جہلم

سکول جانے والے بچوں کی جیب خرچ فصول خرچ اور بیماریوں کا باعث؟۔ خصوصی رپورٹ

جہلم: ایک زمانہ تھا کہ سکول جانے والے بچوں کو جو جیب خرچ والدین کی طرف سے ملتا تھا اس رقم سے وہ سکول کے باہر کھڑی ریڑھیوں سے گاجر، مولی، گنا (گنڈیریاں)، کِنوں، مالٹے، چھلی، ابلے ہوئے چنے خرید کر کھاتے تھے۔ یہ تمام اشیاء جسم کو مضبوط اور طاقتور بناتی تھیں اور بچے صحت مند چاک و چوبند نظر آتے تھے۔

آج کے دور میں ان طاقتور اشیائے خوردونوش کی جگہ برف کے گولے، پاپڑ، چورن، نمکو، لال شربت، املی، آلو کی چپس اور گولیوں ٹافیوں نے لے لی ہے۔ بچے ان غیر معیاری اشیاء کو شوق سے کھاتے ہیں۔برف کے گولے اور پاپڑ سب سے زیادہ بچوں کے جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ برف کے گولوں میں چینی کی بجائے سکرین کا استعمال ہوتا ہے۔ اس میں مختلف رنگ بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ روزانہ یہ ناقص و غیر معیاری اشیاء کھانے سے یہ معصوم بچے گلے ، معدے کے علاوہ دانتوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔

چھوٹے چھوٹے بچوں نے غیر معیاری اشیاء کے استعمال کیوجہ سے چشمے لگا رکھے ہیں اکثر بچوں کے دانت ترچھے اور ٹیڑھے نظر آتے ہیں۔پاپڑ سب سے زیادہ نقصان معدے کو پہنچاتے ہیں کیونکہ یہ چربی سے نکالے ہوئے گھی میں تلے جاتے ہیں۔یہ تمام غیر معیاری اشیاء سکولوں کے اندر اور باہر با آسانی دستیاب ہوتی ہیں۔

سکولوں کے اندر موجود کینٹین کے مالکان راتوں رات امیر بننے کی خاطر بچوں میں زہر فروخت کر رہے ہیں ، جبکہ باہر ریڑھی والے مستقل کھڑے ہوتے ہیں اور انہیں بھی سکول انتظامیہ کیطرف سے کھلی چھوٹ ہوتی ہے ۔بعض سکول تو ایسے بھی ہیں جو ان ریڑھی والوں سے اپنے سکول کے باہر کھڑے ہونے کا کرایہ بھی لیتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اندرون جہلم شہرمیں مختلف مقامات پر درجنوں ریڑھی والے برف کے گولے اور ناقص و غیر معیاری اشیاء دھڑلے کے ساتھ فروخت کر رہے ہوتے ہیں ،سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے باہر ناقص وغیر معیاری اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران کو کارروائی کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ معصوم بچے مہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button