کالم و مضامین

پڑی درویزہ بھی جہلم میں واقع ہے۔ فواد چوہدری کے نام خط!

نامہ بر تو ہی بتا تُو نے تو دیکھے ہوں گے
کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ عالی جناب ضلع جہلم کے قومی اسمبلی حلقہ 67جہلم 2کے ممبر قومی اسمبلی ہیں نیز آپ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت میں شامل ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں ۔ راقم نے یہ خط آپ کے نام لکھنے کا فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ شایدہماری بھی کوئی شنوائی ہوجائے اور پڑی درویزہ جیسے دور افتادہ تار یخی گاؤں ہے میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہونے کے مواقع پیدا ہوجائیں۔

جہاں تک پڑی درویزہ کی تاریخی حیثیت کا تعلق ہے تو آپ سے بہتر علم کس کو ہونا چاہیے کہ یہ آبادی سابق بھارتی وزیر اعظم اندر کمارگجرال کی جائے پیدائش ہے جیسا کہ ضلع چکوال کی آبادی ’’گہے بیگال ‘‘ سابق وزیر اعظم انڈیا’’ من موہن سنگھ ‘‘کا آبائی گاؤں ہے ۔

پڑی درویزہ کی دوسری بڑی قابل ذکر بات یہ کہ 1960ء کی دہائی میں سابق ایس ایس پی (ستارہ قائد اعظم ) راجہ عنایت اللہ خان درد دل رکھنے والے انسان گزرے ہیں ۔ ان دنوں موصوف کا ایک پیارا فرزند کیپٹن عطااللہ خان پائلٹ پی آئی اے ایک فضائی حادثے میں جام شہادت نوش کر گیا تھا اُس وقت کی حکومت پاکستان نے راجہ عنائت اللہ خان کو بھاری مالی معاوضہ سے نوازا جو انہوں نے گاؤں اور علاقہ کی فلاح و بہبود پر صرف کر دیا تھا ۔

فواد چوہدری صاحب آپ اس وقت سیاسی شعور کی اوج ثریا پر برا جمان ہیں لیکن یقینااس خط سے جو کچھ آپ کے علم میں آئے گا یہ ان بلندیوں پر ہونے کے باوجود آپ کے علم میں اضافہ کا باعث بنے گا ۔ راجہ عنائت اللہ خان ایک ایسی شخصیت تھے کہ جن کالکھاہوا خط بھی جامع مسجدپڑی درویزہ (موجودہ جامع مسجدانوار مدینہ )کے خطبہ جمعہ کے دوران شرکاء نماز جمعہ کو پڑھ کر سنا یا جاتا تھا تا کہ عوام کو پتا چل سکے کہ ان کے درد میں کون کتنا پریشان اور کوشاں ہے؟

1960ء کی دہائی کے دوران تحریک فلاح دیہات چل رہی تھی اس تحریک سے استفادہ کرتے ہوئے راجہ عنائت اللہ خان کی تحریک پر سوہاوہ چکوال روڈ سے گاؤں پڑی درویزہ تک ایک لنک روڈ تعمیر کروائی گئی جو اس وقت تک پانچ مرتبہ مرمت ہونے کے باوجود تعمیر نو کا تقاضا کر رہی ہے ۔

علاوہ ازیں پڑی درویزہ چونکہ یونین کونسل صدر مقام کے طور پر منتخب کر لیا گیا تھا تو علاقہ کی مرکزیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑے ذاتی قطعہ اراضی کا عطیہ دے کر ایک گورنمنٹ ہائی سکول منظور اور قائم کرایا تھا ۔ اس علم کی شمع سے 1971ء میں پہلی دفعہ جماعت دہم کامیاب ہوئی تھی یہ سلسلہ آج تک شاندار کامیابی کے ساتھ جاری ہے ۔

راجہ عنائت اللہ خان کی انسان دوستی اور دھرتی دوستی کا تیسرا کارنامہ کیپٹن عطااللہ خان ڈسٹرکٹ کونسل سول ڈسپنسری کا قیام تھا جو 1961ء سے 1970ء تک ایک بہترین دارالشفا ء کے طور خدمات سر انجام دیتی رہی بطور دلچسپی اضافہ کر رہا ہوں کہ مذکورہ تینوں منصوبوں کا افتتاح اُس وقت کے کمشنر راولپنڈی ڈویژن سیدمحمودالحسن شاہ نے اپنے دست مبارک سے کیا تھا۔

