جہلم

بلدیاتی الیکشن کی سرگرمیوں کے سلسلہ میں سیاسی جماعتوں اور،ڈیروں پر میٹنگز کا آغاز ہوگیا

جہلم: بلدیاتی الیکشن کی سرگرمیوں کے سلسلہ میں سیاسی جماعتوں اور،ڈیروں پر میٹنگز کا آغاز ہوگیا، میونسپل کارپوریشن کی نظامت کے لئے متعدد سیاست دانوں نے لنگوٹ کس لئے۔

پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ( ن)، پاکستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ق) پاکستان تحریک لبیک، پاکستان عوامی تحریک ،جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے متعددامیدواروں نے سیاسی جماعتوں سے ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے سیاسی قائدین سے روابط بڑھا لئے۔

اس طرح درجنوں امیدوار نظامت کے لئے آمنے سامنے، جنہیں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ ملیں گے کامیابی ان کا مقدر بنے گی ، پاکستان تحریک انصاف کی فی الحال پوزیشن کمزور ، پی ٹی آئی کے منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلیوں کی ناقص کارکردگی مہنگائی بے روزگاری ، پی ٹی آئی کے امیدواروں کی شکست کا سبب بنے گی ۔

رپورٹ کے مطابق بلدیاتی انتخابات ہونے کی امید جاگنے کے بعد سیاسی دفاتر اور سیاسی ڈیروں پر گھما گھمی شروع ہو چکی ہے ، میونسپل کارپوریشن کی نظامت کے لئے سب سے زیادہ امیدواران میدان میں اتریں گے ، جبکہ حکمران جماعت کے کاموں سے ایسا لگتا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں۔

چند ماہ بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل اندرون شہر کی سڑکیں ،مہنگائی، بے روزگاری ، اندرون شہر سے سرکاری دفاتر کا مضافاتی علاقوں میں منتقل ہونا، جیسے مسائل موجودہ حکومت کے لئے سب سے بڑے چیلنجز میں شامل ہونگے ۔ اگر دیکھا جائے تو بظاہر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد مجید چوہدری کا موجودہ کاموں میں اہم کردار ہے ، لیکن اس کے باوجود ضلع جہلم آج بھی پسماندگی کی منظر کشی کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر کا اپنا آبائی حلقہ این اے 67 بیشمار مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے ، ضلع بھر کی سڑکیں موہنجوداڑو کی منظر کشی کر رہی ہیں صاف پانی ، تعلیم، صحت جیسی سہولیات کا نام و نشان موجود نہیں ، ہزاروں نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے حصول ملازمت کے لئے دھکے کھاتے نظرآتے ہیں ، ضلع میں موجود فیکٹریاں بند ہورہی ہیں جس کیوجہ سے بے روزگار ی میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پچھلے 10 سالوں میں پنجاب کے 35 اضلاع میں ترقیاتی کام کروانے کی بجائے لاہور پر توجہ مرکوز کی اور لاہور کو پنجاب قرار دیکر پنجاب کے 35 اضلاع کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ اپنائے رکھا جس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، مسلم لیگ (ن) کی ترقیاتی کاموں میں عدم دلچسپی کیوجہ سے ضلع بھر کی سڑکیں ، گڑھوں میں تبدیل ہوئیں، شہر کے لئے منظور ہونے والی سیوریج سکیم ناقص حکمت عملی ، ناقص میٹریل کے استعمال کیوجہ سے شہریوں کے لئے مشکلات کا باعث بنی۔

مسلم لیگ (ن) کے آخری دنوں میں تعمیر ہونے والی رابطہ سڑکوں میں ناقص میٹریل کے استعمال کیوجہ سے محض چند ماہ بعد ہی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں جس کی وجہ سے ضلع جہلم کے شہری ذہنی طور پر مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی سے نالاں دکھائی دیتے ہیں ۔ پرنٹ ، الیکٹرانک ، سوشل میڈیا نے عوام کو اتنی آگاہی مہیاکر دی ہے کہ ہر زی شعور ووٹر اچھے برے کی پہچان کر سکتا ہے۔

میونسپل کارپوریشن کی نظامت کے لئے سابق تحصیل ناظم چوہدری غلام احمد زمرد، حاجی منور منہاس، سابق چیئرمین پبلک سیفٹی کمیشن چوہدری محمد عارف پی ٹی آئی جبکہ پاکستان مسلم لیگ( ن) کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری لال حسین ، سیاسی اکھاڑے میں نظرآتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button