سکیورٹی اداروں کی خاموشی، دیگر اضلاع سے مشکوک کر دارکے حامل افراد ہوٹل ملازمین کے بھیس میں جہلم منتقل

0

جہلم: سکیورٹی اداروں کی خاموشی، دیگر اضلاع سے مشکوک کر دارکے حامل افراد ہوٹل ملازمین کے بھیس میں جہلم منتقل، ان ہوٹل ملازمین کا کوئی شناختی ریکارڈ نہیں، کرایہ داری کا اندارج بھی نہیں ، اکثر ملازمین منشیات پینے اور بیچنے میں ملوث ، شہریوں کا ڈی پی او سے نوٹس کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر میں سیکورٹی اداروں کی خاموشی کافائدہ اٹھاتے ہوئے منڈی بہاوالدین، سرگودھا، وزیر آباد اور دیگر علاقوں سے چوری چکاری میں ملوث افراد ہوٹل ملازمین کے روپ میں پناہ حاصل کرچکے ہیں۔

ہوٹل مالکان ایسے افراد جو اپنے اضلاع سے مفرور ہیں کو چند سو روپے دیہاڑی پر ملازم رکھ لیتے ہیں جہاں وہ سارا دن گاہکوں پر نظر رکھتے ہیں اور کئی گاہکوں کی جیبوں کا صفایا کرنے کے علاوہ موٹر سائیکلوں کے ساتھ لٹکائی اشیاء بھی غائب کردیتے ہیں۔

شاندار چوک میں واقع چائے کے متعدد ہوٹلوں پر دور دراز اضلاع سے آنے والے ایسے ملازمین کام کررہے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ کسی ادارے کے پاس نہیں، ایسے ملازمین کی اکثریت منشیات کی عادی اور جرائم پیشہ ذہنیت رکھتی ہے۔

شہریوں کا کہناہے کہ درجنوں کے حساب سے سیکورٹی ادارے دن بھر گھومتے پھرتے رہتے ہیں لیکن دیگر اضلاع سے بڑی تعداد میں جہلم شہر منتقل ہونے والوں کی چیکنگ کا کوئی ریکارڈ نہیں ، جبکہ یہی ملازمین شہر بھر میں پلازوں ، کرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر ہیں لیکن ان افراد کی تھانوں میں رجسٹریشن کا بھی کوئی سلسلہ نہیں ، جس کی وجہ سے شہر میں جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔

شہریوں نے ڈی پی او جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ بیرونی اضلاع سے آنے والے تمام افراد کا کریمنل ریکارڈ اور شناختی ریکارڈ چیک کیا جائے جبکہ ان کو پناہ دینے والے ہوٹل مالکان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جائے تو جرائم پیشہ عناصر کے خلا ف بڑی کامیابی مل سکتی ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.