مجھے انصاف دو

تحریر: سندس سیدہ

0

چند روز قبل اے ٹی ایم کیس کو لیکر ایک ملکی سطح پر ابھرتا ہوا مسئلہ سامنے آیا، اس حوالے سے جس شخص کو گرفتار کیا گیا اس کا نام صلاح الدین تھا۔ میں یہ نہیں کہتی کے صلاح الدین پر ہونے والی ایذارسانی کسی طور درست ہے۔ بلکہ صلاح الدین سمیت کسی بھی ملزم کو سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کو ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پولیس ہر ملزم جس پر عدالت نے کوئی جرم ثابت نہیں کیا اس پر پولیس اپنی عدالت لگا کر سزا دے۔۔۔صلاح الدین کے معاملے پر بہت کم لوگوں نے اس حوالے سے دوسرا مؤقف اختیار کیا ہے یا شاید انہوں نے صلاح الدین کی موت کے بعد سے اے ٹی ایم معاملے پر خاموشی اختیار کر لی ہے۔

میں ایک بار پھر سے یہ باور کروا دوں کہ میں پولیس ٹارچر سمیت ہر طرح کے تشدد کے خلاف ہوں۔ اس حوالے سے میں کسی بھی طرح کی کوئی دلیل سننے کے لیے تیار نہیں۔ عدالتیں موجود ہیں پولیس کاروائی کرے چالان پیش کرے اور عدالت جانے اور ملزم ۔۔

انصاف ۔۔۔۔ صلاح الدین کو انصاف دو۔۔۔۔ اور یہ ہی فریاد ان لوگوں کی ہے جو کہ صلاح الدین کے تشدد کا نشانہ بنے۔ جی ہاں صلاح الدین کی جانب سے کیے گئے تشدد کا نشانہ، کسی کو پیسوں کی ضرورت تھی اور کسی کے بچے بھوکے تھے، کسی کا باپ ہستال میں تھا اور کوئی اس مسئلے پر بنکوں کے چکر لگاتا رہا کہ انکا اے ٹی ایم کارڈ جو کہ رقم نکلوانے کے لیے اے ٹی ایم مشین میں ڈالنے کے بعد باہر نہ نکل سکا وہ آخر گیا کہاں۔ سی سی ٹی وی کیمروں نے ان رازوں سے پردہ اٹھایا لیکن بے فائدہ۔ صلاح الدین جسکا مجرم تھا وہ لوگ پولیس کو گالیاں دے رہے تھے۔ پولیس برابر کی شریک ہے یہ ہی لوگ تو مل کر چوری کرتے ہیں ان کے ساتھ اسی لیے تو مجرم نہیں مل رہا۔

ٹیلی ویژن پر صلاح الدین کی خبر آ رہی ہے۔ یہ وہ ہی ہے۔۔۔۔ اس کی وجہ سے میرا اے ٹی ایم کارڈ والا مسئلہ ہوا تھا۔ میری بہن مجھ پر ہنسنے لگی۔ یہ تو گونگا ہے اور اسکا ذہن بھی ٹھیک نہیں ہے یہ چوری کرے گا کارڈ؟

لیکن اب ہنسنے کی باری میری تھی۔۔۔۔ کیونکہ اگلی خبر تھی کہ صلاح الدین بولنے لگ گیا ہے، وہ فریب کر رہا تھا۔ بہن نے کہا چلو ذہنی توازن تو ٹھیک نہیں ہے نا۔۔۔۔ لیکن پھر معلوم ہوا کہ اس نے اپنا نام پتہ بھائی والد کے حوالے سے تفصیل بھی بتا دی۔ جیل میں قیدیوں کو مارنے لگا۔ بیچارے کا ذہن ٹھیک نہیں ہے نا۔۔۔۔

اف پولیس نے یہ کیا کیا ہے ایذارسانی (ٹارچر) کرنے سے صلاح الدین کی موت واقع ہو گئی ہے۔ اف کتنے ظالم ہیں یہ پولیس والے، اے ٹی ایم کارڈ چوری کرنے اور لوگوں پر ذہنی اور اقتصادی تشدد کرنے کی اتنی بڑی سزا؟

بہن نے پوچھا کیا ریاست کے ادارے تشدد کر سکتے ہیں؟ انکو اجازت ہوتی ہے؟ بھائی نے کہا بہت مارتے ہیں پولیس والے ابھی تمہیں معلوم نہیں ہے۔ واقعی۔۔۔۔ افففف کتنے ظالم ہیں نا؟ ہاں ظالم تو ہیں لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب ریاست کے یہ ادارے عوام کے تحفظ کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے طاقت استعمال کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں تو ہم اس ظالم کے ساتھ ہو جاتے ہیں جو کہ عام عوام کا مجرم ہوتا ہے۔ ہم بہت منافق ہیں، ہم دلیلیں دینے لگتے ہیں کہ مجرم کے حق میں، کبھی یہ کہہ کر کہ چھوٹا چور ہے بڑا نہیں کبھی یہ کہہ کر کہ فلاں کو کیوں سزا نہیں ملی۔ یہ نہیں سوچتے کہ مجرم مجرم ہوتا ہے اور قانون کے مطابق اسکو سزا دی جانی چاہئے۔

