کالم و مضامین

ڈی پی او جہلم کے نام

علی الصبح دروازے پر دستک نے ڈرا دیا، دروازے کی دوسری جانب سے آنے والی گھبراہٹ والی آواز نے مزید خوف زدہ کر دیا، جب دروازہ کھولا تو سامنے سیلم بٹ کو دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اتنی صبح بٹ صاحب سبزی منڈی کی بجائے میرے گھر آ گئے اللہ پاک خیر کرے، انکی آنکھوں کی نمی کسی مصیبت کی کہانی سنا رہی تھی۔

ان کے منہ سے کار چوری کی روداد سنی تو پاؤں تلے سے زمین ہی نکل گئی کہ کوئی چور کیسے اتنی دلیری سے سڑک کنارے واقع گھر میں داخل ہوکر لاکھوں روپے کی گاڑی چوری کرکے لے گیا چنانچہ پریشان حال دوست کے ہمراہ سیدھا تھانہ صدر جہلم پہنچ گیا اس دوران دوسرے دوست بھی پہنچ گئے،پولیس کو وقوعہ سے آگاہ کیا اور بعد ازاں ایس ایچ او تھانہ صدر موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی میں مصروف ہوگئے۔

بہرحال اس تحریر کا مقصد ارباب اختیار خصوصی طور پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو حالات و واقعات کی سنگینی اور ضلع جہلم میں جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافے کے متعلق آگاہ کرنا تھا،اگر گزشتہ ایک ماہ میں ہونے والے قتل و غارت گری،چوری،ڈکیتی اور منشیات فروشی کے جرائم کا چارٹ بنایا جائے تو جہلم پولیس کی کارکردگی کا پول کھل جائے گا،آپ تھانہ صدر کی صورتحال دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ اس علاقہ میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں نظر آتی،اب یہ نئے ایس ایچ او کا کمال ہے یا پھر۔۔۔۔۔

جناب عالی اگر سوشل میڈیا اور واٹس اپ سے فرصت ملے تو ضلع جہلم میں جرائم کنٹرول کرنے کی جانب خصوصی توجہ فرمائیں کیونکہ ممبران قومی ؤ صوبائی اسمبلی کے بعد جہلم کے شہریوں نے بھی امن و امان کی مخدوش صورتحال پر احتجاج شروع کر دیا ہے ،ضلع بھر میں اس وقت خوف ؤ ہراس پھیل چکا ہے،آئے روز قتل ڈکیتی چوری راہزنی ہوائی فائرنگ جیسی وارداتوں سے لوگ تنگ آ چکے ہیں اور پولیس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن نظر آتی ہے، ہمیں آپکی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں لیکن جو آپ نے ٹیم بنا رکھی ہے ان پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

گزارش ہے کہ آپ کے منصب کا تقاضا ہے بلکہ فرض ہے کہ جہلم کے امن وامان اور جرائم کو کنٹرول کرنے کی جانب توجہ دیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close