفحہ(218
یہ صرف چند احادیث ہیں مضمون کی طوالت کے خوف سے اس کو ادھر ہی ختم کرتا ہوں
اگر اس مضمون میں کہیں بھی بندہ ناچیز کی طرف سے کوئی غلطی کوتاہی کستاخی ہو گئی ہو تو اللہ رب العذت کی بارگاہ میں توبہ استغفار کرتا ہوں
اللہ ان ہستیوں کے صدقے سب کی مشکلات آسان فرما
سب کو نیک راہ پر چلنے کی توفیق عطاء فرما
اور اس دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ان کو آزادی کی نعمت عطاء فرما آمین

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.