یہ ڈسپنسری ماضی میں علاقہ کے 28سے زائد دیہات کے لیے ایک بڑے ہسپتال کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہاں ماہر امراض چشم ڈاکٹر فخر السلام جیسے مایہ ناز ڈاکٹراپنی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔ ایک ایل ایچ وی باقاعدہ موجود تھی جو دن رات خدمات کے لئے کوشاں رہتی تھی ۔ یہاں تک تو پڑی درویزہ کے متعلق کچھ مثبت صورت حال بیان کی گئی ہے۔ اب ذرا زوال کی داستان بھی سن لیں جو دل تھام کر پڑھنے وا لی ہے ۔

فواد چوہدری صاحب آپ ہمارے دور کے پڑوسی نہیں ہیں بلکہ ایک ہی گھر کے دوسرے حصے کے آباد کار ہیں ایک وفاقی وزارت کے عہدے پر فائز ہیں۔ وفاقی وزیر پورے پاکستان کے لئے ہوتا ہے ہم تو آپ کو اپنے گھر کا نمائندہ سمجھتے ہیں اس لئے آپ کے علم میں اپنی داستان غم پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ یونین کونسل پڑی درویزہ کا دفتر سیاسی شعور کی کم علمی اور طبقاتی اثر ورسوخ کی وجہ سے بجائے پڑی درویزہ کے 15کلو میٹر دور پھلڑے سیداں میں قائم کر دیا گیا صرف ایک کمرہ اور قطعہ اراضی کا عطیہ نہ دیا جاسکا جس کی وجہ سے پڑی درویزہ جیسا تاریخی گاؤں زوال کی طرف چل پڑااور آج تک یہاں کوئی ترقی نہ ہو سکی ۔یونین کونسل والی تشنگی تو شاید مستقبل قریب میں مجوزہ ولیج کونسل کے قیام سے دور ہوسکے ممکن ہے پڑی درویزہ کے عوام کو جشن آزادی منانے کا موقع میسر آجائے۔

1970ء میں نام نہاد جمہوری دور شروع ہوا تو سارے نقشے بدل گئے ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل کونسلز ختم کر دی گئیں نتیجہ میں ایک مرکزی ہسپتال کا کردار پیش کرنے والے کیپٹن عطا اللہ خان ڈسٹرکٹ کونسل سول ڈسپنسری پڑی درویزہ اپنی مرکزی حیثیت کھوبیٹھی کیونکہ محسن پڑی درویزہ راجہ عنائت اللہ خان کو تو سیاسی خدایان دیہہ نے پڑی درویزہ کو خیر آباد کہنے پر مجبور کر دیا تھا وہ اپنے کنبہ کے ساتھ سرگودھا کی طرف ہجرت کر گئے اور پڑی درویزہ سیاسی سطح پر یتیم ہو گیا اور کو ئی اس کا پرسان حال نہ رہا ۔ 8کنال 15مرلے قطعہ اراضی پرقائم ساٹھ سالہ ڈسپنسری کو ایک ڈسپنسر کے رحم و کرم پرچھوڑدیا گیا۔

1970ء سے اب تک چار یا پانچ ڈسپنسری کے بعد دیگرے آئے 1996ء میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بھی چند دنوں کے لیے تشریف لائے، بس ایک رسم اداہوئی ۔ چند دن قبل27سال سے زائد عرصہ خدمات پیش کرنے والے ڈسپنسر بھی دل کا دورہ پڑنے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے یعنی 20ہزار سے زائد آبادی والے علاقے میں اب کوئی سرکاری طبی سہولت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

تقاضا ئے وقت ہے کہ مذکورہ ڈسپنسری کو جتنا جلد ممکن ہو محکمہ صحت پنجاب کی وساطت سے کیپٹن عطا اللہ خان بنیادی مرکز صحت کا درجہ دے دیا جائے تا کہ علاقہ کے 20ہزار عوام صحت کی بنیادی سہولت سے فیضیاب ہو سکیں ۔

ذاتی طور پر میں اور عمومی طور اہلیان علاقہ امید کرتے ہیں کہ آپ اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر ہمارے مسائل پر توجہ اور مہربانی کی نظر فرمائیں گے۔ آپ کی توجہ کا انتظاررہے گا۔اس لئے کہ ہم قومی اسمبلی حلقہ این اے 66جہلم 1کے ایک کونے پر سوہاوہ چکوال روڈ سے تین کلو میٹر کے فاصلہ پر آباد ہیں ۔

پروفیسر افتخار محمود
فون نمبر :۔03065430285

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close