کالم و مضامین

محکمہ پولیس اور ہمارے روایتی رویے

تحریر: احتشام اشرف ملک

بات جب بھی محکمہ پولیس کی ہو تو عوام کے ذہن میں فور ی منفی تاثر ابھرتا ہے ایک عام پاکستانی سے جب پولیس کے بارے میں رائے لی جاتی ہے تو اس کا جواب ہوتا ہے بری نہیں بہت ہی بری ہے ان کے خلاف شکایات کا لا متناہی سلسلہ چل نکلتا ہے ایسا کیوں ہے اس کے لیے ہمیں بد گمانی کی سیاہ عینک اتار کر سب سے پہلے حقائق کا مطالعہ کرنا چاہیے کیو ں کہ کسی بھی فرد یا ادارے کے بارے میں منفی رائے رکھنا ہماری فطرت بن چکی ہے ۔

اگر پولیس کے اوقات کار کی طوالت اور ذمہ داریوں کو دیکھا جائے تو ہر ذی شعور کو اس بات کا ادراک ہے کے پولیس جتنی سخت اور طویل ڈیوٹی کوئی اور محکمہ نہیں کرتا پولیس کے علاوہ کسی محکمے کی ڈیوٹی چوبیس گھنٹے نہیں کبھی ہم نے ان کے احساسات اور جذبات کا خیال رکھا ہے کیا اپنی جان ہماری خاطر قربان کرنے والوں کی کبھی حوصلہ افزائی کی ہے ہم دن رات گالیاں دے دے کر انہیں روئے زمین کا منحوس ترین وجود ثابت کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ ان کی اچھائی بھی ہمیں زہر لگتی ہے ۔ اس کے باوجود وہ چلچلاتی دھوپ ، سخت ترین سردی اور درندہ نما انسانوں کے سامنے یونیفارم پہنے سینہ تان کے کھڑے ہوتے ہیں اور سینے پر گولیاں کھاتے ہیں ۔ !

آج کل سوشل میٖڈیا کا دور ہے اور اس کا استعمال ہر کسی کی دسترس میں ہے مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس کا استعمال اب صرف مخالفت برائے مخالفت رہ گیا ہے ۔ آج کل سوشل میڈیا پہ چند روز قبل چوآسیدن شاہ کے گاؤں میں ہونے والے پولیس مقابلہ کا بڑا چرچا ہے جس کو جعلی اور پولیس کی یکطرفہ کارروائی ثابت کرنے کے لیے باقاعدہ ایک مہم جاری ہے اور اس میں سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ پولیس کے جوانوں نے اپنی کاروائی کو سچ ثابت کرنے کے لیے خود ساختہ زخم لگائے مگر سوچنے کی بات ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی انسان اپنے آپ کو اتنے خطرناک زخم لگائے جس میں اسکی جان بھی جا سکتی ہو جبکہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق پولیس ملازمین کو لگنے والے فائر اتنے شدید تھے کہ جس سے ان کی جان بھی جا سکتی تھی۔

چکوال کو ضلع بنے پینتیس سال ہو چکے ہیں اور یہاں لا اینڈ آڈر کی صورت حال بانسبت دوسرے اضلاع کے بہت بہتر ہے ۔ سماج دشمن عناصر کے خلاف کاروائیوں میں ضلع چکوال کی پولیس فورس کے تئیس شہدا کا خون شامل ہے ۔ معاشرے کے کسی فرد نے کبھی ان اہلکاروں کے چہروں پر فرض کی ادائیگی کی پیچھے ان کی آنکھوں میں چھپی اس حسرت کو پڑھنے کی کوشش کی ہے کہ عید اور دیگر تہوار پر ان کے بچے کتنی شدت سے ان کا انتظار کرتے ہوں گے ۔ کیوں کے دیگر محکموں کے لوگ گھروں کو چلے جاتے ہیں اور پولیس والوں کی چھٹیاں بند کی دی جاتی ہیں۔

محکمانہ ڈیوٹی کی خاطر وہ اپنی خوشیاں قربان کر دیتے ہیں کیا کبھی کسی نے یہ سوچا ہے کہ تفریحی مکامات پر جب بچے اپنے والدین کے ہمراہ سیر و تفریح میں مشغول ہوتے ہیں تو کچھ فاصلے پر ان کی سیکورٹی کے فرائض ادا کرنے والا کانسٹیبل گھر جا کر اپنے بچوں کو کس طرح بہلاتا ہو گا ۔ فرض کریں اگر ایک دن کے لیے تھانے بند کر دیں تو چور ڈاکو لوٹ کہسوٹ کا بازار گرم کر دیں گے اگواہ کار لوگوں اگواہ کر لیں گے ۔ ظلم و زیادتی کی انتہا ہو جائے گی تو پھر لوگوں کو پولیس کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔

پولیس رات کو گشت کرتی ہے اور عوام سکون کی نیند سوتے ہیں ملک کے اندر آئے روز پولیس والے شہید ہو رہے ہیں پولیس والے 24گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں اور ان کی تنخواہ 08گھنٹے ڈیوٹی کرنے والے محکموں کے افراد کے برابر ہوتی ہے ۔ یہ وطن عزیز پر مر مٹنے والے لوگ ہیں جذبہ حب الوطنی ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اتنی تھوڑی سی تنخواہ میں کوئی بندہ جان قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا پولیس کے جوانوں کی وطن سے محبت ہیں انہیں جان قربان کرنے پر امادہ کر تی ہے۔

وطن عزیز کی خاطر اپنے بچوں کو یتیم کرواتے ہیں عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں بوڑھے والدین اپنے جوان بچوں کو دفناتے ہیں جہاں لوگ پولیس کو برا بھلا کہتے ہیں وہا ں پر مشکل وقت میں پولیس کو ہی پکارتے ہیں اور پولیس ہی ان کی مدد کو پہنچتی ہے ۔ خوشکی ہو یا بارش اندھی ہو یا طوفان گرمی ہو یا سردی پولیس والوں کے علاوہ کون ہے مائی کا لال جو 20سے 30ہزار تنخواہ کی خاطر اپنی جان قربان کر دے ۔

جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا ۔

پولیس والے خطر ناک ترین ڈاکوؤں ، مجرمان ، اشتہاری اور دہشت گردوں کو پکڑتے ہیں چاہے ان کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑے مختلف مذہبی و دیگر اجتماعات جہاں پر دہشت گردوں نے حملے کیے پولیس والوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے سینکڑوں ہزاروں لوگوں کی جانیں بچائیں اور دہشت گردوں کے مذموم عزئم پایا تکمیل کو نہ پہہنچ سکے خدا را تعصب کی عینک اتار کر دیکھئے کہ ہماری پولیس محدود وسائل کے اندر رہ کر بھی ترقی یافتہ ممامک کی پولیس کے مقابلے میں ڈیوٹی کر رہی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ترقی یافتہ ممالک کرائم فری ہیں قطعاً نہیں حالانکہ ان ممالک کی پولیس کے پا س ہم سے کئی گنا وسائل زیادہ ہیں ، ڈیوٹی کے اوقات کار مقرر ہیں۔

تما م تر معاشرتی بے حسی ،نفرت ، تنقید اور نقطہ چینی کے باوجود پولیس فورس اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف عمل ہے ، میرا ایک چھوٹا سا سوال ہے کیا ایسی پولیس بری یا بہت بری ہو سکتی ہے ، پولیس والوں کو برا بھلا کہنے کے بجائے ان کے ساتھ مسکراہٹوں کا تبادلہ کریں آپ رویوں میں واضح فرق دیکھیں گے۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button