پنڈدادنخان

کھیوڑہ اور پنڈدادنخان میں کیمیکل سے بنی رنگ برنگی قلفیوں کی فروخت، انتظامیہ خاموش

پنڈدادنخان: کھیوڑہ اور پنڈدادنخان اور گرد و نواح میں کیمیکل سے بنی رنگ برنگی قلفیا ں موٹر سائیکل سوار فائبر بکس میں دھڑلے سے بیچ رہیں ہیں انھوں نے موٹر سائیکل پر انتہائی اونچی آواز کے ہوٹر لگائے ہوئے ہیں مقامی انتظامیہ کی غفلت لاپروائی کی وجہ سے موت کے سوداگر اپنا گھناؤنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کھیوڑہ،پنڈدادنخان اور گر د و نواح میں گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی موت کے سوداگروں نے زہریلی کمیکل سے بنی رنگ برنگ قلفیاں بیچنا شروع کی ہوئی ہیں۔صبح سویرے سے لیکر رات گئے تک موٹر سائیکل سوار جہنوں نے انتہائی بلند آواز کے ہوٹر لگائے ہوئے ہیں پورے علاقے میں پھیل جاتے ہیں۔اور معصوم بچے اس سے یہ زہریلی قلفیاں خرید کر مزے مزے سے کھاتے ہیں ان کو کیا معلوم کہ یہ قلفیاں مضر صحت ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان قلفیوں کے پلانٹ کھیوڑہ اور پنڈدادنخان کے محلوں میں موجود ہیں۔آج تک حکومت پنجاب کے کسی محکمہ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی ہے۔ اور نہ اس زہریلے مواد کا لیبا رٹری ٹیسٹ کروانے کی زحمت کی ہے۔ مقامی انتظامیہ غفلت لاپروائی سے موت کے سوداگروں کا کاروبار دھڑلے سے جاری ہے۔ اور ہر روز غریب خاندانوں کے بچے ان زہریلی قلفیوں کو کھا کر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

موت کے سوداگروں نے ماہ رمضان میں بھی اس کاروبار کو جاری رکھا۔تیز ہوٹر کی آواز سے مریض اور طلبا و طالبات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔اور اس ہوٹر کی آواز 85 ڈیسی سے بھی بہت زیادہ ہے جس سے لوگوں کی قوت سماعت متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب،ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے فوری طوری پر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button