ریاست کے ادارے (پولیس) کو قانون شکن افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار ہے۔ پھر انکو عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔ ملزم کو اپنے دفاع کا حق ہوتا ہے۔ عدالت گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرے کہ فرد یا افراد نے قانون شکنی کی ہے قید یا جرمانے سمیت قانون میں طے شدہ سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ یہ بھی طاقت کا ستعمال ہی ہے جسکا اختیار شہریوں نے اپنے تحفظ کے لیے ریاست کو سونپ رکھا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسا کریں۔ لیکن یہ صورتحال نہایت افسوسناک ہے کہ ریاستی ادارے سونپے گئے اختیارات کو عوام ہی کے خلاف استعمال کرنے لگتے ہیں۔ جو شہری اور ریاست کے مابین عمرانی معاہدے کی بدترین خلاف ورزی ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون میں تشدد(Violence ) اورایذا رسانی (Torture ) میں واضح فرق موجود ہے۔ٹارچر میں ریاستی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے۔ شہریوں کی جانب سے اپنی تحفظ کے لیے دیے گئے وسائل فراہم اور اختیارات کو اگر کوئی سرکاری اہلکار یا ادارہ شہریوں ہی کے خلاف استعمال کرنے لگے تو عمرانی معاہدہ ختم ہو جاتا ہے۔ہمارے ہاں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ تشدد کی زیادہ بھیانک یا خوفناک صورتوں کوٹارچر کہا جاتا ہے۔ یہ تاثر درست نہیں۔

اس سلسلے میں جب پولیس ٹارچر کر کے 1973 کے آئین 14 (2)(کسی شخص کو شہادت حاصل کرنے کے کی غرض سے اذیت نہیں دی جائے گی) کی خلاف ورزی کرتی ہے تو ظالم کا ظلم پیچھے رہ جاتا ہے اور ریاست کا ظلم قیامت اور کہر بن جاتا ہے۔ لیکن کیا ریاست کی جانب سے کیے گئے ظلم کو سامنے رکھ کر مجرم کی جانب سے کیے گئے مظالم کو بھول جائیں؟

شہری اور ریاست دونوں ہی عہد نہیں نبھا رہے۔ انکو عہد (قانون) کا پابند ہونا ہوگا ورنہ ظلم بڑھتا رہے گا۔ اور ہم جیسے لوگ جو تصویر کا ایک رخ دیکھ کر انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں ملک کی بقا اور سلامتی نہیں بس اپنا مفاد ہی دیکھتے رہیں گے۔ جن کے پاس ثبوت بھی نہیں ہے کہ کس نے ظلم کیا اور کیا ہوا۔

میں پولیس کی جانب سے تشدد کیے جانے کے خلاف ہوں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ صلاح الدین مکر و فریب کیوں کر رہا تھا کہ وہ قوت گویائی سے محروم ہے، کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ نشہ کرتا تھا اسکی حالت اس بات کا پتہ دے رہی تھی، کبھی اس نقطہ پر ذہن اٹک جاتا ہے کہ پہلے کہا جاتا رہا کہ وہ ذہنی طور پر معذور ہے اور ہاتھ پر نام پتہ اس لیے لکھا ہے اور پھر پولیس کے پوچھنے پر نام پتہ، والد کا نام، بھائی وغیرہ کے حوالے سے بتانے لگا۔ ہم کسی کی گواہی دیں تو کس بنیاد پر دیں؟ ہم وہ قوم ہیں جو سوچتے بعد میں ہیں اور ردعمل پہلے دیتے ہیں اور وہ بھی انتہائی شدید۔

کیا ہم نے کبھی یہ تحقیق کی ہے کہ پوسٹ مارٹم سے جسم کا کیا حال ہوتا ہے؟ کتنا تکلیف دہ ہے؟ اس سے جسم پر کیسے نشانات نمودار ہو جاتے ہیں؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ فریزر سے میت نکال کر باہر رکھنے کے کافی دیر بعد دفنانے سے کیسے نشانات بنتے ہیں؟ کیا کسی نشہ کرنے والے کی یا دل کا دورہ پڑنے سے مرنے والے کی موت ہونے پر جسم کی حالت کیا ہوتی ہے؟

یا پھر یہ نہیں معلوم کہ ظلم کرنے والا خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے کیا کیا حربے اپناتا ہے اور قانون کے رکھوالے کیسے چور راستے دیکھاتے ہیں. یا پولیس کو یہ معلوم نہیں کہ پولیس سروس ہے فورس نہیں ہے۔

اللہ ہمیں کسی کا جھوٹا گواہ نہ بنائے لیکن اللہ کبھی ہمیں ظالموں کا ساتھ دینے والا بھی نہ بنائے چاہے وہ ظلم ریاستی ادارے ٹارچر کی صورت میں کریں یا عام شہری تشدد کی صورت میں کریں۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.