پنڈدادنخان

عوام کے مسائل سن کر ان کی داد رسی کرنا میری ذمہ داری میں شامل ہے۔ ڈی پی او جہلم

پنڈدادنخان: تحصیل پنڈدادنخان کے علاقے کے عوام انتہائی باشعور اور پر امن لوگ اور قانون کا احترام کرتے ہیں اس لیے ہی یہاں جرائم کی تعداد بہت کم ہیں۔ جھوٹی گواہی اور حلف دینے والا اللہ تعالی کا مجرم ہے۔عوام کے مسائل سن کر ان کی داد رسی کرنا میری ذمہ داری میں شامل ہے،اسی لیے میں آپ کے پاس آیا ہوں۔میرا یہاں آنے کا بڑا مقصد آپ سے ملنا اور آپ کو پولیس کا دوست بنانا ہے۔آپ لوگوں کے مسائل سننا اور پولیس کے عوام سے روئیے سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔یہاں سے جہلم کا سفر بہت ذیادہ اور دشوار ہے۔جسکی وجہ سے لوگ جہلم نہیں پہنچ سکتے۔اسی لئے میں آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔

ان خیالات کااظہار ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم عبدالغفار قیصرانی نے یونین کونسل ٹوبھہ کے دفتر میں ایک پرہجوم کھلی کچہری سے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تحصیل پنڈدادنخان کے گاؤں ٹوبھہ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقہ تھل کے عوام کی اکثریت نے شرکت کی۔

اس موقع پر لوگوں نے اپنے مسائل جوکہ پولیس کے متعلقہ تھے وہ ڈی پی او کے علم میں لائے۔اس موقع پر ڈی ایس پی سیف الر حمن،ایس ایچ او عبدالغفور بٹ پنڈدادنخان،ایس ایچ او لِلہ امیر محمد خان للہ،ایس ایچ او جلا پور شریف اور یونین کونسل کے چیئرمین بھی موجود تھے۔

کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہو ئے ڈی پی او جہلم حافظ عبدالغفار قیصرانی نے کہا کہ تحصیل پنڈداد نخان کا علاقہ پر امن علاقہ ہے یہاں کے عوام باشعور اور قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جھوٹی گواہی اور حلف دینے والے اللہ تعالی کے مجرم ہیں اس لیے ناجائز کسی کا نام ایف آئی آر میں درج کروانے سے پرہیز کر نا چاہیے۔ جو کہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔پولیس پر عوام کا اعتماد کا رشتہ بحال کرنے کے لیے میں پورے ضلع جہلم کے ہر کونے میں جا رہا ہوں اور یہ ہمارا فرض اور ڈیوٹی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے دفتر کے اور ذاتی موبائل نمبر چوبیس گھنٹے کھلے ہوتے ہیں۔میں نے تحصیل میں ایماندار ایس ایچ اوز لگائے ہیں۔ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جان دینی ہے۔عام لوگوں کا یہ خیال ہے کہ افسران دفتروں میں بیٹھ کر بغیر چٹ یا سفارش کے بات نہیں سنتے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر کسی کا کوئی مسئلہ ہو تو وہ پہلے تھانہ کے ایس ایچ او سے اور ایس ڈی پی او کے پاس جائیں اگر معاملہ پھربھی حل نہ ہو تو میرے دفتر کے دروازے ہر خاص و عام کے لئے کھلے ہیں۔اللہ سے دعا ہے کہ کوئی میرے اور پولیس سے مایوس نہ ہو۔میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے پاس آئے ہوئے ہر فرد کا مسئلہ حل ہو۔چاہے وہ پولیس کے متعلق نہ بھی ہو۔

ڈی پی او جہلم نے کہا کہ میں عام اور غریب آدمی کو بغیر کسی تاخیر کے ملتا ہوں۔چٹ اور فون کروا کر آنے والوں پر عام آدمی کو ترجیح دیتا ہوں۔میری کوشش ہے کہ میں اور میری ٹیم بے آواز لوگوں کی آواز بن جائیں۔ہم نے منشیات کے خلاف مہم جاری کر رکھی ہے بہت سے بڑے بڑے منشیات فروش سلاخوں کے پیچھے جا چکے ہیں۔معاشرے میں سے اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے پولیس سے تعاون کریں یا میرے نوٹس میں دیں۔میرا ذاتی فون نمبر نوٹ کر لیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے رشوت لینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے بہت سے افسران کو سزائیں دیتے ہوئے بہت سے افسران کو ایس آئی سے اے ایس آئی اور اے ایس آئی سے ہیڈ کانسٹیبل بنایا ہے۔اللہ کی زات پر بھروسہ رکھیں۔اگر آپ سب ہمارا ساتھ دیں تو معاشرے سے جرم اور ناانصافی ختم ہو سکتی ہے۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ بے انصافی کی ابتداء مدعی مقدمہ خود کرتا ہے۔ایف آئی آر میں ایک گنہگار ہوتا ہے مگر پانچ پانچ بے گناہ لوگوں کے نام دے دئیے جاتے ہیں۔آپ سے التماس ہے کہ سچی بات کو نا چھپایا جائے تاکہ انصاف کی فراہمی جلد ممکن ہو سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button