پڑی درویزہ

پنجاب میں دور دراز دیہاتی علاقوں کے سرکاری کالج اسا تذہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے غیر آباد ہونے لگے

پڑی درویزہ: صوبہ پنجاب میں دور دراز دیہاتی علاقوں کے سرکاری کالج اسا تذہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے غیر آباد ہونے لگے ۔ طلبا ء و طالبات اور انکے والدین پریشانی کا شکار ۔صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن کو سابق تجربہ کار کالج ٹیچنگ انٹرنز کو خالی آسامیوں پر ترجیحی بنیادوں پر تعینات کرنے کا مشورہ۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے دیہی علاقوں کے سرکاری کالج اس وجہ سے غیر آباد ہو رہے ہیں کہ ان کالجوں میں اساتذہ موجود نہیں ہیں ۔ ہر کالج میں صرف ایک یا دو مستقل اساتذہ ہیں جو تمام مضامین کی تدریس کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ 15اگست 2018سے صوبہ پنجاب کے تمام تعلیمی ادارے موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کھل چکے ہیں جبکہ دیہی علاقوں کے کالجوں میں تاحال کا طلباء و طالبات کی حاضری معمول کے مطابق دکھائی نہیں دے رہی ہے کیونکہ ان کالجوں میں اساتذہ موجود ہی نہیں ہیں ۔ اکثر کالج صرف ایک یا دو مستقل اساتذہ کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

اطلاعات کے مطابق تمام مضامین کے اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے طلباء و طالبات اور ان کے والدین میں شدید قسم کی مایوسی او رپریشانی پائی جاتی ہے ۔ کالجوں کی انتظامیہ سابق تجربہ کار کالج ٹیچنگ انٹرنز کو بھی ڈیوٹی پر نہیں لے سکتی کیونکہ مذکورہ سی ٹی آئی کی بھرتی پالیسی برائے 2018-19ء کے آنے یا نہ آنے کے بارے میں کوئی اطلاع تک نہیں ہے ۔ نئے سال کا داخلہ بھی جاری ہے یا ہو چکا ہے لیکن انتظامیہ کے پاس سوائے پریشانی یا انتظار کے کوئی حل نہیں ہے ۔

صوبہ پنجاب بھر کے دیہی سرکاری کالجوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات اور انکے والدین کی اکثریت نے صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن (اعلیٰ تعلیم ) راجہ یاسر ہمایوں سرفراز سے مطالبہ کیا ہے تمام دیہاتی کالجوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کا تعلیمی مستقبل محفوظ کرنے کے لیے سابق9سال سے تدریسی تجربہ کے حامل کالج ٹیچنگ انٹرنز کو ترجیحی بنیادوں پر تمام کالجوں میں موجود خالی آسامیوں پرجلد از جلد تعینات کر دیا جائے جن خالی آسامیوں کے لیے تجربہ کار سی ٹی آئیز دستیاب نہ ہو کے لیے نئے سی ٹی آئیز کو بھرتی کر لیا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button