جہلماہم خبریں

ضلع جہلم میں ن لیگی ٹکٹ گجر برادری کے امیدواروں میں تقسیم، سوہاوہ نظر انداز

جہلم: گجر برادری میں تین ٹکٹ مسلم لیگ ن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، سوہاوہ کو نظر انداز کرنا پارٹی کا اپنے لئے گھڑا کھودنے کے مترادف ، پی پی 27 میں مسلم لیگ ن کا کوئی مضبوط امیدوار سامنے نہیں آسکا ،جہلم کو مسلم لیگ ن کا قلعہ کہلانے والی جماعت اس مرتبہ بری شکست سے دوچار ہو سکتی ہے،مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت کو اپنی ہی پارٹی کے ورکر گروپ کا بھی سامنا ہے ۔عوامی سروے

تفصیلات کے مطابق جنرل الیکشن 2018ء کی گہما گہمی عروج پر ہے، چوک چوراہوں گلی کوچوں میں سیاست ہی سیاست کی باتیں ہو رہی ہیں، عوامی سروے کے مطابق مسلم لیگ ن کے ہر نئے آنے والے دن میں مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں ،ایک ہی حلقہ میں مسلم لیگ ن نے گجر برادری کو تین ٹکٹ دے کر بہت غلط فیصلہ کیا کیونکہ حلقہ این اے 66 میں راجہ برادری ،جٹ برادری اور دیگر بڑی برادریاں موجود ہیں جو بہت بڑا ووٹ بینک رکھتی ہے، یہ مسلم لیگ ن کی بہت بڑی سیاسی غلطی ہے۔

مسلم لیگ ن کو اپنی ہی پارٹی کے باغی گروپ (ورکرگروپ) کا بھی سامنا ہے جو ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے میں انتہائی ناخوش ہے۔ باغی گروپ کا دعوہ ہے کہ وہ بہت بڑا ووٹ بینک رکھتے ہے اور اس گروپ نے برملا اظہار کیا ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں لیکن گھرمالا گروپ کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گئے ۔

پسماندہ تحصیل سوہاوہ کوٹکٹوں کے معاملے میں اسکو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ، وہاں سے مسلم لیگ ن نے کوئی امیدوار الیکشن کے لیے نامزد نہیں کیا ،یہ تحریک انصاف کے لیے پلس پوائنٹ ہے۔ اگر پی پی 27 کی بات کریں تو عوامی حلقوں کے مطابق مسلم لیگ ن کے پاس کوئی مضبوط امیدوار نہیں ہے جسکی وجہ سے پی پی 27 کے ٹکٹ کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا۔ اسی حلقے کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری نذر حسین گوندل جو کہ مسلم لیگ ن کو خیر آباد کہ چکے اور غیر مشروط طور پر پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں جو مسلم لیگ ن کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔

عوامی سروے کے مطابق ضلع جہلم جو مسلم لیگ ن کا قلعہ کہلاتا تھا اب اس الیکشن میں یہ سیاسی قلعہ پاش پاش ہوتا نظر آرہا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button