دین اسلام صرف غالب نہیں ہو گا بلکہ قیامت تک رہے گا۔ امیر عبدالقدیر اعوان

0

دینہ: دین اسلام صرف غالب نہیں ہوگا بلکہ قیامت تک رہے گا ۔اللہ کریم اس کا گواہ ہے کہ قرآن مجید کی حفاظت اللہ کریم نے خود اپنے ذمہ لی ہے اور دنیا میں اس کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ صحیح عقیدہ بھی ہو اور اس پر عمل بھی ہو ۔

ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ،امیرتنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے دارالعرفان منارہ میں اکرم التفاسیر کی تقریب رونمائی کے موقع پر کیا ۔انہوں نے کہا کہ اپنی عقل و دانش کو چھوڑ کر دامانِ رسالتﷺ کو تھا م لیا جائے تا کہ ہم سیدھی راہ پر چل سکیں۔کیونکہ جو عقل کے اسیر ہوتے ہیں وہ اندازے لگاتے رہتے ہیں اور بھٹکتے رہتے ہیں دوسروں پر تنقید کی بجائے اپنے آپ کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔اور اپنے کردار کو مثالی بنانے کی ضرورت ہے ۔

یاد رہے حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 7 دسمبر کو ہوا ۔آپ وقت کے عظیم صوفی ،مفسر قرآن،مترجم قرآن ،شاعر ،ادیب اور بہت سے حوالے ہیں آپ کے تعارف کے آخری سانس تک اپنے مشن پر کار بند رہے ۔آپ کی حیات مبارکہ کے بہت سے پہلو ہیں جس کی مفصل تفصیل بشری اعجاز کی لکھی کتاب ” راہ نورد شوق” میں ہے ۔اس تقریب رونمائی اکرم التفاسیر میں ملک کے طول و عرض کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پروگرام میں تلاوت ،نعت اور موجودہ شیخ امیر عبدالقدیر اعوان نے خطاب کیا ۔پروگرام میں مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کے علاوہ سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم صاحب نے بھی شرکت کی۔ تفسیر قرآن کی سب سے پہلی تفسیر دوسری صدی حجری میں ہوئی۔ اس سے پہلے قرآن کی تفسیر بیانیہ انداز میں کی جاتی تھی۔ صدیوں بعد حضرت مولانا اکرم اعوان ؒ نے اس سنت کا احیاء کیا اور بیانیہ تفسیر ’’اکرم التفاسیر‘‘ لکھی۔ آپ نے دور حاضر یا ماضی قریب کی موجودہ دوسری تفاسیر سے موازنہ کرتے ہوئے اکرم التفاسیر کی خصوصیات کا خاص طور پر ذکر کیا۔ جن میں سب سے نمایاں پہلو عقیدہ توحید‘ شان رسالت اور شان صحابہ کا بیان ہے۔

مزید انہوں نے کہا کہ پورے قرآن کا خلاصہ سورۃ یاسین ہے‘ سورۃ یاسین کا خلاصہ سورۃ فاتحہ ہے‘ سورۃ فاتحہ کا خلاصہ بسم اللہ ہے جبکہ بسم اللہ کا خلاصہ ’ب‘ ہے جسے بائے تلبس کہتے ہیں یعنی جوڑنے والی’ب‘۔ یعنی پورے قرآن کا مقصد ہے کہ مخلوق اللہ سے جڑ جائے۔ اکرم التفاسیر کی ایک مزید خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ دنیا کے ہر شعبہ سے متعلق فرد کو اپنے شعبہ سے متعلق اس سے رہنمائی مل سکتی ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے فرائض کی ادائیگی کو دیکھیں جبکہ ہم حقوق کے لئے لڑتے رہ جاتے ہیں۔ اختتام پر اجتماعی دعا کی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.