بے شک قائد اعظم عاشق ِ رسول تھے! — تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا

0

قانون قدرت ہے فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اور حقیقی لیڈر کبھی بنایا نہیں جاتا بلکہ قدرتی طور پر جنم لیتا ہے۔ اللہ اور اللہ کے پیارے حبیب ﷺ کا بہت فضل و کرم رہا ہے برصغیر کے مسلمانوں پر جو قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی صورت میں عظیم لیڈر عطا ہوا۔ دنیا قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کو ’’ایک عظیم لیڈر‘‘ تسلیم کرتی اور فخریہ کہتی ہے۔ اور یہ بات شک و شبہ سے بے شک بالہ ہے۔لیکن دنیا نہیں جانتی کہ قائد اعظم محمد علی جناح صرف اعلیٰ درجہ کے عظیم سیاست دا ن ہی نہیں بلکہ فخر الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے منظور نظرتھے!تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کرنے سے پتا چلتا ہے کہ سردارالانبیاء حضرت محمد ﷺ نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل ’’جو حق و صداقت‘‘ کا سبق پڑھایا تھا۔ اس کلمہ ِ حق کی روشنی میں ’’دنیا کے انسان دو حصوں میں تقسیم ہوگئے‘‘ ایک مسلم اوردوسرے غیر مسلم‘‘ اور کچھ بدنصیب منافقت کی وجہ سے منافق ہوگئے۔ جو مسلمانوں نے روپ میں اللہ پاک کے پسندیدہ دین اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔عظیم الشان نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے مسلمانوں کی اتنی عظیم تربیت کی فرشتوں سے بھی انسان افضل ہو گیا۔اللہ پاک نے ’’انسان کو افضل المخلوقات‘‘ بنایا اور انسان کو انسانیت کا درس دیا۔ انسانیت کا درس ہی دراصل ’’اسلام کا درس‘‘ ہے۔ کتنا عظیم مرتبہ ہے مسلمانوں کا،اللہ پاک نے اپنا پیارا محبوب خاتم النبین سردارالانبیاء حضرت محمد ﷺ کے دین فطرت ’’اسلام‘‘ کو پسند کر لیا۔ سبحان اللہ۔
جو لو گ قائد اعظم محمد علی جناح کو صرف ایک عظیم انسان ایک عظیم لیڈر ایک عظیم وکیل ہی سمجھتے ہیں وہ اپنی جگہ درست ہیں مگر سچ تو یہ ہے قائد اعظم محمد علی جناح ’’کی اعلیٰ بصیرت اور عشق نبی ﷺ سے قوم پوری طرح آگاہ نہیں‘‘قائد اعظم محمد علی جناح کو جو لوگ ’’ ولی اللہ ‘‘ نہیں سمجھتے ان کے لئے ۔ ایک واقعہ عرض ہے قائد اعظم محمد علی جناح کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو سنہری حروف میں درج ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اپنے دوست کو خواب کی روئیداد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں ایک رات لندن میں اپنے فلیٹ میں سویا ہوا تھا رات کا آخری پہر ہوگا میرے بستر کو کسی نے ہلایا میں نے آنکھیں کھولی اِدھر اُدھر دیکھا کوئی نظر نہیں آیا پھر سو گیا۔ میرا بستر پھر ہلا میں پھر اُٹھا گھر میں ادھر اُدھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا سوچا زلزلہ آیا ہو گا۔ کمرے سے باہر نکل کر دوسرے فلیٹوں کا جائزہ لیا جائے لیکن فلیٹوں میں مکمل سناٹا تھا تمام لوگ مزے کی نیند سو رہے تھے، میں واپس آکر کمرے میں سو گیا۔ کچھ دیر گزری تھی کہ تیسری بار پھر کسی نے میرا بستر نہایت زور سے جھنجھوڑا۔ میں بڑ بڑا کر اُٹھا۔ پورا کمرہ معطر تھا میں نے فوری طور پر محسوس کیا کہ کوئی غیر معمولی شخصیت میرے کمرے میں موجود ہے۔ میں نے کہا آپ کون ہیں آگے سے جواب آیا تیرا پیغمبر ؐ ہوں۔ میں جہاں تھا وہیں بیٹھ گیا۔دونوں ہاتھ باندھ لئے اور سر جھکا لیا۔ فوراً میرے منہ سے نکلا آپ ﷺ پر سلام ہو۔ ایک بار پھر وہ خوبصورت آواز گونجی۔ جناح بر عظیم کے مسلمانوں کو تمہاری ضرورت ہے اور تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تحریک آزادی کا فریضہ سرانجام دو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں بالکل فکر نہ کرنا۔ انشاء اللہ ہم ا پنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔ میں ہمہ تن گوش تھا صرف اتنا کہہ پایا کہ آپ ﷺکا حکم سر آنکھوں پہ۔ میں مسرت او ر حیرت کے اتھا ہ سمندر میں غرق تھا کہ کہاںآپ ﷺ کی ذاتِ اقدس اور کہاں میں اور پھر شرف ہم کلامی۔ یہ عظیم واقعہ میری برصغیر واپسی کا مؤجب بنا۔ہم عاشقانِ رسول ﷺ کو فخر ہیں کہ اللہ پاک نے ہمیں پیارے نبی غفور و رحیم کی امت سے پیدا کیا۔ ہمیں دین اسلام کی توفیق دی اور دین اسلام ہی وہ واحد دین فطرت ہے
