پنڈدادنخان کی روایتی سیاست اور فواد چوہدری کا انداز فکر

تحریر: زاہد حیات

0

پنڈ دادنخان وہ تحصیل ہے جو پس ماندگی کے شکنجے میں اس طرح جکڑی ہوئی تھی کہ نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔

پنڈدادنخان کے مسائل کو ماضی میں ووٹ لینے کے لیے نعرے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے ہر الیکشن میں نہر پانی سوئی گیس کو الیکشن کی کامیابی کے لیے استعمال کیا جاتا اور الیکشن کے بعد یہ نعرے نعرے ہی رہ جاتے عملاً صورت حال یہ تھی کہ یہ تھی کہ1992ء کے سیلاب میں جو سڑکیں تباہ تھیں وہ مرمت تک نا کی جا سکیں۔

تھل کا علاقہ گرمیوں میں صحرا بن جاتا جہاں پانی ملنا لینا بھی ایک جنگ کے مترداف تھا، ہوتا یہ رہا کہ تحصیل کے مسائل کے حل کی بجائے ہر شہر ہر گاؤں میں کچھ مخصوص افراد تھے جن کو نا صرف نوازا جاتا بلکہ وہ لوگوں کو تھانے کچہری کی سیاست میں الجھائے رکھتے اور پٹواری سیاست سے بھی فائدہ اٹھایا جاتا رہا جبکہ مسائل کے حل کی طرف بالکل یا نا ہونے کے برابر توجہ دی گئی اور ووٹ لینے کا ذریعہ تھانہ کچہری اور پٹواری کی سیاست کو بنا لیا گیا۔

2018ء کے جنرل الیکشن میں اس حلقے سے فواد چوہدری منتخب ہوئے تو ان کو پنڈ دادنخان کے مسائل کا بہت باریک بینی سے ادراک تھا۔ فواد چوہدری کو یہ پتہ ہے کہ پنڈ دادنخان جو ایک زرعی تحصیل ہے اور یہاں کی کھاری اور بنجر زمین کے لیے میٹھا پانی زندگی ہے۔

فواد چوہدری اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ اگر اس تحصیل میں میٹھا پانی زمین کو میسر ہو تو یہ سونے اگلیں گی اور تحصیل میں ایک معاشی انقلاب آ سکتا اور یہ تحصیل پسماندگی سے ترقی کا سفر بہت تیزی سے طے کرے گی تو فواد چوہدری نے سب سے زیادہ زور جلالپور نہر کے میگا پراجیکٹ کے لیے دینا شروع کر دیا۔

اس سلسلے میں فواد چوہدری نے پنجاب اور مرکزی حکومت کو اس منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے دباؤ ڈالا اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان تھک کام کیا اور بلا آخر وہ پنڈ دادنخان کے لیے یہ انقلابی منصوبہ بنوانے میں کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے اس منصوبے کے سب سے بڑے بینیفشری تحصیل پنڈ دادنخان کے لوگ اور تحصیل پنڈ دادنخان کا ہر فرد ہے۔

جب سیاسی مخالفین کو اس منصوبے کی تکمیل کی صورت میں اس کے مضمرات کا پتہ چلا کہ یہ منصوبہ اگر مکمل ہو گیا تو ان کی سیاسی طور پر نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا تو اس کے خلاف مختلف قسم کے اعتراضات اٹھائے جانے لگے ہیں جو کہ بے سروپا ہیں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ فواد چوہدری حلقے کے کسی مخصوص حصے کے نہیں بلکہ سارے حلقے کے نمائندے ہیں اور اور حلقے کے ہر حصے اور ہر فرد کا بھلا چاہیں گے اور حلقے کے کسی حصے کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دیں گے۔

میرے تحصیل باسیوں شکر کرو کہ تحصیل کو ایسا لیڈر ملا جو عملاً اس تحصیل کے لیے بہت کچھ کرنا چاہ رہا کر رہا وہ سب کر رہا جس کے فوائد تحصیل اور حلقے کو ہوں گے آنے والی نسلوں کو ہوں گے۔ فواد چوہدری کی ذاتِ کو ان منصوبوں سے براہ راست کوئی فائدہ نہیں ہے۔

یقین رکھیئے فواد چوہدری جلالپور نہر کے اس منصوبے کے ثمرات سے حلقے اور تحصیل کے کسی حصے کو محروم نہیں رہنے دیں گے۔شکر کرو کہ فواد چوہدری کی شکل میں وہ لیڈر آیا جو منصوبوں کو نعرے کے طور پر استعمال نہیں کر رہا عملی جامہ پہنا رہا ہمارے لیے ہمارے بچوں کے لیے جو آپ کو تھانہ کچہری کی سیاست سے بچا کر خوشحالی اور ترقی کی نئی راہوں پر لے جانا چاہتا اس کا ساتھ دیں اور کسی قسم کی افواہوں پر دھیان نہ دیں۔

فواد چوہدری کا ساتھ دیں ایک روشن مستقبل کے لئے۔ فواد چوہدری ہی ضمانت ہیں اس تحصیل کی ترقی کے لئے۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.