کالم و مضامین

مسیحائی

تحریر: ظفر غوری

فرمانِ الٰہی ہے ” جس نے ایک جان بچائی (توگویا) اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا ”

یوں تو دنیا میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو انسانیت کی بقا و فلاح کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ انہی میں سے کچھ مسیحا ایسے ہیں جنہیں عرف عام میں ہم ”ڈاکٹرز ” کہتے ہیں۔ ہر شخص کا کسی نہ کسی موقع پر کسی نہ کسی طبیب یا ڈاکٹر سے واسطہ پڑتا رہتا ہے مگر بعض اوقات انسان کسی ایسی بیماری کا شکار ہوجاتا ہے جس میں اس کی جان جانے کا اندیشہء شدید لاحق ہوجاتا ہے۔

راقم الحروف بھی گزشتہ چند برسوں سے کچھ اس قسم کی صورتحال سے دوچار ہے۔ عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے باعث لگ بھگ دو برس قبل میرا بائی پاس آپریشن ہوا جس میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لگ رہا تھا کہ میں اس دنیا میں چند گھڑیوں کا مہمان ہوں اور کسی بھی وقت میری سانسوں کی ڈور ٹوٹ سکتی ہے۔ پھر اللہ نے کرم کیا اور ڈاکٹرز کی بھرپور محنت رنگ لائی اور میں زندگی کی طرف لوٹ آیا۔

آٹھ ماہ تک بستر علالت پہ رہنے کے بعد زندگی کی دوڑ میں پھر سے شامل ہوگیا اور اپنی صحافتی سرگرمیاں شروع کردیں۔ سب کچھ بظاہر ٹھیک چل رہا تھا کہ پھر اوپن ہارٹ سرجری کے دو سال بعد ہی دوبارہ دل کی تکلیف شروع ہوگئی اور یکے بعد دیگرے دو بار شدید اٹیک ہونے کے بعد راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جب ڈاکٹر حشام نعیم نے اینجیو گرافی کی تو معلوم ہوا کہ جو سرجری ہوئی تھی وہ خراب ہوچکی ہے اور تین بڑی شریانیں اور متعدد چھوٹی شریانیں بند ہیں۔

پھر ڈاکٹرز نے ایک کانفرنس میٹنگ میں اسکے متعلق ڈسکس کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ اگر تین میں سے دو بڑی شریانوں میں سٹنٹ ڈالے جائیں تو بہتری کے مواقع موجود ہیں۔ تاہم سرجری والے گرافٹس میں سٹنٹس ڈالنا ایک انتہائی مشکل امر تھا اور اس میں جان کو شدید خطرات لاحق تھے۔ آخر کار وہ دن بھی آگیا جب سٹنٹ ڈالے جانے تھے۔

عزیز واقارب اور دوست احباب کے علاوہ بے شمار لوگوں نے میری صحتیابی کے لئے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا رکھے تھے جو میرے لئے اللہ کی ذات پہ بھروسے کے بعد سب سے زیادہ حوصلہ مندی کا سبب تھا۔

کیتھ لیب میں راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے بہترین ڈاکٹرز جن میں ڈاکٹر حامد شریف، ڈاکٹر خواجہ احتشام، ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر شفیق الرحمٰن اور دیگر کے علاوہ پیرا میڈیکل سٹاف اپنی تمام تر پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ موجود تھے۔ لگ بھگ دو گھنٹے کی سر توڑ کوشش کے بعد اپنے پیشے سے وفا کرتے ہوئے اور مسیحائی کا حق ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر حامد شریف اور ڈاکٹر خواجہ احتشام نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مجھے زندگی کی طرف لوٹانے کے لئے جس جانفشانی سے کام کیا وہ لائق تحسین ہے۔ تاہم دو گھنٹے کی بھرپور کاوش کے بعد صرف ایک سٹنٹ ڈالا جاسکا جس سے میری طبیعت میں تقریبا” تیس فی صد بہتری آ چکی ہے۔

اب کچھ دنوں کے بعد دوسرے سٹنٹ سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا کہ کب ڈالا جائے۔ مجھے اللہ کی ذات پر مکمل اعتماد، اپنے چاہنے والوں کی دعاوں سے ملنے والے حوصلے اور ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ مہارت کے باعث پورا یقین ہے کہ دوسرا مرحلہ بھی بخیریت گزرے گا اور میں زندگی کی رونقوں کی جانب لوٹ کر دوبارہ اپنی صحافتی سرگرمیاں سر انجام دینے کے قابل ہوپاوں گا۔ انشاء اللہ!!

آخر میں، میں اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنے کے بعد اپنے لئے دعائیں کرنے والے تمام احباب اور ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے لئے بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہوں کہ جس جس نے بھی میری زندگی کے لئے جو جو سعی کی اس کا اجر اللہ کریم اپنی شانِ اقدس کے مطابق عطا کرے۔ آمین!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button