جو اللہ پاک نے تمام دینوں سے چنا ہوا ہے!اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو رب العالمین نے ہم جیسے گناہ گاروں، سیاکاروں، خطاکاروں کو اپنے پیارے نبی کی اُمت سے پیدا کیا۔ جہاں تک قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کا تعلق ہے تو پہلے بھی عرض کرچکا ہوں۔کہ آپ سچے اور پکے عاشق رسول تھے! حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ کا ایک واقعہ جس میں وہ فرماتے ہیں کہ میں قیام پاکستان کا اس لیے حامی ہوگیا کہ خواب میں قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی طرف اشارہ کر کے سید البشررسالت ِ مآب ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ دیکھو اس شخص کی مخالفت نہ کرنا میری مظلوم اُمت کے لیے ہندوستان میں بڑی خدمت سرانجام دے رہا ہے۔ جو اس کی مخالفت کرے گا وہ پاش پاش ہوجائے گا۔ یہ دو واقعات حضرت محمد قائد اعظم علی جناح ؒ کے مسلک حقیقی، ترجمان اور بارگاہ رسالت ﷺ کے ساتھ تعلق کا پتہ دیتے ہیں۔قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے بنیادی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام میں حاصل کرنے کے بعد جب وہ بیرسٹری کی اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک روانہ ہوئے تو انہوں نے دوسرے اداروں کو چھوڑ کر لنکزان کا انتخاب کیا۔ قائداعظمؒ 1948ء میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے جلسہعید میلاد النبی سے خطاب کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہوں نے لنکزان کا انتخاب اس لئے کیا کہ اس ادارے میں دنیا کے عظیم قانون سازوں (Law Givers) کے اسمائے گرامی میں نبی کریمؐ کا اسم گرامی بھی موجود تھا۔یہ انتخاب بھی ثابت کرتا ہے کہ قائد اعظم کو سردار الانبیاء سے سچی محبت تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے باطن میں حُب رسول کی روشنی موجود تھی کہ انہوں نبی کریمؐ کے اس اسم گرامی کی وجہ سے لنکزان کا انتخاب کیا۔دنیا ان کا ماڈرن سٹائل، مغربی لباس اور انگریزی بول چال کی وجہ سے سمجھتی ہے کہ قائد اعظم محمد عل جناح لبرل تھے۔ ایسا بلکل بھی نہیں تھا۔ یہ بھی سچ ہے آپ کے چہرے پر سنت رسول بھی نہیں تھی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ نے تمام عمر مہذبی رہنما یا پیشوا کے طور پر آپنے آپ کودنیا کے سامنے پیش نہیں کیا۔ آپ کے اندر کے انسان کو انسانیت کے اعلیٰ درجہ پر سمجھنے کے لئے آخر میں ایک مشہور واقعہ عرض کرتا ہوں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس منعقدہ 15 نومبر 1942 ء میں قائد اعظم نے فرمایا’’مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔
مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمد للہ، قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ’’6دسمبر 1943 کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران قائد اعظم نے فرمایا:-’’وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے، وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے؟ وہ رشتہ، وہ چٹان، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرانِ کریم ہے۔ مجھے امید ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے، قرآنِ مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا، ایک کتاب، ایک رسول، ایک امت ’’اورقائد اعظم نے 17 ستمبر 1944ء کو گاندھی جی کے نام اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا:-’’قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ اس میں مذہبی اور مجلسی، دیوانی اور فوجداری، عسکری اور تعزیری، معاشی اور معاشرتی سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ یہ مذہبی رسوم سے لے کر جسم کی صحت تک، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق تک، اخلاق سیلے کر انسدادِ جرائم تک، زندگی میں سزا و جزا سے لے کر آخرت کی جزا و سزا تک غرض کہ ہر قول و فعل اور ہر حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔ لہذا جب میں کہتا ہوں کہ مسلمان ایک قوم ہیں تو حیات اور مابعد حیات کے ہر معیار اور پیمانے کے مطابق کہتا ہوں ’’اللہ پاک کروٹ کروٹ سکون راحت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ بیشک قائد اعظم محمد علی جناح سچے عاشقِ رسول تھے!

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.