پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال

مصدقہ کیسز
64,028
+2,801 (24h)
اموات
1,317
+57 (24h)
صحت یاب
22,305
34.84%
زیر علاج
40,406
63.11%
کالم و مضامین

سارا مسئلہ اے روٹی دا

انسانی زندگی کا اصول ہے کہ زندگی ہمیں کبھی بھی بادشاہ ہونے نہیں دیتی کہ سب کچھ ہی عطا کردے، زندگی ہمیں ہمیشہ فقیر ہی رکھتی ہے۔ کسی نہ کسی شے سے محروم، کسی نہ کسی شے کے لیے ترستا ہوا۔۔۔!لیکن بعض دفعہ زندگی کو ایسے سنجوک بھی لگ جاتے ہیں، جو تہذیب کے آداب بُھلا دیتے ہیں تن کی چادر اتر جاتی ہے، منبر کی آبرو بھی بکتی ہے۔۔۔۔!

یہ بھوک چیز ہی ایسی ہے، بھوکے پیٹ کا مسلک روٹی ہوتا ہے۔۔۔۔! بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کوئی منطق، کوئی فلسفہ، پیٹ کا نقطہِ نظر نہیں جہاں ضروریاتِ زندگی ہی خواہش اور حسرت بن جائیں وہاں زندگی کا کیا جشن؟؟؟

ایک صاحب کا بیان سُن رہا تھا جس میں انہوں نے فرمایا کہ ”پیٹ کا اتنا لمبا چوڑا مطالبہ نہیں ہوتا ” ، میں زیرِ لب مسکرا پڑا اور سوچنے لگا کہ یہ لوگ زندگی کی تلخیوں سے واقف کیوں نہیں ہوتے؟؟ حضرت آپ کے مریدوں کی لمبی قطار ہو گی کوئی لفافہ کہی سے آے جاے گا کوئی نذرانہ، کوئی عقیدت کا نوٹ آپ پے جھڑ جاے گا یا جادوئی مصلی رقم اگل دے گا لیکن غریب کا پیٹ روٹی کا ہی نہیں اور بھی بہت مطالبے کرتا ہے۔۔۔۔۔!

کہیں 8 آٹھ بچوں کی کفالت کا مطالبہ ہے، کہی سر ڈھانپنے کا مطالبہ ہے، کہی جوان بچیوں کی شادی کا مسئلہ ہے جو گھر کی دہلیز پے بوڑھی ہو رہی ہیں اور جہیز کا مطالبہ انکے بالوں میں چاندی لے آیا، کہی بیمار لاچار کینسر شدہ بیوی کی فکر ہے جو موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔۔۔۔۔!

مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی ہمیں فقر و غنا، توکل، کا درس دینے والے افراد وہی کیوں نظر آے جو امیر اور با اثر ہیں ، یہ بات قاسم علی شاہ یا کوئی پیر یا لیجنڈ مولوی یا موٹیویشنل لیکچرار کرے گا جو کہ غریبوں کو اس بھاشن دینے کے کئی ہزار وصول کر چکا ہو گا۔۔۔۔!

”تجھے نا آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ
میں چھوٹے لوگوں کے گھر کا بڑا ہوں بات سمجھ
میرے علاوہ ہیں چھ لوگ منحصر مجھ پر
میری ہر اک مصیبت کو ضرب سات سمجھ”

مجھے اس جملے ” پیٹ کا اتنا مطالبہ نہیں ” کے بعد رھ رھ کہ وہ گلی کا امام مسجد یاد آیا جو روٹی کی دوڑ میں نماز کو جلدی ختم کرتا ہے اور پوچھنے پے کہتا ہے شاہ جی کل بھی ٹیوشن والے کہتے تھے کہ مولوی صاحب آپ لیٹ آتے ہیں جلدی آیا کرو تو میں نماز جلدی پڑھا دیتا ہوں۔۔۔!

مجھے وہ بوڑھی مائی یاد آنے لگی جو اسی مطالبے کو پورا کرنے کے لیے بڑے گھروں کے برتن مانجھتی ہے باسی کھانا اٹھاتی ہے گالیاں سنتی ہے۔۔! اور وہ خم کھاتی کمر والا بوڑھا بھی یاد آیا جو لاغر جسم کو گھسیٹنے کے ساتھ ساتھ چاٹ والی ریڑھی کو گھسیٹتا ہے۔۔۔!

وہ بھولا بسرا سا بچہ بھی یاد آتا ہے جو کہتا تھا ، فرقان بھائی۔۔۔۔۔! مزدوری کرنے سے پیٹ کا کھانا ہضم ہو جاتا ہے لیکن میرے بابا کیا ہضم کر رہے ہیں انہوں نے تو دو دن سے کچھ کھایا ہی نہیں۔۔۔۔!

خالی پیٹ اور خالی جیب اُٹھا کہ چلنا کتنے مشکل ہے شاید یہ خالی پیٹ والے ہی جانتے ہیں۔

خالی ہونا بھی دو قسم کا ہوتا ہے، مسجدوں اور کھنڈروں سے تو واقف ہوں گے۔۔۔۔!ایک خالی ہونا ہوتا ہے مسجد کی طرح مسجد میں کوئی نہ بھی ہو نا تو بڑی رونق لگی رہتی ہے کہ وہاں سکون ہوتا ہے اور کوئی نہ ہو خدا ہوتا ہے اور کھنڈر…بھلے ہزاروں لوگ ادھر سے گزریں بھلے چاروں موسم اس پر طاری ہوں وہ آسیب زدہ ہی رہتا ہے، سکون سے خالی بیزار سا۔۔۔۔۔۔!!

اپنے معاشرے میں اِن بیکسوں اور مفلس لوگوں کا خیال کریں۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close