بین الا قوامی جہاد کال

تحریر: غضنفر علی اکرام

0

5 اگست 2019 کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب ہندوستانی صدر نے مودی کی تباہ کن پالیسی کے تحت کشمیر کی خصوصی حیثیت کا آرٹیکل 370 ختم کر دیا ہے جس سے اب کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر دی گئی ہے اس مقصد کے لئے پچھلے کئی دنوں سیلائن آف کنٹرول کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کلسٹر بموں کا آزادانہ استعمال کیاگیا ہے اور نہتے آزاد کشمیری شہریوں پر ظلم کیا جا رہا ہے اور یہ سب امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کے بعد کیا جا رہا ہے۔

اب جبکہ بھارت سرکار نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے گویا بارود کے ڈھیر کو ماچس کی تیلی دکھا دی ہے تو اس پر کشمیری خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ بھارتی ظلم و بربریت کے جواب میں کشمیر کی تحریک آزادی اب نوجوانوں کے ہاتھ میں چلے جانے کا قوی امکان ہے پرانی نسل کے لیڈر جہاندیدہ اور ٹھنڈے مزاج کے تھے۔

سید علی گیلانی،یاسین ملک اور آسیہ اندرابی جیسے رہنما کشمیر کے مسئلے کو بات چیت اور سیاسی حوالے سے حل کرنے کے حامی تھے مگر اب اگر تحریک کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں چلی گئی تو بھارتیوں کو بھی چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا اور سچی بات ہے کہ اب ان لاتوں کے بھوت ہندتوا کے پجاریوں کے خلاف مسلح جدوجہد ضروری ہو گئی ہے سیدھی انگلیوں سے یہ گھی نکلنے والا نہیں آج کشمیری قیادت کو چاہیے کہ وہ بنئیے کا مزاج ٹھیک کرنے کے لئے بین الاقوامی جہاد کی کال دے دے پوری دنیا سے جہاد کے لئے مجاہدین کو ویلکم کہنا چاہیے ورنہ ہندوستانی بھیڑیے کشمیریوں کو کھا جائیں گے۔

دوسری طرف پاکستان کو ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو بھی گہرائی میں جا کر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں یہ اس کا تیارکردہ کوئی پھندا تو نہیں بظاہر پاکستان کو خوش کیا جا رہا ہو اور اندر خانے بھارت کو تھپکی دی جا رہی ہو کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ بغیر کسی عالمی سازش اور ضمانت کے اپنے طور پر اتنا بڑا اقدام مودی کر سکے اسرئیلی وزیر اعظم نیتن یاہو مودی کا ایڈوائزر بنا ہوا ہے اور فلسطینیوں پر آزمائے ہوئے نسخے آزمانے کے لئے مودی کو اکساتا رہتا ہے اور وہ سارے مانتا جا رہا ہے لیکن یہ بات یاد رہے کہ اب یہ تحریک صرف کشمیر تک محدود نہیں رہے گی ہندوستان کے ستائیس کروڑ مسلمانوں کو بھی اٹھنا ہو گا جن کا آر ایس ایس کے موالیوں نے گائے کے ذبح کرنے کے الزامات لگا کر جیناحرام کیا ہوا ہے۔

پاکستان کو اپنے پتے بہت احتیاط سے کھیلنے چاہیں عالم اسلام چاہے تو بہت کچھ کر سکتا ہے صرف ایک سعودی عرب کشمیریوں سے یکجہتی کے طور پر تمام انڈین لیبر کو اپنے ملک سے نکل جانے کا حکم دے دے تو انڈیا 24 گھنٹے میں آرڈیننس واپس لینے پر مجبور ہو جائے مگر کوئی اسلامی ملک ایسا نہیں کرے گا بات بس ایک مذمتی بیان سے آگے نہیں جائے گی کچھ نہیں تو پھر بھی او آئی سی کے مردہ وجود کو جھنجھوڑنا از حد ضروری ہے اور بیرون ملک کشمیری کمیونٹی کو بھی صحیح مشاورت کے ساتھ عالمی رائے عامہ کو اپنی طرف راغب کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے ورنہ بہت جلد انڈین سیکورٹی فورسز اب خونریزی کی انتہا کر دیں گی اور پھر پاکستان کے پاس بھی مسلے کے فوجی حل کے سوا چارہ نہ رہے گا اور اگر ایسا ہوا تو پھرپوری دنیا امن کو ترسے گی۔۔۔۔

یاران جہاں کہتے ہیں جس کو جنت وہ کشمیر ہے
جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.