کالم و مضامین

شام میں ہر شام ’’شام ِ غریباں‘‘ — تحریر: محمد امجد بٹ

سنا ہے جب سیلاب آتا ہے پانی سر وں سے اونچا بہنے لگتا ہے،نفسا نفسی کا عالم ہوتا ہے تو جنگل کے جانور ایک دوسرے کے ازلی دشمن ،چیر پھاڑ کے لیے ہمہ وقت تیار، دشمن کو دیکھ کر غرانے اور تر نوالہ بنانے والے،ایک دوسرے کے وجود کو برداشت نہ کر سکنے والے ان ہنگامی حالات میں اپنے تمام اختلافات اوردشمنیاں بھلا کراونچے ٹیلے پر اکٹھے ہو جاتے ہیںاور عارضی مدت کے لیے ہی سہی مگر سر جوڑ کربیٹھ جاتے ہیں اور آفت ناگہانی کے گزر جانے کا انتظار کرتے ہیں کیونکہ اس وقت انکا ترجیحی مسئلہ جان کا تحفظ ہوتا ہے۔

چھپ کر شکار کرنے والے ہوں یا اعلانیہ،ظالم ہو یا مظلوم اس وقت کوئی کسی کے مظالم کی داستان سنا کراسے شرمندہ یا مشتعل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ہر طرح کے تنازعات و اختلافات کو اٹھا کر رکھ دیا جاتا ہے اور نہ ہی انکی فطری جبلت اس وقت عود کرتی ہے یہ الگ بات ہے کہ جیسے ہی خطرہ ٹلتا ہے تو یہ اپنی فطرت کے خول میں واپس چلے جاتے ہیں لیکن عارضی جنگ بندی اورامن کی مدت بھلے ہی مختصر ہو یہ پیغام دینے میں ضرور کامیاب رہتی ہے کہ ترجیحات وحالات وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور بلا شبہ بدلنے بھی چاہئیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں مسلمان کل آبادی کا23فی صد ہیں جبکہ 2050تک یہ 30فی صد تک پہنچ جائیں گے یعنی دنیا میں ہر تیسرا شخص مسلمان ہو گا۔اس بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود مسلمان یا تو آپس میں لڑ لڑ کے اپنے خاتمے کا سبب بن رہے ہیں یا پھر اسلام مخالف قوتیں انکو ختم کرنے کے درپے ہیں ۔مسلمان اشرف الامم ہونے کے باوجود جانوروں سے بد تر سوچ اپنائے ہوئے ہیں۔

ملک ِ شام کے باسیوں کے لیے ہر شام شامِ غریباں کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ ماہ وسال گذر رہے ہیں مگر شام ابھی تک لہو لہان ہے کشت و خون کا ہنگامہ پرپا ہے ہر روز سر قلم ہو رہے ہیں۔ہر روز سینکڑوں انسان اپنی جانیں قربان گاہِ حریت پر نثار کر رہے ہیں ۔شام کے بازاروں میں اس وقت سب سے ارزاں چیزموت ہے۔

چودہ سو سال قبل پیارے آقانبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے یہ الفاظ حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہے ہیں کہ’’ عنقریب قومیں تم پر حملہ کرنے کے لئے اس طرح پکاریں گی جس طرح کھانے والے کھانے کے لیے پیالے پر گرتے ہیں‘‘۔ حاضرین میں سے کسی نے پوچھا کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ اس لئے ہو گا کہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد کم ہو جائے گی آپﷺ نے فرمایا نہیں ! تمھاری تعداد ان دنوں بہت زیادہ ہو گی لیکن تم ایسے ہو جاؤ گے جیسے سیلاب کی سطح پر خس و خاشاک ہوتے ہیں جنہیں سیلاب بہا لے جاتا ہے، اللہ تمھارے دشمنوں کے دلوں سے تمھارا رعب ختم کر دے گااور تمھارے قلوب میں کمزوری ڈال دے گا۔

حاضرین میں سے کسی نے پو چھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کمزوری کیا ہو گی ،آپ ﷺ نے ارشاد فرمایادنیا اور فوائدِ دنیاکی محبت اور موت کا بزدلانہ خوف۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلنے والے الفاظ عصر حاضر میں عملی جامہ پہنے نظر آ رہے ہیں۔ دولت ،اقتدار ، شہرت اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی فکر مندی نے مسلمانوں کی اربوں کی تعداد میں ہونے کے باوجودانتہائی کمزور،بے بس اور خس و خاشاک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ کہیں مسلمان بلند ترین عمارتوں کی تعمیر میں مصروف ہیں کہیں سر زمین ِ عرب میں بت پرستی کے لئے مندر تعمیر ہو رہے ہیں،کہیں مسلمان عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں تو کہیں دو گز زمیں کے لئے ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

شام میں طول اقتدار کے لئے نہتے اور معصوم لوگوں پر جاری ظلم، ظالمانہ اوردہشت گردانہ حملوں کے باوجوددیگر مسلمان خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب میں تشکیل دیا گیا اسلامی فوجی اتحاد بھی صرف سرخیوں میں نظر آتا ہے اسکا کسی بھی ایسے موقع پرکوئی عملی اقدام یا مظاہرہ دیکھنے کو نہیں مل سکا۔

عالم اسلام کے موجودہ حالات پر نظر ڈالنے پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے سچ ثابت ہونے کا یہی وقت ہے۔ آپسی اختلافات و انتشار،مال و دولت اور حکومت و اقتدارکی لالچ نے مسلمانوں کو آج ذلیل ترین قوم کی صف میں لاکھڑاکر دیا ہے۔ دشمن جب چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے ہم ہر،ہماری سر زمین پر حملے کر دیتا ہے۔ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار کرہنستے بستے شہروں کو اجاڑ دیتا ہے ساتھ میں وہ سنگین الزامات بھی ہمارے سر تھوپ کرہمیں دہشت گرد قرار دیکر خود مسیحا بن جاتا ہے ۔ اگر مسلمانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو انکی ’’ داستاں تک بھی نہ رہے گی داستانوں میں ‘‘۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button