دینہ

آج معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی عام ہوگئی ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: آج معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی عام ہوگئی ہے،ہر کوئی اس سے پریشا ن ہے کہ اس سے کیسے بچا جائے ؟ اگر نماز باقاعدگی سے اہتمام کے ساتھ ادا کی جائے تو ان شاء اللہ اس برائی کے سمندر میں حفاظت الٰہی نصیب ہو گی اور یہ علاج بندہ مومن کو 14 سو سال پہلے انعام کے طور پر عطا ہوا۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے اجتماع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ معراج شریف کی رات آپ ﷺ کو 50 نمازوں کا حکم ہوا پھر تخفیف کرتے کرتے پانچ کی ادائیگی اُمت کے لیے مقرر ہوئی لیکن ان پانچ کی ادائیگی کرنے پر اجر پچاس نمازوں کا ہوگا ،یاد رکھیں دین اسلام کے ہر پہلو ہماری ضرورت ہے اور اسی میں ہی ہماری بھلائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دین اسلام دنیا کے ہر شعبے کے متعلق جواب دیتا ہے ابھی حضرت انسان کو فرصت ہے کہ وہ اعمال صالح اختیار کر سکتا ہے اور اس پر بحیثیت مسافر منزل با منزل گامزن ہے ،زندگی لمحہ لمحہ گزر رہی ہے ،انسان کا کردار شہادت دے رہا ہوتا ہے کہ وہ کیسی راہ پر ہے اس کے مطابق ہی اسے منزل ملے گی ، اسوہ حسنہ ﷺ ایسا خوبصورت نمونہ اللہ کریم کی طرف سے عطا ہے کہ آخری انسان تک کے لیے نشان منزل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دین اسلام کو خود اپنائیں اسے کسی عالم ،پیر یا مولوی کے ذمہ لگا کر خود فارغ ہو کر نہ بیٹھ جائیں ،بلکہ اسے جانیں ،عمل کریں اور قائم رہیں ،ہر ایک کو روز آخرت اپنے ایک ایک قول و فعل کا حساب دینا ہے جتنا کسی کے پاس اختیار ہے ،طاقت ہے ان سب امور کے بارے پوچھا جائے گا اس لیے ہمیں اپنے آپ کو دیکھنا ہے کہ اللہ کریم کی دی ہوئی ان نعمتوں کو کس راہ پر خرچ کر رہا ہوں۔زیادہ وقت نہیں ہے محدود وقت ہے نتیجہ سامنے ہوگا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کفرو شرک کرنا اور پھر اپنی مرضی کے مطابق اعلان کرنا ،آج ہم اپنی عبادات کو ضروریات دنیا کے لیے اختیار کرتے ہیں یہ بہت نازک مسئلہ ہے ہمیں اپنی نیت کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button